اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا
اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا بیچنے نکلے تو یوسف کا خریدار نہ تھا دوستو رسم محبت پہ یہ کیا بیت گئی شہر یاراں میں کوئی شخص سر دار نہ تھا اور بھی لوگ تھے توفیق وفا رکھتے تھے ایک میں ہی تو ترے غم کا سزاوار نہ تھا دل کے کہنے پہ لگا لی ہے وفا کی تہمت ورنہ جینا تو مجھے باعث آزار ...