دل پھر اوس کوچے میں جانے والا ہے
دل پھر اس کوچے میں جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر کھانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو وہ مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے جیسے بادل شعر سنانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتے گی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس میں ملانے والا ...