ہولی اور ہندوستان
اک طرف راحت کا اور فرحت کا کال اک طرف ہولی میں اڑتا ہے گلال اک طرف یاروں کی عشرت کوشیاں اک طرف ہم اور حال پر ملال اک طرف دور شراب آتشیں اک طرف تلچھٹ کا ملنا بھی محال دیکھتے ہیں تجھ کو جب اٹھتی ہے ہوک آہ اے ہندوستاں اے خستہ حال رحم کے قابل یہ بربادی تری دید کے قابل یہ تیرا ہے زوال کس ...