شاعری

ایک کافر ادا نے لوٹ لیا

ایک کافر ادا نے لوٹ لیا ان کی شرم و حیا نے لوٹ لیا اک بت بے وفا نے لوٹ لیا مجھ کو تیرے خدا نے لوٹ لیا آشنائی بتوں سے کر بیٹھے آشنائے‌‌ جفا نے لوٹ لیا ہم یہ سمجھے کہ مرہم غم ہے درد بن کر دوا نے لوٹ لیا ان کے مست خرام نے مارا ان کی طرز ادا نے لوٹ لیا حسن یکتا کی رہزنی توبہ اک فریب ...

مزید پڑھیے

بٹھا کے دل میں گرایا گیا نظر سے مجھے

بٹھا کے دل میں گرایا گیا نظر سے مجھے دکھایا طرفہ تماشہ بلا کے گھر سے مجھے نظر جھکا کے اٹھائی تھی جیسے پہلی بار پھر ایک بار تو دیکھو اسی نظر سے مجھے ہمیشہ بچ کے چلا ہوں میں عام راہوں سے ہٹا سکا نہ کوئی میری رہ گزر سے مجھے حیات جس کی امانت ہے سونپ دوں اس کو اتارنا ہے یہ قرضہ بھی ...

مزید پڑھیے

یا ملا قوم کو خود اپنا نگہباں ہو کر

یا ملا قوم کو خود اپنا نگہباں ہو کر سو طرح دیکھ لیا ہم نے پریشاں ہو کر کافر عشق ہی اچھے تھے صنم خانوں میں شان ایماں نہ ملی صاحب ایماں ہو کر نقص‌ تنظیم سے ہو ترک چمن کیا معنی ہم کو رہنا ہے یہیں تار رگ جاں ہو کر کیا ہوا گر کوئی ہندو کہ مسلماں ٹھہرا آدمیت کا نہیں پاس جو انساں ہو ...

مزید پڑھیے

اب تو صحرا میں رہیں گے چل کے دیوانوں کے ساتھ

اب تو صحرا میں رہیں گے چل کے دیوانوں کے ساتھ دہر میں مشکل ہوا جینا جو فرزانوں کے ساتھ ختم ہو جائیں گے قصے کل یہ دیوانوں کے ساتھ پھر انہیں دہراؤ گے تم کتنے عنوانوں کے ساتھ بزم میں ہم کو بلا کر آپ اٹھ کر چل دئے کیا سلوک ناروا جائز ہے مہمانوں کے ساتھ نفرتیں پھیلا رہے ہیں کیسی شیخ و ...

مزید پڑھیے

پہلے تو دام زلف میں الجھا لیا مجھے

پہلے تو دام زلف میں الجھا لیا مجھے بھولے سے پھر کبھی نہ دلاسا دیا مجھے کیا دردناک منظر کشتی تھا رود میں میں نا خدا کو دیکھ رہا تھا خدا مجھے بیٹھا ہوا ہے رشک مسیحا مرے قریب کس بے بسی سے دیکھ رہی ہے قضا مجھے ان کا بیان میری زباں پر جو آ گیا لہجے نے ان کے کر دیا کیا خوش نوا مجھے جن ...

مزید پڑھیے

مقصد حسن ہے کیا چشم بصیرت کے سوا

مقصد حسن ہے کیا چشم بصیرت کے سوا وجہ تخلیق بشر کیا ہے محبت کے سوا خون دل تھوکتے پھرتے ہیں جہاں میں شاعر کیا ملا شہر سخن میں انہیں شہرت کے سوا آج بھی علم و فن و شعر و ادب ہیں پامال با کمالوں کو ملا کچھ نہ اہانت کے سوا ہاتھ میں جن کے خوشامد کا ہے گدلا کشکول ان کو اعزاز بھی مل جائیں ...

مزید پڑھیے

دل ہی دل میں درد کے ایسے اشارے ہو گئے

دل ہی دل میں درد کے ایسے اشارے ہو گئے غم زمانے کے شریک غم ہمارے ہو گئے جو ابھی محفوظ ہیں تنقید ہے ان کا شعار حال ان کا پوچھئے جو بے سہارے ہو گئے بن کھلے مرجھا گئیں کلیاں چمن میں کس قدر زرد رو کس درجہ ہائے ماہ پارے ہو گئے امن کی طاقت کو کچلا سچ کو رسوا کر دیا دشمنوں کے چار دن میں ...

مزید پڑھیے

دلی

دلی کہ اس جہاں میں عظیم و قدیم ہے علم و فن و ہنر کی سدا سے نعیم ہے اللہ اس کی عظمت دیں کا علیم ہے تفسیر دل حدیث خودی کا فہیم ہے گیتا پران کے بھی فسانے میں ذکر ہے تاریخ سے بھی قبل زمانے میں ذکر ہے دلی کا پانڈوؤں کے ترانے میں ذکر ہے اندر پرستھ تک کے سجانے میں ذکر ہے دلی سدا سے مرکز ...

مزید پڑھیے

ارے خدا کے بندے خود کو رب کی سمت موڑ تو

ارے خدا کے بندے خود کو رب کی سمت موڑ تو وجود بخشا جس نے تجھ کو رشتہ اس سے جوڑ تو بڑی ہی سہل و آساں زندگی ہو جائے گی تری تو اتباع خواہشات زندگی کو چھوڑ تو جو لمبے لمبے خواب دیکھ رکھے ہیں بھرم ہے محض ہے عقل مند تو اگر تو اس بھرم کو توڑ تو ہے مدتوں سے تیرے انتظار میں بھی اک ...

مزید پڑھیے

ہے ناراض وہ تو ملاقات تو کر

ہے ناراض وہ تو ملاقات تو کر جوابات دے کچھ سوالات تو کر خطا‌ وار ہیں ہم سزاوار بھی ہیں تو بس در گزر کر مسافات تو کر ہے پر لغزشوں سے کہانی ہماری تو ستار ہے کچھ کرامات تو کر یوں تو زندگی گزری گمراہی میں پر گماں نیک رکھ تو شروعات تو کر ہے امید پر دنیا قائم اے گلزارؔ منا لے اسے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4030 سے 5858