شاعری

وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو

وہی ساحل وہی منجدھار مجھ کو بنایا اس نے کھیون ہار مجھ کو زباں کی دھار سے دیکھا ملا کر لگی کچھ تیز کم تلوار مجھ کو بٹھا رکھا مجھے سائے میں جس نے گرانی تھی وہی دیوار مجھ کو جنہیں ہے ناز اپنے فاصلوں پر پکڑنے دیں ذرا رفتار مجھ کو کبھی ہوتی نہ پھر لڑنے کی ہمت ملی اب تک نہ ایسی ہار ...

مزید پڑھیے

تو سرحد خیال سے آگے گزر گیا

تو سرحد خیال سے آگے گزر گیا میں تیری جستجو میں بحد نظر گیا دل کو کریدنے سے مری جان فائدہ اک زخم تھا کہ وقت کی آندھی سے بھر گیا ساحل تمام عمر یوں ہی تشنہ لب رہا سیلاب کتنی بار یہاں سے گزر گیا عمر گریز پا کو کہاں ڈھونڈنے چلیں وہ نقش لوح وقت سے کب کا اتر گیا

مزید پڑھیے

تو انگ انگ میں خوشبو سی بن گیا ہوگا

تو انگ انگ میں خوشبو سی بن گیا ہوگا میں سوچتا ہوں کہ تجھ سے گریز کیا ہوگا تمام رات مرے دل سے آنچ آتی رہی کہیں قریب کوئی شہر جل رہا ہوگا تو میرے ساتھ بھی رہ کر مرے قریب نہ تھا اب اس سے اور فزوں فاصلہ بھی کیا ہوگا مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں کبھی تو تو بھی مری طرح سوچتا ...

مزید پڑھیے

موج صرصر کی طرح دل سے گزر جاؤ گے

موج صرصر کی طرح دل سے گزر جاؤ گے کس کو معلوم تھا تم دل میں اتر جاؤ گے چار سو وقت کی گردش کی فصیل شب ہے بچ کے اس گردش دوراں سے کدھر جاؤ گے آئینہ خانے سے دامن کو بچا کر گزرو آئینہ ٹوٹا تو ریزوں میں بکھر جاؤ گے اک ذرا اور قریب رگ جاں آؤ تو میرے خوں ناب میں تم ڈھل کے سنور جاؤ گے دیکھو ...

مزید پڑھیے

کتنے دریا اس نگر سے بہہ گئے

کتنے دریا اس نگر سے بہہ گئے دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے ایک تو ہے بات بھی سنتا نہیں ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے تجھ سے جگ بیتی کی سب باتیں کہیں کچھ سخن نا گفتنی بھی رہ گئے تیری میری چاہتوں کے نام پر لوگ کہنے کو بہت ...

مزید پڑھیے

غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں

غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں ہماری آنکھ میں ایسے اشارے تو نہیں ہیں ہمارے ہو تو پھر آؤ ہمارا ساتھ بھی دو مسائل زندگی کے سب ہمارے تو نہیں ہیں اداسی کو اداسی کیوں نہیں تسلیم کرتے مری پلکوں پہ آنسو ہیں ستارے تو نہیں ہیں میں باہر خواب سے آ بھی گئی تو کیا کروں گی مری دنیا ...

مزید پڑھیے

رنج میں راحت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو

رنج میں راحت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو جاناں حسرت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو اب تک مجھ پتھر کو تراشا کب ہے تم نے کوئی مورت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو غصے میں بھی ہم کو چپ رہنا پڑتا ہے جان مروت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو دھیان رہے کہ ہم کو تمہاری عادت بھی ہے لیکن عادت کیا ہوتی ہے تم کیا ...

مزید پڑھیے

وقت کی راگنی گیت گاتی رہی

وقت کی راگنی گیت گاتی رہی اور میں گیت کی دھن بناتی رہی برق تھی گر گئی شخص تھا جل گیا دیر تک راکھ سے آنچ آتی رہی ہجر کی رات تھی جاگنا شرط تھا چاندنی نیند کے پر بناتی رہی آپ ہی آپ وہ گنگناتا رہا آپ ہی آپ میں مسکراتی رہی جل گئی میں مگر دل جگر کب جلے آنچ کی اک کمی سر اٹھاتی رہی کام ...

مزید پڑھیے

اس کی ہوں یا اپنی ہوں

اس کی ہوں یا اپنی ہوں کوئی بتائے کس کی ہوں اپنے گھر میں رہ کر بھی اس کے گھر میں رہتی ہوں یا پھر وہ ہی سچا ہے یا پھر میں ہی جھوٹی ہوں تنہائی سو جاتی ہے اور میں جاگتی رہتی ہوں پتھر باتیں کرتے ہیں میں بھی باتیں کرتی ہوں وہ تو سیدھا سادہ ہے پر میں خود سے ڈرتی ہوں

مزید پڑھیے

محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے

محبتوں میں اداس ہو کر رہا نہ جائے اداس موسم کا تذکرہ بھی کیا نہ جائے ملو تو ایسے کہ آئنہ آئنے سے جیسے دلوں میں رنجش یا بغض رکھ کر ملا نہ جائے میں چاہتی ہوں بغیر میرے نہ رہ سکے تو میں چاہتی بغیر تیرے رہا نہ جائے خیال رکھیے سفر میں اپنے بھی ہم سفر کا قدم سے آگے قدم بڑھا کر چلا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4040 سے 5858