آج ہی محفل سرد پڑی ہے آج ہی درد فراواں ہے
آج ہی محفل سرد پڑی ہے آج ہی درد فراواں ہے کوئی تو دل کی باتیں چھیڑو یارو محفل یاراں ہے میرے ہر آدرش کا عالم اب تو عالم ویراں ہے دل میں تیری تمنا جیسے موج ریگ بیاباں ہے پاؤں تھکن سے چور ہیں لیکن دل میں شعلۂ امکاں ہے میرے لیے اک کرب مسلسل تیرا جمال گریزاں ہے مجھ سے ملنے کے خواہاں ...