یوں لگے تیرے تذکرہ سے اگر
یوں لگے تیرے تذکرہ سے اگر نام میرا ہٹا دیا جائے جیسے اک پھول کی کہانی سے ذکر خوشبو اڑا دیا جائے
یوں لگے تیرے تذکرہ سے اگر نام میرا ہٹا دیا جائے جیسے اک پھول کی کہانی سے ذکر خوشبو اڑا دیا جائے
دیر سے ایک ناسمجھ بچہ اک کھلونے کے ٹوٹ جانے پر اس طرح سے اداس بیٹھا ہے جیسے میت قریب رکھی ہو اور مرنے کے بعد ہر ہر بات مرنے والے کی یاد آتی ہو جانے کیا کیا ذرا توقف سے سوچ لیتا ہے اور روتا ہے لیکن اتنی خبر کہاں اس کو زندگی کے عجیب ہاتھوں میں یہ بھی مٹی کا اک کھلونا ہے
دیوالی کی رات آئی ہے تم دیپ جلائے بیٹھی ہو معصوم امنگوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہو تصویر کو میری پھولوں کی خوشبو میں بسائے بیٹھی ہو آنکھوں کے نشیلے ڈوروں پر کاجل کو بٹھائے بیٹھی ہو میں دور کہیں تم سے بیٹھا اک دیپ کی جانب تکتا ہوں اک بزم سجائے رکھی ہے اک درد جگائے رکھتا ...
کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھے آج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیں میں اس دھرتی کا ادنیٰ سا باسی ہوں سچ پوچھو تو مجھ سا پریشاں کوئی نہیں کیسے کیسے خواب بنے تھے آنکھوں نے آج بھی ان خوابوں سا ارزاں کوئی نہیں کل بھی میرے زخم بھنائے جاتے تھے آج بھی میرے ہاتھ میں داماں کوئی نہیں کل ...
وقت کے تیز گام دریا میں تو کسی موج کی طرح ابھری آنکھوں آنکھوں میں ہو گئی اوجھل اور میں ایک بلبلے کی طرح اسی دریا کے اک کنارے پر نرکلوں کے مہیب جھاوے میں ایسا الجھا کہ یہ بھی بھول گیا بلبلے کی بساط ہی کیا تھی
تجھ سے بچھڑا تو سوچتا ہوں میں خود کو کب تک سنبھال پاؤں گا جتنی باتیں ہیں اتنی یادیں ہیں کیسے کیسے انہیں بھلاؤں گا
میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا اجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سے بے وفائی کی طرح پھیلی ہوئی راہوں سے نئی تہذیب کے آباد بیابانوں سے دست مزدور پہ ہنستے ہوئے ایوانوں سے میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا گاؤں کی دوپہری دھوپ کے سناٹوں سے خشک نہروں کے کناروں پہ تھکی چھاؤں سے اپنے دل ...
شہر میرا اداس گنگا سا کوئی بھی آئے اور اپنے پاپ کھو کے جاتا ہے دھوکے جاتا ہے آگ کا کھیل کھیلنے والے یہ نہیں جانتے کہ پانی کا آگ سے بیر ہے ہمیشہ کا آگ کتنی ہی خوفناک سہی اس کی لپٹوں کی عمر تھوڑی ہے اور گنگا کے صاف پانی کو آج بہنا ہے کل بھی بہنا ہے جانے کس کس کا درد سہنا ہے شہر میرا ...
میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے رات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کا اوس کی بوندوں میں سورج کے سما جانے کا چاند سی مٹی کے ذروں سے صدا آنے کا شہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کا کھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کا صبح گھر چھوڑنے کا دیر سے گھر آنے کا بہتے جھرنوں کی کھنکتی ہوئی ...
میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہو اپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئی اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئی اپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئی اپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لئے اپنی خاموشی میں گہنائے ہوئے راز لئے اپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لئے دل کی دھڑکن کو بہت روکتی ...