حریف وقت ہوں سب سے جدا ہے راہ مری
حریف وقت ہوں سب سے جدا ہے راہ مری نہ قصر شاہ سے نسبت نہ خانقاہ مری کسی سے کوئی تعلق نہ رسم و راہ مری کہ اب ہے خیمہ تنہائی خانقاہ مری نہ جانے کس کے تجسس میں غرق رہتی ہے بھٹکتی پھرتی ہے چاروں طرف نگاہ مری کسی کے روبرو میں سرنگوں ہوا ہی نہیں مری انا نے سلامت رکھی کلاہ مری میں اپنے ...