شاعری

اگر ہم سرحدوں پر پیڑ اگاتے

اگر ہم سرحدوں پر پیڑ اگاتے کیا ہم سایوں پر بھی باندھ بناتے سورج کو کیسے دھمکاتے کیا آگ لگاتے پورے چاند کی پاگل کوئل جب جب گاتی کس کو بہکاتی میرے جسم کا سایہ گر وہاں پہ پڑتا تو جرمانہ لگتا پھول جو کھلتے کس کو ملتے درگاہ جاتے یا مندر چڑھاتے پھلوں کا جب بٹوارا کرتے کیا لڑتے ...

مزید پڑھیے

اس کی جانب دیکھتے تھے اور سب خاموش تھے

اس کی جانب دیکھتے تھے اور سب خاموش تھے اس کی آنکھیں بولتی تھیں اور لب خاموش تھے یوں تو دل والے تھے محفل تھی مگر عالم تھا یہ اس کا جادو تھا جو حیرت کے سبب خاموش تھے چاند اک نزدیک سے دیکھا تھا جب سمران میں ہم بھی کچھ کہتے پر اپنے چشم و لب خاموش تھے اک سکوت مرگ طاری تھا چمن زادوں کے ...

مزید پڑھیے

ہم سے ممکن نہ ہوا دشت کو دریا لکھیں

ہم سے ممکن نہ ہوا دشت کو دریا لکھیں خار کو پھول کہیں دھوپ کو سایہ لکھیں ان کا اصرار اندھیرے کو اجالا لکھو ضد ہماری کہ اندھیرا ہے اندھیرا لکھیں آؤ اس پیڑ کے سائے میں ذرا سستا لیں اور پھر چاہے غزل چاہے قصیدہ لکھیں کچھ پتا ان کو چلے ہم پہ گزرتی کیا ہے اپنے اک آدھ سہی غم کا خلاصہ ...

مزید پڑھیے

میری فکروں میں رچا دل کے قریں لگتا ہے

میری فکروں میں رچا دل کے قریں لگتا ہے وہ تو پہلے سے کہیں اور حسیں لگتا ہے گرچہ اک بھیڑ ہے ہر سمت ہر اک کوچہ میں مجھ کو ہر شخص مگر گوشہ نشیں لگتا ہے اپنا سرمایہ یہی ٹوٹتے لمحوں کی تھکن دل مگر ہے کہ جواہر کا امیں لگتا ہے تم نے دیکھا نہیں ہوگا کوئی منظر ایسا ہر فلک آج ہمیں زیر زمیں ...

مزید پڑھیے

الفاظ کا المیہ

میں اپنے دل کا کشکول تہی لے کر نہ جانے کتنی صدیوں سے بھٹکتا پھر رہا ہوں ڈھونڈھتا ہر اک قریہ ہر اک گاؤں ہر اک آبادی ویرانہ ہر اک کوچہ ہر اک گوشہ محبت عافیت اخلاص ہمدردی وفا مروت دوستی اور آشتی امن و سکوں ہر اک در پہ صدا دی ہے ہر اک در سے جواب آیا محبت عافیت اخلاص ہمدردی وفا مروت ...

مزید پڑھیے

جھجک رہا ہوں اسے آشکار کرتے ہوئے

جھجک رہا ہوں اسے آشکار کرتے ہوئے جو کشمکش تھی ترا انتظار کرتے ہوئے کٹیلی دھوپ کی شدت کو بھی نظر میں رکھو کسی درخت کو بے برگ و بار کرتے ہوئے ہوا کے پاؤں بھی شل ہو کے رہ گئے اکثر ترے نگر کی فصیلوں کو پار کرتے ہوئے یہی ہوا کہ سمندر کو پی کے بیٹھ گئی ہماری ناؤ سفر اختیار کرتے ...

مزید پڑھیے

جینے کی تمنا ہے نہ مرنے کی تمنا

جینے کی تمنا ہے نہ مرنے کی تمنا ہے آپ کے کوچے سے گزرنے کی تمنا تجدید تعلق کی اب امید ہے جیسے ڈوبی ہوئی کشتی کے ابھرنے کی تمنا بے ساختہ آ جائیے پردے سے نکل کر آئینے کو رہ جائے سنورنے کی تمنا سورج کو سمندر میں ڈبو دیتی ہے ہر شام آرام سے اک رات گزرنے کی تمنا جنت سے نکلوائے گی ...

مزید پڑھیے

ڈیپ فریز

پچھلی کتنی راتوں سے میں خواب یہی ایک دیکھ رہا ہوں ہاتھ یہ میرے ہاتھ نہیں ہیں پاؤں یہ میرے پاؤں نہیں ہیں ان کے سہارے میں چلتا ہوں سڑکوں پر آوارگی کر کے جھوٹی سچی باتیں اخباروں میں لکھ کر رات گئے جب گھر آتا ہوں کانچ کی آنکھیں پتھر کے دانتوں کا چوکا بندر کا دل عضو تناسل لیکن ...

مزید پڑھیے

قاتل بے چہرہ

شراب پی کے یہ احساس مجھ کو ہوتا ہے کہ جیسے میں ہی خدا ہوں خدا کا بیٹا ہوں خدائی جس کو چڑھاتی رہی ہے سولی پر شراب پی کے یہ احساس مجھ کو ہوتا ہے کہ جیسے عرصۂ پیکار حق و باطل میں ہمیشہ میں ہی جو مظہر رہا ہوں نیکی کا شکست کھاتا رہا پیا ہے زہر بھی میں نے کٹایا ہے سر بھی بجھی نہ پیاس مگر ...

مزید پڑھیے

ایجاز

لفظوں کو بیکار نہ خرچو لفظوں سے پل پل سے نظمیں نظموں سے اظہار انا کے کتنے دریچے کھل جاتے ہیں ایجاز سے کہہ دو

مزید پڑھیے
صفحہ 111 سے 5858