شاعری

وفا کا امتحاں ہے جان و تن کی آزمائش ہے

وفا کا امتحاں ہے جان و تن کی آزمائش ہے خدا رکھے خودی کے بانکپن کی آزمائش ہے بہ طرز نو سجائی جا رہی ہے بزم پرویزی بہ انداز دگر پھر کوہ کن کی آزمائش ہے لب جو ساقیا یوں ہی مسلسل دور پیمانہ کہ زور گردش چرخ کہن کی آزمائش ہے خزاں کا ذکر کیا وہ دور تھا نا ساز گاری کا بہار آئی ہے اب اہل ...

مزید پڑھیے

ننگ احساس ہے اندوہ غریب الوطنی

ننگ احساس ہے اندوہ غریب الوطنی کم نہیں گرد رہ شوق کی سایہ فگنی آدمی ہوتا ہے خود اپنے ہی تیشے کا شکار کوئی آسان نہیں مشغلۂ کوہ کنی پرتو رخ سے ترے کس کو نہیں حیرانی اشک آئینہ ہوئی ہے تری سیمیں بدنی سنبلستاں ہیں ترے گیسوئے پر خم کے اسیر حسن قامت ہے ترا نازش سرو چمنی اپنے جامے ...

مزید پڑھیے

معراج ارتقا ہے تماشا نہ جانیے

معراج ارتقا ہے تماشا نہ جانیے تہذیب عصر نو کو برہنہ نہ جانیے ابھرا بہت پہ لوح سماعت سے دور دور حرف صدا کو اب کے کہیں کا نہ جانیے ہونے کو اس سفر میں بہت رائیگاں ہوئے لیکن ہمیں شکست کا نوحہ نہ جانیے بس اپنی ہا و ہو سے ہی رونق ہے چار سو ویرانیوں کو زینت صحرا نہ جانیے طوفاں کا نام ...

مزید پڑھیے

خاک اڑتی ہے خریدار کہاں کھو گئے ہیں

خاک اڑتی ہے خریدار کہاں کھو گئے ہیں جن سے تھی رونق بازار کہاں کھو گئے ہیں سب کی پیشانیاں سجدوں سے منور ہیں یہاں اے خدا تیرے گنہ گار کہاں کھو گئے ہیں سرنگوں بیٹھے ہیں سب ظل الٰہی کے حضور کیا ہوئے صاحب دستار کہاں کھو گئے ہیں جن کے دامن میں دعاؤں کے خزانے تھے بہت وہ سخاوت کے علم ...

مزید پڑھیے

سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں میں کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرا ہی نہیں خشک ہونٹوں کے تصور سے لرزنے والو تم نے تپتا ہوا صحرا کبھی دیکھا ہی نہیں اب تو ہر بات پہ ہنسنے کی طرح ہنستا ہوں ایسا لگتا ہے مرا دل کبھی ٹوٹا ہی نہیں میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی تو وہ بادل جو کبھی ...

مزید پڑھیے

کہیں بھی با خدا کوئی نہیں ہے

کہیں بھی با خدا کوئی نہیں ہے یقیناً آپ سا کوئی نہیں ہے وہاں موجود ہوں خود سر بہ سر میں جہاں تک دیکھتا کوئی نہیں ہے کمال فکر کا دعویٰ ہے سب کو اگرچہ سوچتا کوئی نہیں ہے میں کیسے ہاتھ تجھ کو چھوڑنے دوں مرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے میں ایسے شہر میں مارا گیا ہوں جہاں پہ خوں بہا کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ جو سیلاب جا رہا ہے میاں

یہ جو سیلاب جا رہا ہے میاں آنکھ سے خواب جا رہا ہے میاں آؤ جی بھر کے دیکھ لیں اس کو ایک نایاب جا رہا ہے میاں لوگ پر نوچنے لگے اس کے یعنی سرخاب جا رہا ہے میاں دھڑکنیں روک دی ہیں اشکوں نے دل تہہ آب جا رہا ہے میاں ہالۂ نور سا ہے نقش قدم کوئی مہتاب جا رہا ہے میاں

مزید پڑھیے

سفر میں کیوں نہ سفینوں کے بادبان کھلے

سفر میں کیوں نہ سفینوں کے بادبان کھلے مجھے بتانا اگر تم پہ داستان کھلے تلاش ماہ و کواکب سے کیا ملے گا تجھے تو خاک اوڑھ کہ تجھ پر یہ خاکدان کھلے یہ کس مقام پہ ٹوٹا ہے ان کہی کا فسوں ہمارے زخم ہواؤں کے درمیان کھلے کسی کے نام پہ تڑپی ہیں ڈوبتی نبضیں غم نہاں کے دم آخریں نشان ...

مزید پڑھیے

رخصتی

مری گڑیا تری رخصت کا دن بھی آ گیا آخر سمٹ آیا ہے آنکھوں میں تیرا بیتا ہوا بچپن ابھی کل کی ہی باتیں ہیں تو اک ننھی سی گڑیا تھی ابھی کل ہی تو بابا سے بڑی ضد کر کے مانگے تھے گلابی رنگ کے کپڑے وہ جوتے تتلیوں والے ابھی کل ہی تو لایا تھا میں پہلی بار اک چوڑی جسے جب تم نے پہنا تو کلائی سے ...

مزید پڑھیے

ترے حرماں نصیبوں کی بھی کیا تقدیر ہے ساقی

ترے حرماں نصیبوں کی بھی کیا تقدیر ہے ساقی بہ ہر صورت وہی زنداں وہی زنجیر ہے ساقی شرارے زندگی کے دیکھتا ہوں راکھ میں پنہاں مرے حق میں یہ خاک آشیاں اکسیر ہے ساقی بہار آئی ہے گلشن میں مگر محسوس ہوتا ہے نظارے سہمے سہمے ہیں فضا دلگیر ہے ساقی خوش آئے گی بھلا کیسے وہ تیرے مے پرستوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 133 سے 5858