شاعری

پتوں کے سائے

شام کے ڈھلتے اترنے کے لئے کوشاں ہوا کرتی ہے جب جب مخملیں شب باغ کے اطراف پھیلے سب گھروں کی بتیاں جلتی ہیں اک کے بعد اک اک ایسے میں پتوں کے سائے کھڑکیوں کے لمبے شیشوں پر سمیٹے اپنا سارا حسن مجھ کو دیکھ کر گویا خوشی سے مسکراتے ہیں جہان دل سجاتے ہیں

مزید پڑھیے

برسات کی خشک شام

سنہرے سبز پتے سرمئی نیلا سا نارنجی بہ مائل سرخ رنگ آسماں خوشبو ہوا میں بھیگی سوندھی سی ابھی سورج ڈھلا ہی ہے خنک کمرے کی ساری کھڑکیوں کو بند کر کے جھانکنا شیشوں کے اندر سے خوش آگیں مشغلہ ہے

مزید پڑھیے

ضروری بات

نیلی نیلی شام کی خاموشیوں کے بیچ کیا سرگوشیاں سی کرتے ہیں شاخوں سے یہ پتے جھکا ہے گل کلی کے رخ پہ ساری خوشبوئیں لے کر بکھیرے زلف سورج کی طرف چل دی ہے اک بدلی ہوا اٹھکھیلیاں کرتی ہے رک رک کر درختوں سے زمیں کو آسماں نے لے لیا اپنی پناہوں میں تم آ جاتے اگر گھر آج جلدی مجھ کو بھی تم سے ...

مزید پڑھیے

شام‌ تنہا

شام تنہا یوں ہی چپ چاپ اندھیرے لے کر گھر کے اندر ہی چلی آئی ہے بتیاں گل کئے ہم بیٹھے رہے شام کو اور کچھ اداس کریں رنج اور غم کو پاس پاس کریں

مزید پڑھیے

آبائی گھر

ماتمی شام اتر آئی ہے پھر بام تلک گھر کی تنہائی کو بہلائے کوئی کیسے بھلا اپنے خوابوں کے تعاقب میں گئے اس کے مکیں منتظر ہیں یہ نگاہیں کہ ہیں بجھتے سے دئے راہ تکنے کے لئے کوئی بچے گا کب تک پھر یہ دیواریں بھی ڈھہ جائیں گی

مزید پڑھیے

شرمیلی خاموشی

شام کی شرمیلی چپ کو روح میں محسوس کرتے کام میں مصروف ہیں ہم دوپہر سے دل کی آنکھیں دیکھتی ہیں گہری گہری سبز شاخوں کو جو بیٹھی ہیں خموشی سے کئے خم گردنیں اپنی کسی دلہن کی صورت سر پہ اوڑھے آسماں کی سرمئی چنری ستارے جس میں ٹانکے جا رہے ہیں ہم اپنے اس تصور پر خود ہی مسکا رہے ہیں

مزید پڑھیے

شام کی بارش

کون سے کوہ کی آڑ میں لی خورشید نے جا کر آج پناہ چو طرفہ یلغار سی کی ہے ابر نے بھی تا حد نظر دھیمے چلتے کالے بادل اڑتی سی اجلی بدلی رقصاں رقصاں جھلک دکھا کر رہ جاتی ہے برق کبھی پتوں کے جھرمٹ میں سائے کجلائے شرمائے سے پھول حلیمی سے سر خم اور کلیاں کچھ شرمائی سیں دانستہ بارش میں اڑتے ...

مزید پڑھیے

عیاشی

محبوب کی مانند اٹھلائے معشوق کی صورت شرمائے ہریالی کا آنچل اوڑھے ہر شاخ ہوا میں رقصاں ہے میں پیار بھری نظروں سے انہیں مسکاتی دیکھے جاتی ہوں شاموں میں پیڑوں کو تکنا ہے میری نظر کی عیاشی

مزید پڑھیے

کوئی بات کرو

منہ بسورے یہ شام کھڑکی پر آن بیٹھی ہے دوپہر ہی سے دل کہ جیسے خزاں زدہ پتہ ٹوٹنے کو ہے کوئی بات کرو

مزید پڑھیے

میڈیٹیشن

میڈیٹیشن کچھ نہ سوچوں میں کچھ نہیں سوچوں یوں ہی کھڑکی سے شام کو دیکھوں پر سکوں آسماں خموش درخت سرمئی روشنی ہوا یہ سکوں اپنی نس نس میں منتقل کر لوں دل کی دھڑکن کو روک دوں کچھ پل ایک دفعہ پلک نہیں جھپکوں یوں ہی بیٹھی رہوں جو بے جنبش روح پھر رب سے بات کرتی ہے کتنے ہی کام ساتھ کرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 95 سے 960