مدت ہوئی راحت بھرا منظر نہیں اترا
مدت ہوئی راحت بھرا منظر نہیں اترا ساون کا مہینہ مری چھت پر نہیں اترا روشن رہا اک شخص کی یادوں سے ہمیشہ گرداب میں ظلمت کے مرا گھر نہیں اترا جس آنکھ نے دیکھا تمہیں دیتی ہے گواہی تم جیسا زمیں پر کوئی پیکر نہیں اترا سچائی مرے ہونٹوں سے اتری نہیں ہرگز جب تک مرے کاندھوں سے مرا سر ...