عدم کتھا
میں محبت کرتا اور زندہ رہنا بھول چکی ہوں اور کھلونوں کے نئے کاروبار کا لطف اٹھا رہی ہوں کھلونے مجھے بیچ رہے ہیں موت کے ہاتھوں جو ضرورتوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے بہروپ بدلتی ہے کھلونے مجھے چابی دیتے ہیں اور صبح ہو جاتی ہے شام ہوتے ہوتے چابی ختم ہوتی ہے اور ذہن میں بھڑکتے ہوئے ...