شاعری

فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا

فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا خدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا قبائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑا بن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا نہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کا تری تلوار کا منہ کچھ نہ کچھ اے تیغ زن بگڑا تکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر ...

مزید پڑھیے

عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے

عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے پیوند نہیں چاک گریباں کو رفو سے دامن مرے قاتل کا نہ رنگیں ہو لہو سے ہرچند کہ نزدیک ہو رگ ہائے گلو سے گلزار جہاں پر نہ پڑی آنکھ ہماری کوتاہ تھی عمر اپنی حباب لب جو سے کرتا ہے وہ سفاک خط شوق کے پرزے مہندی ملی جاتی ہے کبوتر کے لہو سے عاشق ہوں ...

مزید پڑھیے

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئے

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئے عالم ارواح سے صحبت کوئی دم کیجئے حالت غم کو نہ بھولا چاہئے شادی میں بھی خندۂ گل دیکھ کر یاد اشک شبنم کیجئے عیب الفت روز اول سے مری طینت میں ہے داغ لالہ کے لیے کیا فکر مرہم کیجئے اپنی راحت کے لیے کس کو گوارا ہے یہ رنج گھر بنا کر گردن محراب کو ...

مزید پڑھیے

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا چہرۂ شاہد مقصود عیاں ہے کہ جو تھا عشق گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھا پرتو مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا عالم حسن خدا داد بتاں ہے کہ جو تھا ناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے ...

مزید پڑھیے

یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیں

یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیں یہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیں ویران کس قدر ہے گزر‌ گاہ آرزو اس رہ گزر میں کوئی بھی نقش قدم نہیں قائم رہی جنوں میں بھی اک وضع احتیاط دل خون ہو گیا ہے مگر آنکھ نم نہیں دل ہے جمال یار کی لذت سے فیضیاب اس آئنہ میں کوئی بھی تصویر غم ...

مزید پڑھیے

ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے

ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہے تجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہے ہے شعلۂ جاں میں یاد تیری کیا آگ میں پھول کھل رہا ہے خورشید سحر طلوع ہو کر شبنم کا مزاج پوچھتا ہے کیا اس کو بتاؤں ہجر کے غم جس پر مرا حال آئنہ ہے میں کس سے کہوں فسانۂ غم ہر ایک کا دل دکھا ہوا ہے کیوں آ گئی درمیان دنیا یہ تیرا ...

مزید پڑھیے

شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہی

شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہی لطف دیوانگی و ذوق تماشا ہی سہی دل نہیں لذت دیدار سے سرشار اگر وحشت جاں ہی سہی حسرت جلوہ ہی سہی یہ بھی کیا کم ہے کہ امید کرم میں گزرے رسم‌ و آئین وفا دہر میں عنقا ہی سہی کچھ تو ہے جس سے ہے قندیل غزل تابندہ فکر امروز و پریشانیٔ فردا ہی سہی ہجر میں ...

مزید پڑھیے

وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یاد

وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یاد کچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یاد انوار کی بارش تھی سر منزل طیبہ ہر منزل خوش دیکھ کے آتا تھا خدا یاد اب تک ہیں نگاہوں میں در و بام حرم کے اب تک ہے مجھے وادئ‌ رحمت کی فضا یاد ہے سیرت اطہر مرا سرمایۂ ہستی محبوب دو عالم کی ہے ایک ایک ادا یاد ڈوبے ...

مزید پڑھیے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے Juxtaposed with a rose, I'd wished your face to be About our loves, would then converse the nightingale and me پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے That no messenger was found, is cause for to rejoice How could I express my love in someone else's voice مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا

محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا برابر گردن شاہ و گدا دونوں کو خم پایا برنگ شمع جس نے دل جلایا تیری دوری میں تو اس نے منزل مقصود کو زیر قدم پایا بجا کرتے ہیں عاشق طاق ابرو کی پرستاری یہی محراب دیر و کعبہ میں بھی ہم نے خم پایا نشانہ تیر تہمت کا ہے میرا اختر طالع اٹھاؤں داغ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3996 سے 5858