شاعری

اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا

اب کے بازار میں یہ طرفہ تماشا دیکھا بیچنے نکلے تو یوسف کا خریدار نہ تھا دوستو رسم محبت پہ یہ کیا بیت گئی شہر یاراں میں کوئی شخص سر دار نہ تھا اور بھی لوگ تھے توفیق وفا رکھتے تھے ایک میں ہی تو ترے غم کا سزاوار نہ تھا دل کے کہنے پہ لگا لی ہے وفا کی تہمت ورنہ جینا تو مجھے باعث آزار ...

مزید پڑھیے

ہمارا ان کا تعلق جو رسم و راہ کا تھا

ہمارا ان کا تعلق جو رسم و راہ کا تھا بس اس میں سارا سلیقہ مرے نباہ کا تھا تجھے قریب سے دیکھا تو دل نے سوچا ہے کہ تیرا حسن بھی اک زاویہ نگاہ کا تھا تجھے تراش کے دل میں سجا لیا میں نے قصور اس میں مری رفعت نگاہ کا تھا چلے تھے یوں تو کئی لوگ کوئے جاناں کو ذرا سا ہم سے مگر اختلاف راہ کا ...

مزید پڑھیے

کچھ تمہاری انجمن میں ایسے دیوانے بھی تھے

کچھ تمہاری انجمن میں ایسے دیوانے بھی تھے جو بکار خویش دیوانے بھی فرزانے بھی تھے یوں تو ہر صورت پہ تھا بیگانگی کا شائبہ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو جانے پہچانے بھی تھے سب بہ توفیق مروت دوستی کرتے رہے لوگ کیا کرتے کہ خود ان کے صنم خانے بھی تھے تو نے اپنی آگہی کے ظرف سے جانچا ...

مزید پڑھیے

کج کلاہی کی ادا یاد آئی

کج کلاہی کی ادا یاد آئی کوئے قاتل کی ہوا یاد آئی دل کو شاید نہیں یاراۓ وفا ورنہ کیوں تیری جفا یاد آئی اس کی بیداد کے ہر ذکر کے ساتھ اس کی ایک ایک ادا یاد آئی دل کے خوں ہونے کی جب بات چلی اس کی خوشبوئے حنا یاد آئی شکریہ ناصح مشفق کہ پھر آج اپنی روداد وفا یاد آئی

مزید پڑھیے

ضبط‌ دل نے بھی عجب سوانگ رچا رکھا ہے

ضبط‌ دل نے بھی عجب سوانگ رچا رکھا ہے جیسے سچ مچ ہی کوئی راز چھپا رکھا ہے عشق نے واقعی اعجاز دکھا رکھا ہے دل سے وحشی کو بھی رستے سے لگا رکھا ہے دل کی ہر بات کو تنگ آ کے تغافل سے ترے اتفاقات زمانہ پہ اٹھا رکھا ہے آنکھ وہ خود کوئی ہشیار نہیں ہے یارو لیکن اس نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ تو مہربان ہے پیارے

مجھ پہ تو مہربان ہے پیارے یہ بھی اک امتحان ہے پیارے یہ ترا آستان جلوہ ہے میرے دل کی بھی شان ہے پیارے کون کہتا ہے بے وفا تجھ کو کس کے منہ میں زبان ہے پیارے عاشقی اور شکوۂ بیداد یہ تجھے کیا گمان ہے پیارے تیرے کوچے کا واہ کیا کہنا یہ زمیں آسمان ہے پیارے ہے فسانہ اگر جہاں تو ...

مزید پڑھیے

صبح کاذب

یہ جو اک نور کی ہلکی سی کرن پھوٹی ہے کون کہتا ہے اسے صبح درخشاں اے دوست مجھ کو احساس ہے باقی ہے شب تار بھی لیکن اے دوست مجھے رقص تو کر لینے دے کم سے کم نور نے الٹا تو ہے اک بار نقاب ایک لمحے کو تو ٹوٹا ہے طلسم شب تار اس سے ثابت تو ہوا صبح بھی ہو سکتی ہے پردۂ ظلمت شب چاک بھی ہو سکتا ...

مزید پڑھیے

نظم

تم نے دیکھا تھا اس کے چہرے کو تھے کہیں کرب کے کوئی آثار تم اسے موت کہہ رہے تھے مگر خواب راحت میں وہ تو سوتا تھا اور پسماندگان کے سینے میں جس جہنم کی آگ جلتی تھی جز خدا کون جان سکتا ہے سخت حیرت ہے لوگ اس پر بھی ماتم مرگ کر رہے ہیں مگر ماتم زندگی نہیں کرتے

مزید پڑھیے

نظم

دیر ویراں ہے حرم ہے بے خروش برہمن چپ ہے مؤذن ہے خموش سوز ہے اشلوک میں باقی نہ ساز اب وہ خطبے میں نہ حدت ہے نہ جوش ہو گئی بے سود تلقین ثواب اب دلائیں بھی تو کیا خوف عذاب اب حریف شیخ کوئی بھی نہیں ختم ہے ہر ایک موضوع خطاب آج مدھم سی ہے آواز درود آج جلتا ہی نہیں مندر میں عود کیا قیامت ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

وہ اک آوارہ و مجنوں وہ اک شاعر جسے اپنی شرافت کے تحفظ میں کیا تھا قتل اک مدت ہوئی میں نے وہی آوارہ و مجنوں وہی شاعر عدم کے گوشۂ تاریک سے باہر نکل کر قہقہے مجھ پر لگاتا ہے وہ کہتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سعیٔ خودکشی ناکام رہتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4042 سے 5858