شاعری

جوکھم

جب کبھی میں اپنی کوئی پرانی لکھی نظم اٹھاؤں تو وہ کچھ بدلی بدلی سی لگتی ہے اسے جتنی بار پڑھو اتنی ہی بار میری رائے اس کے بارے میں بدلنے لگتی ہے کہ کبھی نظم جی کو اچھی لگتی ہے تو کبھی اکھرتی ہے کبھی چہرے پہ مسکان تو کبھی ماتھے پہ شکن آنے لگتی ہے اس الجھن کا کیا کوئی حل ہے کیا میں ...

مزید پڑھیے

پیسو سموکر

دھوئیں کے قفس میں قید پیسو سموکر کھل کر سانس لینے کو ترستا تڑپتا گلے سے ہوا مانو اترتی نہیں ہوا میں کیلیں لگیں ہے جیسے جو کھانسنے پر بھی گلے سے گرتی نہیں دھوئیں کے قفس میں قید پیسو سموکر ہوا اس قدر ہے روکھی کہ اندر سے گلا چھلنے لگا ہے اندر ایک زخم ہونے لگا ہے بہت بیمار ہونے لگا ...

مزید پڑھیے

چاند سے دوڑ

بچپن میں جب میں شام کو گاڑی کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھتا تو مسکراتے دودھیا سفید چاند کو اپنے بغل میں پاتا مانو مجھ سے دوڑ لگا رہا ہے کوئی بھی سڑک کوئی بھی موڑ کسی بھی سمت کسی بھی اور میں جہاں بھی جاؤں مجھ سے قدم سے قدم ملا رہا ہے پر جانے کیوں یہ مجھ سے جیتنے کے لیے نہیں دوڑتا کہ میں ...

مزید پڑھیے

شکار

ہتھیار ہاتھ میں لئے سانس روکے آنکھیں کھولے شکار کی تاک میں بیٹھا ہوں میں چوک کی کوئی گنجائش ہی نہیں نہ ذرا سی بھی نہیں کہ ہلکی سے ہلکی حرکت پر آنکھوں سے اوجھل ہو جانے کے لیے مشہور ہے میرا شکار بجلی سا تیز لومڑی سا چالاک و چتر ہے مرا شکار بڑا ہی جوکھم بھرا کھیل ہے شکار آنکھ اور ...

مزید پڑھیے

لنکا

دن چڑھتے ہی جہاں بدھم شرنم گچھامی گونج اٹھتا ہے جہاں ہنومان مندر میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں جہاں لوگ مسجد گرجے سے اوپر والے کو یاد کر دن کے کام پہ نکل پڑتے ہیں میں نے وہ لنکا دیکھی ہے میں نے سونے کی لنکا دیکھی ہے میں نے راون راکشس کی لنکا دیکھی ہے لیکن میں نے لنکا میں یہ بھی ...

مزید پڑھیے

سفر

میں جب اک سفر پہ چلتا ہوں میں بھاگتا ہوں میں رکتا ہوں میں دوڑتا ہوں میں گرتا ہوں سفر کی تپتی دھوپ سے چھاؤں میں جب میں دم لیتا ہوں میں جانے انجانے میں یہ سب سوچنے لگتا ہوں کہیں کوئی غلط موڑ تو نہیں لیا کہ سڑک کے کنارے کوئی میل کا پتھر نہیں آیا میں سوچتا ہوں کہ کیوں نہ واپس چلا ...

مزید پڑھیے

بچپن

تھامے ہاتھ اپنے ابو کا کمسن بچہ بھولا بھالا گھر کے پاس ہی باغیچے میں صبح سویرے سیر کو آیا باغیچے میں ہریالی تھی غنچہ غنچہ مہک رہا تھا شاخوں پر گل جھوم اٹھتے تھے چھیڑتا تھا جب ہوا کا جھونکا دیکھ کے دل کش منظر بچہ دل ہی دل میں اپنے خوش تھا مخمل جیسی گھاس پہ اس نے موتیوں کو جب بکھرے ...

مزید پڑھیے

عقل سے لیتا نہ کام اگر

ٹوپیوں کی ایک گٹھری باندھ کر کر لیا ایک شخص نے عزم سفر راستہ اتنا نہ تھا دشوار تر تھک گیا وہ راہ میں پھر بھی مگر پیڑ دیکھا راستے میں سایہ دار سانس لینا چاہا اس نے لیٹ کر ساتھ ہی بہتی تھی اک ندی وہاں پانی جس میں تھا رواں شفاف تر لیٹتے ہی نیند اس کو آ گئی مال سے اپنے ہوا وہ بے خبر پیڑ ...

مزید پڑھیے

لکڑی کا گھوڑا

بنایا ہے ہم نے یہ لکڑی کا گھوڑا سڑا سڑ سڑا سڑ لگاتے ہیں کوڑا یہ کرتا نہیں بھول کر بھی کبھی ہٹ جدھر چاہا پھیرا جدھر چاہا موڑا یہ کھاتا نہیں ٹھوکریں راستے میں بلا سے اگر ہو کوئی اینٹ روڑا نہ یہ مارتا ہے دولتی کسی کے کسی کا نہیں اس نے منہ ہاتھ توڑا نہ اس نے کبھی مجھ کو اب تک گرایا نہ ...

مزید پڑھیے

بلبل کا بچہ

بلبل کا بچہ کھاتا تھا کھچڑی پیتا تھا پانی بلبل کا بچہ گاتا تھا گانے میرے سرہانے بلبل کا بچہ ایک دن اکیلا بیٹھا ہوا تھا بلبل کا بچہ میں نے اڑایا واپس نہ آیا بلبل کا بچہ

مزید پڑھیے
صفحہ 82 سے 960