شاعری

تم کس سے ملنے آئے ہو

تم کس سے ملنے آئے ہو کس چہرے سے کام ہے تم کو کن آنکھوں سے بات کرو گے تم جو چہرہ دیکھ رہے ہو اس میں ہیں کتنے ہی چہرے جن کو لگائے میں پھرتا ہوں تم کس سے ملنا چاہوگے اس شاعر سے جس کو تم نے دیکھا ہے اسٹیج پہ اکثر سب کو بھولے خود کو بھلائے بدمستوں کا بھیس بنائے جس نے فلک پر حکم چلائے سنگ ...

مزید پڑھیے

شفق کرنیں کنول تالاب اس کے

شفق کرنیں کنول تالاب اس کے یہ منظر سب حسیں شاداب اس کے چلو کہنے کو ہیں نیندیں ہماری مگر آنکھوں میں سارے خواب اس کے جہان تیرگی عالم ہمارا اجالے روشنی کے باب اس کے اسی کی ذات وجہ نور و نغمہ یہ جھرنے کہکشاں مہتاب اس کے کتاب زندگی پر نام اپنا جو اندر دیکھیے ابواب اس کے ہماری ...

مزید پڑھیے

نہ منزلوں کا تعین نہ کوئی جادہ تھا

نہ منزلوں کا تعین نہ کوئی جادہ تھا عجب تھے لوگ سفر کا مگر ارادہ تھا انہیں تھا زعم قیادت کہ جن کے حصہ میں نہ تھی نگاہ میں وسعت نہ دل کشادہ تھا وہ شہسوار تھے گھوڑے بھڑک گئے ان کے میں آج ہوں سر منزل کہ پا پیادہ تھا غم حیات کو تم سہہ نہیں سکے ورنہ ہمارا حال تو تم سے کہیں زیادہ ...

مزید پڑھیے

عرفان

میرے باپ نے مرتے دم بھی مجھ سے بس یہ بات کہی تھی گردن بھی اڑ جائے میری سچ بولوں میں جھوٹ نہ بولوں اس دن سے میں آج کے دن تک پگ پگ جھوٹ سے ٹکر لیتا سچ کو ریزہ ریزہ کرتا اپنے دل کو ان ریزوں سے چھلنی کرتا خون میں لت پت گھوم رہا ہوں اور مرا دامن ہے خالی لیکن اب میں تھک سا گیا ہوں برگد کی ...

مزید پڑھیے

یہ ہاتھ

یہ ہاتھ کتنے حسیں کتنے خوب صورت ہیں یہ ہاتھ جن پہ ہے اک جال سا لکیروں کا لکیریں جن میں ہیں صدیوں کے ارتقا کے نشاں نشاں عمل کے عزائم کے علم و حکمت کے صعوبتوں کے صلابت کے اور مشقت کے وفا کے قرب و رفاقت کے مہر و الفت کے صفا و صدق کے انسانیت کی خدمت کے کرم کے جود و سخا کے عطا کے بخشش ...

مزید پڑھیے

تمہیں کیا؟

میں اپنی زندگی کی نوٹ بک سے کتنی راتیں کتنے دن کاٹوں کہ اک اک رات میں کتنی قیامت خیز راتیں مجھ پہ ٹوٹی ہیں اور اک اک دن میں کتنے دن ہیں جن میں حشر برپا ہوتا رہتا ہے اور ایسی کتنی صدیاں اس زمیں پر مجھ پہ بیتی ہیں میں ہر لمحہ میں سو سو بار مرتا اور جیتا ہوں حساب بے گناہی ہر نفس پر دیتا ...

مزید پڑھیے

خود فراموشی

چلا تھا گھر سے کہ بچے کی فیس دینی تھی کہا تھا بیوی نے بیچ آؤں بالیاں اس کی کہ گھر کا خرچ چلے اور دوا بھی آ جائے سوال یہ ہے کہ کیا علم نے دیا اب تک بجائے کل کے اگر آج مر گئے تو کیا زمیں پہ کتنے مسائل ہیں آدمی کے لیے خیال آیا چلو آج جب کہ زندہ ہیں چڑھا کے آئیں گے دو پھول گور مادر پہ کہ ...

مزید پڑھیے

لا یعنیت

زندگی شعر کا موضوع تو ہو سکتی ہے شعر کے اور جو عنواں ہیں اگر وہ نہ رہیں اس پہ کیا بحث کریں بحث پھر بحث ہے عورت پہ ہو لونڈے پہ ہو یا جنس پہ ہو بحث پھر بحث ہے اخلاق پر مذہب پہ ہو یا فلسفۂ سائنس پہ ہو بحث پھر بحث ہے زندگی اور اجل پہ ہو یا خود شعر پہ ہو بحث کس درجہ ہے لا یعنی شے بحث جو ہو ...

مزید پڑھیے

ابلاغ

گلا رندھا ہو تو ہم بات کر نہیں سکتے اشاروں اور کنایوں سے اپنے مطلب کو بجائے کانوں کے آنکھوں پہ تھوپ دیتے ہیں گلا تھا صاف تو کیا ہم نے تیر مارا تھا یہی کہ نام کمایا تھا یاوہ گوئی میں غزل سرائی میں یا فلسفہ طرازی میں مگر وہ بات جو سچ ہے ابھی گلے میں ہے گلا رندھا ہو گلا صاف ہو تو فرق ...

مزید پڑھیے

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہے

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہے وہ کیف تازہ بھی ہے نشۂ کہن بھی ہے مجھے تو چین سے رہنے دے اے دل وحشی کہ دشت بھی ہے ترے سامنے چمن بھی ہے کہاں کی منزل مقصود راستہ بھی نہیں سفر میں ساتھ خدا بھی ہے اہرمن بھی ہے وہ ایک لمحہ پراں وہ ایک ساعت دید حنا بدست بھی ہے لالہ‌ پیرہن بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 112 سے 5858