شاعری

پردیس کا شہر

یہ سرمئی بادلوں کے سائے یہ شام کی تازہ تازہ سی رت یہ گاڑیوں کی کئی قطاریں یہ باغ میں سیر کرتے جوڑے یہ بچوں کے قہقہے سریلے وہ دور سے کوکتی کویلیا یہ عکس پانی میں بجلیوں کا چہار جانب ہے شادمانی مگر میں ہوں بے قرار مضطر نہیں ہے اس شہر میں مرا گھر

مزید پڑھیے

منتظر ہے شام

دو جہاں کا حسن لے کر منتظر ہے شام کھڑکی پر شکستہ پرسی نا امید اشک آنکھوں میں بھر کر اس طرح ساکت نہ بیٹھو اک جگہ پر کانچ کو پتھر کی سنگت میں ہی رہنا ہو تو اک رستہ یہ ہے وہ فاصلوں کو درمیاں رکھے سنو یہ زیست ایسی شے نہیں مل پائے گی پھر دو جہاں کا حسن لے کر منتظر ہے شام کھڑکی پر چلو ہلکے ...

مزید پڑھیے

لفظ

ابھی تسخیر کرنے ہیں وہ لفظ کہ جن کو لکھ کر کتابوں میں پڑھ کر تمناؤں کی ان گنت وادیوں میں بسے اپنے خوابوں میں تعبیر کی کھڑکیاں کھول کر دوسروں پر کھلے اور پھر دوسروں کے لیے مثل جاناں بنے لفظ وہ جن کو صدیوں نے دیکھا جنہیں دیکھ کر ان کو چاہا جنہیں چاہ کر ان کو اپنے گلے سے لگایا یہ سب ...

مزید پڑھیے

سرخ پھندے سنہری مالائیں

تیرے پہلو میں برف کا ٹکڑا جانے پگھلے گا کون سی رت میں اب تو پیراہن ہمالہ بھی مثل دامن نمائے قیس ہوا بال کھلنے لگے ہیں شیشم کے بدھ کی صورت جمود کی رت میں بے نیاز لباس تخمینہ تھے گیانی جو وہ سفیدے بھی ہیں سر راہ محو بوس و کنار اپنی خوش قامتی پہ اتراتی پہننے والی ہیں کھجوریں بھی سرخ ...

مزید پڑھیے

زندگی کے گیتوں کے بول سننا

سماعت منجمد کے مالک سماعتوں پر جمود ہو تو دنوں کو ہفتوں میں ڈھالنے کا نہیں کوئی مشغلہ بجز یہ کہ وادیوں میں صدا کی دوری پہ بجنے والے سہانے سپنوں کے ڈھول سننا رفو گر دامن تمنا ہر ایک دھڑکن پہ دل میں اک ٹیس سی نہ اٹھے ہر ایک حرکت پہ آبلوں میں مری ہوئی سانس جی نہ اٹھے کسی کی آواز پا سے ...

مزید پڑھیے

پر اب یہ مشکل ہے

میں داستان وفا کے اس موڑ پر عجب کشمکش میں ہوں اب کہ ذہن و دل کی لڑائیاں تو رہ وفا کے ہر اک مسافر کی زندگی کا ہیں جزو لازم ہے اب یہ مشکل کہ دل میں اور مجھ میں ٹھن گئی ہے مرا یہ اصرار ہے ملن کی رتوں کی پہلی سحر تراشوں پہ دل بضد ہے کہ شام غم کے دیے کی لو کو لہو سے سپیچوں میں دل کی سچائی پر ...

مزید پڑھیے

جان مجبور ہوں

اک طرف تیرے لب تیری آنکھوں میں جلتے چراغوں کی لو تیرے عارض پہ کرنوں کا بڑھتا ہجوم تیرا جھلمل بدن تیری رنگیں صبا اور ان کے سوا سارے رنگوں کی موت سب صداؤں کے سکتے پہ گریہ کناں بس تری اک صدا اور اک وار اور زہر کا ایک جام دوسری سمت ہیں روشنی رنگ کرنیں صدائیں ادائیں بدن ہی بدن ایک تیرے ...

مزید پڑھیے

دوراہا

عجب دوراہے پہ آ کھڑا ہوں ادھر ترے حسن کی دھنک ہے ادھر عدو کی کمین گاہوں میں اسلحے کی چمک دمک ہے ادھر تری نقرئی ہنسی ہے ادھر سماعت خراش چیخوں کا زیر و بم ہے ادھر ترے طرح جسم زندگی کی حرارتوں کا نقیب بن کر بلا رہا ہے ادھر اجل نت زندگی کو تھپک تھپک کر سلا رہا ہے عجب دوراہے پہ آ کھڑا ...

مزید پڑھیے

چھلنی چھلنی سائباں

تمازت سے محروم افکار کے زرد سورج اگل کر سبھی اپنے اسلاف کی کھوپڑیوں کی مالائیں پہنے اجنمے ہوئے اپنے بچوں کی شکلوں کو بارود کے ڈھیر پر رکھ رہے ہیں وہ بچے جنہیں جنم لینا پڑا تھا وہ اپنے گھروں میں اندھیرے سجا کر چراغوں کو اپنی ہی قبروں پہ رکھنے چلے آ رہے ہیں یہاں ماں کے سینے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 96 سے 960