شاعری

پدمنی

عندلیبوں کو ملی آہ و بکا کی تعلیم اور پروانوں کو دی سوز وفا کی تعلیم جب ہر اک چیز کو قدرت نے عطا کی تعلیم آئی حصے میں ترے ذوق فنا کی تعلیم نرم و نازک تجھے اعضا دیئے جلنے کے لیے دل دیا آگ کے شعلوں پہ پگھلنے کے لیے رنگ تصویر کے پردے میں جو چمکا تیرا خود بہ خود لوٹ گیا جلوۂ رعنا ...

مزید پڑھیے

جمنا

دھیمی دھیمی بہنے والی ایک نہر دل نشیں آب جو چھوٹی سی اک نازک خرام و نازنیں تشنگیٔ شوق گنگا میں بجھانے کے لیے جا رہی ہے اپنی ہستی کو مٹانے کے لیے یہ وہ جمنا ہے کہ دل کش جس کا ہے انداز حسن دیکھتے ہیں آہ عاشق جس کا خواب ناز حسن یہ وہ جمنا ہے کہ گاتی ہیں سخنور جس کے گیت مطربان خوش گلو کی ...

مزید پڑھیے

بھنورے کی بے قراری

نہ وہ کیتکی کی پھبن رہی نہ وہ موتیا کی ادا رہی نہ وہ نسترن نہ سمن رہی نہ وہ گل رہے نہ فضا رہی نہ گلوں کے اب ہیں وہ قہقہے نہ وہ بلبلوں کے ہیں چہچہے نہ غزل سرا وہ کوئی رہے نہ وہ قمریوں کی صدا رہی نہ وہ سرو ہے نہ وہ آب جو نہ وہ ہم صفیر ہیں خوش گلو نہ بنفشہ ہے نہ وہ ناز بو نہ وہ جعفری نہ جفا ...

مزید پڑھیے

گلزار وطن

پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں حب وطن کے پودے اس میں نئے لگائیں پھولوں میں جس چمن کے ہو بوئے جاں نثاری حب وطن کی قلمیں ہم اس چمن سے لائیں خون جگر سے سینچیں ہر نخل آرزو کو اشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیں ایک ایک گل میں پھونکیں روح شمیم وحدت اک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ...

مزید پڑھیے

اس کا نیزہ تھا اور مرا سر تھا

اس کا نیزہ تھا اور مرا سر تھا اور اک خوش گوار منظر تھا کتنی آنکھوں سے ہو کے گزرا وہ اک تماشہ جو صرف پل بھر تھا دل کے رشتوں کی بات کرتے ہو ایک شیشہ تھا ایک پتھر تھا انگلیوں کے نشان بول پڑے کون قاتل تھا کس کا خنجر تھا ہم اصولوں کی بات کرتے رہے اور وہ تھا کہ اپنی ضد پر تھا

مزید پڑھیے

بہ خدا عشق کا آزار برا ہوتا ہے

بہ خدا عشق کا آزار برا ہوتا ہے روگ چاہت کا برا پیار برا ہوتا ہے جاں پہ آ بنتی ہے جب کوئی حسیں بنتا ہے ہائے معشوق طرحدار برا ہوتا ہے یہ وہ کانٹا ہے نکلتا نہیں چبھ کر دل سے خلش عشق کا آزار برا ہوتا ہے ٹوٹ پڑتا ہے فلک سر پہ شب فرقت میں شکوۂ چرخ ستم گار برا ہوتا ہے آ ہی جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

کسی مست خواب کا ہے عبث انتظار سو جا

کسی مست خواب کا ہے عبث انتظار سو جا کہ گزر گئی شب آدھی دل بے قرار سو جا یہ نسیم ٹھنڈی ٹھنڈی یہ ہوا کے سرد جھونکے تجھے دے رہے ہیں لوری مرے غم گسار سو جا یہ تری صدائے نالہ مجھے متہم نہ کر دے مرے پردہ دار سو جا مرے راز دار سو جا مجھے خوں رلا رہا ہے ترا دم بدم تڑپنا ترے غم میں آہ کب سے ...

مزید پڑھیے

شب وصال مزا دے رہی ہے 'تو' تیری

شب وصال مزا دے رہی ہے 'تو' تیری لبوں سے گھولتی ہے قند گفتگو تیری تری زباں کو بگاڑا رقیب بد خو نے کہ بات بات میں گالی تو تھی نہ خو تیری لگا رہا ہے حنا کون تیرے ہاتھوں میں رلا رہی ہے مجھے خون آرزو تیری ترے سکوت میں بھی اک ادا نکلتی ہے کہ ہے چھپی ہوئی پردے میں گفتگو تیری نہ چاک کر ...

مزید پڑھیے

فقیروں پہ اپنے کرم اک ذرا کر

فقیروں پہ اپنے کرم اک ذرا کر ترے در پہ بیٹھے ہیں دھونی رما کر بہت دیر سے در پہ سادھو کھڑے ہیں فقیروں پہ داتا دیا کر دیا کر نہیں ہم کو خواہش کسی اور شے کی ہمیں اپنے جوبن کا صدقہ عطا کر سرورؔ ان کی نگری میں برسوں پھرے ہم فقیرانہ بھیس اپنا اکثر بنا کر

مزید پڑھیے

جو دل نواز ہو اپنا وہ دل ربا نہ ملا

جو دل نواز ہو اپنا وہ دل ربا نہ ملا ستم پسند ملا درد آشنا نہ ملا غریب ڈوب گیا بحر غم کے طوفاں میں وہ جس کو دب کے ابھرنے کا حوصلہ نہ ملا جھکا سکے نہ مرے دل کو اہل دیر و حرم خدا کے گھر میں خدا کی قسم خدا نہ ملا وہ ایک تم ہو کہ ساحل ملا بغیر طلب وہ ایک میں ہوں کہ تنکے کا آسرا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 103 سے 5858