شاعری

برائے نام سہی دن کے ہاتھ پیلے ہیں

برائے نام سہی دن کے ہاتھ پیلے ہیں کہیں کہیں پہ ابھی روشنی کے ٹیلے ہیں تمام رات مرے غم کا زہر چوسا ہے اسی لیے تری یادوں کے ہونٹ نیلے ہیں ہمارے ضبط کی دیوار آہنی نہ سہی تمہارے طنز کے نیزے کہاں نکیلے ہیں انہیں بھی آج کی تہذیب چاٹ جائے گی کہیں کہیں پہ جو سمٹے ہوئے قبیلے ہیں بدن کا ...

مزید پڑھیے

ہر چند اپنے عکس کا دل دردمند ہو

ہر چند اپنے عکس کا دل دردمند ہو آئینے کے لبوں پہ اگر زہر خند ہو بے مہر آفتاب کا دروازہ بند ہو آندھی ذرا تھمے تو گھٹا سر بلند ہو ہر لمحہ اس کی مدح سرائی نہ کیجیے ممکن ہے ایسی بات اسے نا پسند ہو ہر گام حوصلوں کا یہی مدعا رہا گمراہ زندگی کی مسافت دو چند ہو اخترؔ میں اختلاف کا قائل ...

مزید پڑھیے

میں لڑکھڑایا تو مجھ کو گلے لگانے لگے

میں لڑکھڑایا تو مجھ کو گلے لگانے لگے گناہ گار بھی میری ہنسی اڑانے لگے مری قدیم روایت کو آزمانے لگے مخالفین بھی اب کشتیاں جلانے لگے دل حریص سے تعمیر کی ہوس نہ گئی وہ سطح آب پہ کاغذ کا گھر بنانے لگے کسی کی راہ منور میں معجزہ یہ ہوا ہمارے نقش کف پا بھی جگمگانے لگے نہ جانے کس کا ...

مزید پڑھیے

جہاں سے ہارنے پر دوستو ایسا بھی ہوتا ہے

جہاں سے ہارنے پر دوستو ایسا بھی ہوتا ہے حقیقت چھوڑ کر انساں یہاں سپنوں میں کھوتا ہے چراغوں کی ہمیشہ قدر ہوتی ہے اندھیروں میں زمانہ جوں کسی کے چھوڑ کر جانے پہ روتا ہے کبھی رتبہ دیا یاروں کو گلدستے کے پھولوں کا سجا کر پھر نئے پھولوں کو تو رشتے ڈبوتا ہے غلط کچھ کام انساں زندگی ...

مزید پڑھیے

تجھ کو پانے کے لیے خاک تمنا ہو جاؤں

تجھ کو پانے کے لیے خاک تمنا ہو جاؤں تیرے قدموں میں بکھر کر ترا رستہ ہو جاؤں اور کب تک میں کروں مدح سرائی اپنی مجھ کو توفیق دے یارب کہ میں تیرا ہو جاؤں تجھ کو کوئی بھی کبھی میرے سوا دیکھ نہ پائے آنکھ میں بھر لوں تجھے اور میں اندھا ہو جاؤں چند لمحوں کے لیے خود کو مکمل دیکھوں بے ...

مزید پڑھیے

کچھ ڈوبتا ابھرتا سا رہتا ہے سامنے

کچھ ڈوبتا ابھرتا سا رہتا ہے سامنے ہر لمحہ اک طلسم تماشہ ہے سامنے اڑتی ہے صحن دل میں تہی منظری کی خاک رنگوں کا اک ہجوم سا بکھرا ہے سامنے بکھری ہوئی ہے دھند سر شیشۂ طلب بے رنگ و نور عکس تمنا ہے سامنے ظلمات انتشار میں آنکھیں کھلی رکھو تم جس کو ڈھونڈتے ہو وہ دنیا ہے سامنے اک خوف ...

مزید پڑھیے

رقص طاؤس تمنا نہیں ہونے والا

رقص طاؤس تمنا نہیں ہونے والا اب یہاں کوئی تماشا نہیں ہونے والا سرفراز جہاں ہونا ہی نہیں ہے مجھ کو صاحبو میں سگ دنیا نہیں ہونے والا کھینچ لو دست طلب بند کرو چشم امید وہ تنک ظرف کسی کا نہیں ہونے والا مجھ کو ہنگامۂ دنیا نے نوازا ہے بہت میں تو خلوت میں بھی تنہا نہیں ہونے والا پھر ...

مزید پڑھیے

طلسم خانۂ دل میں ہے چار سو روشن

طلسم خانۂ دل میں ہے چار سو روشن مری نگاہ کے ظلمت کدے میں تو روشن بہت دنوں پہ ہوئی ہے رگ گلو روشن سناں کی نوک پہ ہو جائے پھر لہو روشن تمام رات میں ظلمات انتظار میں تھا تمام رات تھا مہتاب آرزو روشن میں اپنے آپ سے ہی جنگ کرتا رہتا ہوں کہ مجھ پہ ہوتا نہیں اب مرا عدو روشن عجیب شور ...

مزید پڑھیے

نفس نفس اضطراب میں تھا

نفس نفس اضطراب میں تھا میں حلقۂ صد عتاب میں تھا سبھی نظارے نظر میں گم تھے کہ سارا منظر حجاب میں تھا پڑھا تو کچھ بھی نہ ہاتھ آیا لکھا بہت کچھ کتاب میں تھا لہو کی آہٹ پہ چونک اٹھا وہ مدتوں جیسے خواب میں تھا دلوں میں روشن نئی کہانی پرانا قصہ کتاب میں تھا بس اک ہنر تہہ بہ تہہ ...

مزید پڑھیے

مری قدیم روایت کو آزمانے لگے

مری قدیم روایت کو آزمانے لگے مخالفین بھی اب کشتیاں جلانے لگے میں لڑکھڑایا تو مجھ کو گلے لگانے لگے گناہ گار بھی میری ہنسی اڑانے لگے دل حریص سے تعمیر کی ہوس نہ گئی وہ سطح آب پہ کاغذ کا گھر بنانے لگے کسی کی راہ منور میں معجزہ یہ ہوا ہمارے نقش کف پا بھی جگمگانے لگے نہ جانے کس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 130 سے 5858