شاعری

جو شعاع لب ہے موج نو بہار نغمہ ہے

جو شعاع لب ہے موج نو بہار نغمہ ہے خامشی بھی آپ کی آئینہ دار نغمہ ہے گوش اک مدت سے محروم سماعت ہے مگر دل عجب ناداں ہے اب تک اعتبار نغمہ ہے فرق یہ ہے نطق کے سانچے میں ڈھل سکتا نہیں ورنہ جو آنسو ہے در شاہوار نغمہ ہے منکر ساز مسرت ہوں تو کافر ہوں مگر ہم نفس مضراب غم پر انحصار نغمہ ...

مزید پڑھیے

سوانگ اب ترک محبت کا رچایا جائے

سوانگ اب ترک محبت کا رچایا جائے اس کے پندار کو آئینہ دکھایا جائے وضع داریٔ محبت کے منافی ہے تو ہو آج کالر پہ نیا پھول سجایا جائے شعر میں تذکرۂ دشت و بیاباں ہو مگر اک بڑے شہر میں گھر اپنا بسایا جائے بالکونی وہ کئی دن سے ہے ویراں یارو اس گلی میں کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے سر یہ ...

مزید پڑھیے

شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو

شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو دل کا ہر زخم ہرا ہے اب تو اتنا بے صرفہ نہ تھا دل کا لہو باغ دامن پہ کھلا ہے اب تو بجھ ہی جائے نہ کہیں دل کا چراغ واقعی تند ہوا ہے اب تو زندگی زندگی ہوتی تھی کبھی مر نہ جانے کی سزا ہے اب تو تھا کوئی شخص کبھی محرم دل وہ مجھے بھول چکا ہے اب تو خوگر شہر ہوئے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ بے حسیٔ دل مجھے گوارا نہیں

اگرچہ بے حسیٔ دل مجھے گوارا نہیں بغیر ترک محبت بھی کوئی چارہ نہیں میں کیا بتاؤں مرے دل پہ کیا گزرتی ہے بجا کہ غم مرے چہرے سے آشکارا نہیں ہوس ہے سہل مگر اس قدر بھی سہل نہیں زیان دل تو ہے گر جان کا خسارا نہیں نہ فرش پر کوئی جگنو نہ عرش پر تارا کہیں بھی سوز تمنا کا اب شرارا ...

مزید پڑھیے

دور فلک کے شکوے گلے روزگار کے

دور فلک کے شکوے گلے روزگار کے ہیں مشغلے یہی دل ناکردہ کار کے یوں دل کو چھیڑ کر نگۂ ناز جھک گئی چھپ جائے کوئی جیسے کسی کو پکار کے سینے کو اپنے اپنا گریباں بنا کے ہم قائل نہیں ہیں پیرہن تار تار کے کیا کیجئے کشش ہے کچھ ایسی گناہ میں میں ورنہ یوں فریب میں آتا بہار کے اک دل اور اس پہ ...

مزید پڑھیے

اس نے مائل بہ کرم ہو کے بلایا ہے مجھے

اس نے مائل بہ کرم ہو کے بلایا ہے مجھے آج پھر دل نے یہ افسانہ سنایا ہے مجھے سرد مہری پہ بھی ہوتا ہے توجہ کا گماں اس طرح اس نے توقع پہ لگایا ہے مجھے یوں تو فطرت میں بھی آشفتہ مزاجی تھی مری اصل میں آپ نے دیوانہ بنایا ہے مجھے پردہ داری تھی اسے ربط نہاں کی منظور بزم میں اپنی بہت دور ...

مزید پڑھیے

شاداں نہ ہو گر مجھ پہ کڑا وقت پڑا ہے

شاداں نہ ہو گر مجھ پہ کڑا وقت پڑا ہے تو زد میں ہے جس وقت کی اس سے بھی کڑا ہے ہے دھوپ مرے سر پہ مگر تو بھی مری جاں گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں کھڑا ہے کیا شان ہے واللہ حسین ابن علی کی سر کٹ گیا قد پھر بھی حریفوں سے بڑا ہے ہم لاش سمجھ کر جسے پھینک آئے تھے وہ شخص چٹان کی مانند علم بن ...

مزید پڑھیے

فقط اک شغل بیکاری ہے اب بادہ کشی اپنی

فقط اک شغل بیکاری ہے اب بادہ کشی اپنی وہ محفل اٹھ گئی قائم تھی جس سے سر خوشی اپنی خدا یا نا خدا اب جس کو چاہو بخش دو عزت حقیقت میں تو کشتی اتفاقاً بچ گئی اپنی بس اب گزریں گے راہ زندگی سے بے نیازانہ اگر تیرے کرم پر منحصر ہے زندگی اپنی بہت جی چاہتا ہے یہ فقط نقص بصارت ہو بڑی سرعت ...

مزید پڑھیے

مصرف کے بغیر جل رہا ہوں

مصرف کے بغیر جل رہا ہوں میں سونے مکان کا دیا ہوں منزل ہے نہ کوئی جادہ پھر بھی آشوب سفر میں مبتلا ہوں محمل بھی نہیں کوئی نظر میں صحرا کی بھی خاک چھانتا ہوں منصور نہ دعویٔ انا الحق سولی پہ مگر لٹک رہا ہوں اے اہل کرم نہیں میں سائل رستے پہ یونہی کھڑا ہوا ہوں اب شکوۂ سنگ و خشت ...

مزید پڑھیے

میں ٹیچر کیوں ہوں

کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں آخر میں ٹیچر کیوں ہوں کچھ اور نہ کر سکی کیا اس لیے میں ٹیچر ہوں جواب یہی بس آتا ہے سب کچھ کر سکتی ہوں شاید اسی لیے میں ٹیچر ہوں ننھے منے بچوں میں میں اپنا بچپن دیکھتی ہوں کسی میں سر سیدؔ کسی میں کلامؔ دیکھتی ہوں کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں کہ مجھے صرف کتابوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4044 سے 5858