شاعری

دل کہاں ہوتا ہے ہر ایک اجڑنے والا

دل کہاں ہوتا ہے ہر ایک اجڑنے والا وہ بگڑتا ہے فقط جو ہو بگڑنے والا چھوٹ دے رکھی تھی میں نے اسے جو چاہے کہے مجھ کو پیارا تھا بہت مجھ سے جھگڑنے والا نوحے سنتی ہوں میں شعرا کے تو سر دھنتی ہوں کاش ہوتا کوئی میرا بھی بچھڑنے والا آندھیاں ہار کے جاتی ہیں کسی دم افشاںؔ خیمہ ہر ایک نہیں ...

مزید پڑھیے

زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے

زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے خلا رہے گا قدم ہم جہاں نہ رکھیں گے جواب دینا پڑے گا ہمیں خموشی کا سو طے کیا ہے کہ منہ میں زباں نہ رکھیں گے کہیں اضافہ کہیں حذف تو کہیں ترمیم کہیں کی اب وہ مری داستاں نہ رکھیں گے تلے ہیں ہاتھ جو ورثے پہ صاف کرنے پر کسی بھی دور کا باقی نشاں نہ ...

مزید پڑھیے

ماضی! تجھ سے ''حال'' مرا شرمندہ ہے

ماضی! تجھ سے ''حال'' مرا شرمندہ ہے مجھ سے اچھا آج مرا کارندہ ہے کیسا انساں ترس رہا ہے جینے کو کیسے ساحل پر اک مچھلی زندہ ہے اس کے پیچھے اس سے بڑھ کر اک انسان آگے آگے اک خوں خوار درندہ ہے جیسے کوئی کاٹ رہا ہے جال مرا جیسے اڑنے والا کوئی پرندہ ہے نوع بشر کا وحشی پن جب یاد کرو یہ مت ...

مزید پڑھیے

شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے

شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے میرے آگے پیچھے دائیں بائیں ویرانی رہے ساری سمتیں آ کے جس مرکز پہ ہو جاتی ہیں ایک خم اسی جانب ہمیشہ میری پیشانی رہے آگے آگے میں ترا پرچم لیے چلتا رہوں ارض دل پر میرے قائم تیری سلطانی رہے روشنی کو ہو مری ایسا کوئی ماخذ عطا ذرۂ ناچیز میں دن رات ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

بظاہر اجنبی ہو تم مگر بوسوں کی بے کیفی بتاتی ہے کہ یہ وہ زہر ہے چکھا ہے جس کو بارہا میں نے نہ جانے جذب ہے میرے لبوں میں کتنے رخساروں کی کڑواہٹ یہ سب خمیازہ ہے اس بوسۂ اول کا دل بھولا نہیں جس کی حلاوت کو میں اس کو بارہا سمجھا چکا ہوں ماضیٔ مرحوم کا ماتم تو کر سکتے ہیں، واپس لا نہیں ...

مزید پڑھیے

مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا

مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا میرے گرد بن دیا الجھنوں کا جال سا اس نئی صدی کا یہ کارنامہ خوب ہے سکھ کا ایک لمحہ ہے دکھ کے ایک سال سا پیٹھ پر لدا ہوا مسئلوں کا بوجھ ہے بن گیا ہے آدمی آج کل حمال سا دوستی کے وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا دل ہمارے سینے میں تھا کبھی جو ڈھال سا فکر و فن کی ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا

کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا لوگ سورج کو ہتھیلی پہ اگائیں بابا دودھ بچوں کو بھلا کیسے پلائیں بابا ایک مدت ہوئی فاقے سے ہیں مائیں بابا لوگ اب اس کو بھی اوتار سمجھ لیتے ہیں چھین لیتا ہے جو بہنوں کی ردائیں بابا جسم تو جسم ہیں جذبات جھلس جاتے ہیں گرم ہوتی ہیں بہت شہری ہوائیں ...

مزید پڑھیے

دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے

دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے موم کی طرح سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے کیسے کہہ دوں کہ یہ سورج ہے اجالوں کا امیں شام ہوتے ہی اندھیروں میں جو ڈھل جاتا ہے چند قطروں کی مرے دوست حقیقت کیا ہے ظرف والا تو سمندر بھی نگل جاتا ہے کیا ضروری ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے جس کو جلنا ہے وہ پھولوں ...

مزید پڑھیے

محبت کا وعدہ نبھایا ہے میں نے

محبت کا وعدہ نبھایا ہے میں نے زمانے کو نیچا دکھایا ہے میں نے کہیں وقت اس کو نہ مسمار کر دے محل آرزو کا بنایا ہے میں نے وہ مجھ سے بھی آگے بڑھا جا رہا ہے جسے پاؤں چلنا سکھایا ہے میں نے زمانہ پہ چھایا ہوا تھا اندھیرا اندھیرے میں دیپک جلایا ہے میں نے مصیبت میں تم کیا مرا ساتھ دو ...

مزید پڑھیے

ملے بھی دوست تو اس طرز بے دلی سے ملے

ملے بھی دوست تو اس طرز بے دلی سے ملے کہ جیسے اجنبی کوئی اک اجنبی سے ملے قدم قدم پہ خلوص وفا کا ذکر کیا عدو ملے بھی تو کس حسن‌ سادگی سے ملے ستم کرو بھی تو انداز منصفی سے کرو کوئی سلیقہ تو عنوان دوستی سے ملے تری تلاش میں نکلے تھے تیرے دیوانے ہر ایک موڑ پہ خود اپنی زندگی سے ملے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4041 سے 5858