شاعری

عدم کتھا

میں محبت کرتا اور زندہ رہنا بھول چکی ہوں اور کھلونوں کے نئے کاروبار کا لطف اٹھا رہی ہوں کھلونے مجھے بیچ رہے ہیں موت کے ہاتھوں جو ضرورتوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے بہروپ بدلتی ہے کھلونے مجھے چابی دیتے ہیں اور صبح ہو جاتی ہے شام ہوتے ہوتے چابی ختم ہوتی ہے اور ذہن میں بھڑکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جان کے عوض

بچہ لالٹین کی روشنی میں پڑھ رہا ہے بوڑھا اپنی دعائیں بانٹ رہا ہے مجھے تمہارے الزام پر اپنی صفائی پیش کرنا ہے کوئی کہتا ہے الفاظ میری گرفت سے باہر ہیں سوچ میری گرفت سے باہر ہے دل میری گرفت سے باہر ہے کوئی کہتا ہے میری نگاہیں دیوانی معلوم ہوتی ہیں اپنی صفائی پیش کرنا میرے بس سے ...

مزید پڑھیے

خار چنتے ہوئے

میں نے اپنی زندگی خواب دیکھنے لڑنے اور خار چننے میں ضائع کی مجھے افسوس ہے خواب مجھے خوش کرتے رہے اور محبت کے لمحوں کو ملتوی کرتے رہے بہت معمولی باتوں کے لیے مجھے ذلیل کیا گیا اور میرے تخیل نے مجھے ان لوگوں سے طویل جنگوں میں ضائع کیا جنہیں چند لفظوں سے شکست کی جا سکتی تھی میری ...

مزید پڑھیے

بے رحم شاعروں کے جرم

تمہیں پورا حق ہے ناراض ہونے کا ہم بے رحم شاعروں سے ہم نے تمہیں اک تماشا بنا دیا تمہارے دل میں دفن گہرے ترین رازوں تک ہماری نظر پہنچ گئی اور ہم نے تمہیں شرمندہ کر دیا دنیا کے سامنے تمہارے رازوں پر نظمیں لکھ کر تم ہمارے جرم پر ہمیں ہتھکڑی نہ لگوا سکے ہمیں عدالت نہ لے جا سکے نہ ...

مزید پڑھیے

پہلے موسم کے بعد

جنم کا پہلا دیو مالائی موسم گزر گیا اور تم رک گئے آخری قدم کے آگے دیوار کی اینٹیں چنتے چنتے رات ہو گئی تو میں نے سوچا جانے زنجیروں کا طول کون سے موسم سے کون سے موسم تک ہے مگر آگے صرف لا محدودیت ہے یا پھر دیوار جس کی اینٹوں کا گارا وقت کی مٹی سے بنا ہے تنہائی کا پانی آخری قدم کے آگے ...

مزید پڑھیے

تجھے کیا خبر

تری آرزو جسے میں نے سب سے الگ رکھا اسے دل کے نرم غلاف سے کبھی جھانکنے بھی نہیں دیا کہ یہ خواہشوں کے ہجوم میں کہیں اپنی قدر گنوا نہ دے تری چھوٹی چھوٹی نشانیوں کو بڑے قرینے سے پوٹلی میں لپیٹ کر کبھی کوٹھری میں چھپا دیا کبھی ٹانڈ پر رکھے دیگچے میں گرا دیا کہ پرے پرے رہیں چشم چرخ کبود ...

مزید پڑھیے

شفق گوں سبزہ

بڑی تکلیف تھی تحریر کو منزل پہ لانے میں تناؤ کا عجب اک جال سا پھیلا تھا چہرے پر کھنچے تھے ابروؤں میں سیدھے خط پیشانی پر آڑی لکیریں تھیں خمیدہ ہوتے گاہے لب کبھی مژگاں الجھ پڑتی تھیں باہم گرا کر پردۂ چشم اپنی آنکھوں پر غرق ہو جاتی سوچوں میں کہ افسانے میں دیوانے کا کیا انجام ...

مزید پڑھیے

ہزار شعر

شام تجھ پر ہزار شعر کہوں دل کو پھر بھی قرار آتا نہیں یہ ترا حسن یہ حلیمی تری تیری خاموشیاں یہ معنی خیز دن سمیٹے تو اپنے آنچل میں کیسے پل پل بکھیر دیتی ہے رنگ اور اندھیرے میں ڈوب جانے کو تیرا کچھ ہی گھڑی کا نرم وجود خوشبوئیں گھولتا فضاؤں میں دوش پر یوں اڑے ہواؤں کے جیسے تجھ کو ...

مزید پڑھیے

شام کا سحر

ابھی پرچھائیاں اونچے درختوں کی جدا لگتی ہیں رنگ آسماں سے ذرا پہلے گیا ہے اک پرندہ باغ کی جانب ادھر سے آنے والے ایک طیارے کی رنگیں بتیاں روشن نہیں اتنی وہ نکلی ہیں سبھی چمگادڑیں اپنے ٹھکانوں سے بڑا مبہم سا آیا ہے نظر زہرا فلک کے بیچ ٹی کوزی کے نیچے ہے گرم اب بھی بچا پانی کسی نے مجھ ...

مزید پڑھیے

چپکے چپکے رویا جائے

شام بجھی سی پنچھی چپ سینے کے اندر سناٹا اور روح میں نغمے غم آگیں دل کے سب زخموں کو اشکوں سے دھویا جائے کچھ لمحوں کو چپکے چپکے رویا جائے

مزید پڑھیے
صفحہ 94 سے 960