ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے جان جاں سچ پہ کیوں اتنا اصرار ہے سچ کی عظمت سے کب ہم کو انکار ہے ہم بھی شاعر ہیں آخر اسی قوم کے جس کا ہر فرد بکنے پہ تیار ہے ہم ہیں لفظوں کے تاجر یہ بازار ہے سچ تو یہ ہے گزرتے ہوئے وقت سے فائدہ جو اٹھا لے وہ فن کار ہے ہم نہ سقراط ہیں ہم نہ منصور ہیں ہم سے ...