شاعری

برائے زیب میں زیور تمہیں منگا دوں کیا

برائے زیب میں زیور تمہیں منگا دوں کیا یہ بول کے میں تیرے حسن کو گھٹا دوں کیا تھکا ہوا ہوں میں سونے دیا کرو مجھ کو یہ کہہ کے میں تیری نیندوں کو ہی اڑا دوں کیا ندی میں پھینکے ہوئے پھول بہہ رہے ہیں کچھ انہیں کے ساتھ خطوں کو تیرے بہا دوں کیا یہ جسم سنگ کا اب رہ گیا ہے تیرے بعد اسے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو کوئی غم و خوشی ہی نہیں

مجھ کو کوئی غم و خوشی ہی نہیں کیا مری کوئی زندگی ہی نہیں جب دعائیں قبول ہونے لگیں تب سے یہ لطف بندگی ہی نہیں شوق سے دیکھنے گئے تھے طور اور خدا پہ نظر ٹکی ہی نہیں ہاتھ ان کا ہو ہاتھ میں لکھا ایسی قسمت میری لکھی ہی نہیں موت برحق سمجھ لیا جس نے غم اسے کوئی دائمی ہی نہیں سب برابر ...

مزید پڑھیے

گزشتہ دن کی اک تصویر میں نے گھر پہ رکھی تھی

گزشتہ دن کی اک تصویر میں نے گھر پہ رکھی تھی وہ بس اس بات کو لے کے ہی دھرتی سر پہ رکھی تھی مرو یا مار دو گر بچ گئے تو پھر رہو تیار عجب شرط حکومت تھی کہ جو لشکر پہ رکھی تھی ترے در سے اٹھی تو پھر کہیں بھی یہ نہ ٹک پائیں نگہ کچھ اس قدر تیرے تن مرمر پہ رکھی تھی سبھی دانا توانا دست بستہ ...

مزید پڑھیے

سوتا ہوں

بہت دیر ہو گئی یوں جاگتے جاگتے ایسا لگتا ہے جیسے بوڑھا ہو گیا ہوں یا ہم وہ ہیں جنہیں بوڑھا ہی جنا گیا ہاتھ پاؤں بھی جواب دے رہیں ہیں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا آنکھیں جیسے دھوندھیا گئیں ہوں شاید آنسو ہیں پلکوں کی دہلیز بھی پار نہیں کر پا رہیں اب تو جانے دو کچھ دیر کے لئے سو ...

مزید پڑھیے

تمنائیں اذیت کا نظارہ ہم نہ کہتے تھے

تمنائیں اذیت کا نظارہ ہم نہ کہتے تھے خسارا ہے خسارا ہی خسارا ہم نہ کہتے تھے تمہاری انتہائیں انت پر بے سود نکلی ہیں سمندر جتنا گہرا اتنا کھارا ہم نہ کہتے تھے نہ تو بندوں سے ہے راضی نہ بندے تجھ سے راضی ہیں خدائی روگ ہے پروردگارا ہم نہ کہتے تھے یہ میدان تگ و دو ہے مشقت ہی مشقت ...

مزید پڑھیے

معنویت

سبھی بناوٹ دماغ کی ہے کشش توازن وجود لہریں ذہن کی محفل میں آرزوؤں کا اک سماں ہے یہی جہاں ہے شعور کی سطح پر امڈتا ہوا گماں ہے جو ہم نے سوچا جو ہم نے دیکھا ہے اپنے سر پر وہ آسماں ہے جو چار جانب سے انکھ میں عکس ڈالتا ہے وہی جہاں ہے کشش توازن وجود لہریں یہ کائناتوں کی اینٹیں ہیں ذہن سے ...

مزید پڑھیے

دماغ لے لو

دماغ لے لو دماغ لے لو بڑی ہی محنت سے پرورش کی ہے سالہا سال لگ چکے ہیں دماغ کو علم و فن دیا اور ذہن کو پاکیزگی عطا کی سمجھنا اور سوچنا سکھایا شعور بخشا دماغ کو آگہی عطا کی حساب جانے کتاب جانے پڑھا لکھا ہے دماغ کے پاس تجربہ ہے دماغ لے لو سنو سنو آپ کے یہ الجھے ہوئے مسائل کو حل کرے ...

مزید پڑھیے

ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے رو دیتے ہیں (ردیف .. ے)

ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے رو دیتے ہیں گل سے تتلی کو اڑاتے ہوئے رو دیتے ہیں اس نے ہنستے ہوئے توڑا تھا ہمارا رشتہ ہم سبھی کو یہ بتاتے ہوئے رو دیتے ہیں میں ہوں ویران جزیرہ جہاں اہل کشتی اپنی راتوں کو بتاتے ہوئے رو دیتے ہیں رات بھر جلنے کے بھی بعد ہم افسردہ مزاج صبح دم شمع بجھاتے ...

مزید پڑھیے

جب وہ ملنے کمرے تک کو آتا ہے

جب وہ ملنے کمرے تک کو آتا ہے گھر میرا پھر جنت سا ہو جاتا ہے نیند کہاں رہ جاتی ہے پھر آنکھوں میں چاند کسی ٹہنی پہ جب ٹک جاتا ہے جس موسم میں بھیگنا ہے ہم دونوں کو اس موسم میں پوچھ رہی ہو چھاتا ہے چھوڑ چلو اس بستی کو اس بستی میں کون کہاں کس کا کس سے اب ناطہ ہے چودھویں کو چھت پہ ...

مزید پڑھیے

کبھی چراغ سحر کو بھی ہم بجھاتے نہیں

کبھی چراغ سحر کو بھی ہم بجھاتے نہیں کہ جس سے کام لیا ہو اسے بھلاتے نہیں یہ بات ہم کو سمجھنے میں دیر ہو گئی تھی کہ صرف بات پہ ہی رشتوں کو نبھاتے نہیں شروع سے ہی تکلف ہے ان سے رشتہ میں سلام کرتے ہیں پر ہاتھ تو ملاتے نہیں بس اتنی بات پہ روٹھا ہوا ہے یار مرا میں روٹھتا بھی ہوں تو تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 198 سے 5858