دوسروں کو مٹانے کی دھن میں
دوسروں کو مٹانے کی دھن میں آدمی خود کو یوں مٹاتا ہے جیسے چبھنے کی فکر میں کانٹا شاخ سے خود ہی ٹوٹ جاتا ہے
دوسروں کو مٹانے کی دھن میں آدمی خود کو یوں مٹاتا ہے جیسے چبھنے کی فکر میں کانٹا شاخ سے خود ہی ٹوٹ جاتا ہے
میری تنہائیاں بھی شاعر ہیں نذر اشعار و جام رہتی ہیں اپنی یادوں کا سلسلہ روکو میری نیندیں حرام رہتی ہیں
در بدر سر جھکائے پھرتا ہے عارضی اقتدار کی خاطر کتنا مجبور ہو کے جیتا ہے آدمی اختیار کی خاطر
اکثر اس طرح آس کا دامن دل کے ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے جیسے ہونٹوں تک آتے آتے جام دفعتاً گر کے ٹوٹ جاتا ہے
حاصل اجتناب سوچا ہے روٹھ جائیں گے خواب سوچا ہے ساری دنیا کرے گی ایک سوال تم نے کوئی جواب سوچا ہے
جو نہیں کیا اب تک بے حساب کرنا ہے اپنے ہر رویے سے اجتناب کرنا ہے اب تو کام آئے گی بے گمان سفاکی خوش گوار پھولوں کو آفتاب کرنا ہے رنگ اپنی چھتری کا دھوپ نے مٹا ڈالا صبح ہونے سے پہلے پھر خضاب کرنا ہے سرفروش لہروں کی سرفروشیاں کب تک سرفروش لہروں کو زیر آب کرنا ہے راستے ذہانت کے ...
پھول خود اپنے حسن میں گم ہے اس کو کب چاہنے کی فرصت ہے آؤ کانٹوں سے دوستی کر لیں جن کو ہمدرد کی ضرورت ہے
ختم کب ہو یہ کچھ نہیں معلوم ہر نفس پر ہے موت کا خطرہ زندگی اس طرح ہے دنیا میں جیسے کانٹے پہ اوس کا قطرہ
اب بھی اک لب میں اور تبسم میں حد فاصل ہے ایک دوری ہے کتنی صدیاں گزر چکیں لیکن زندگی آج بھی ادھوری ہے
موت کے بعد بھی تو چلتا ہے زندگی تیرے جبر کا ناٹک پھول ہنستے ہوئے ہی جاتے ہیں شاخ سے باغباں کی جھولی تک