شاعری

شعرائے پاکستان کا خیر مقدم

یہ وقت نہیں قصۂ محتاج و غنی کا یہ وقت نہیں دل دہی و دل شکنی کا یہ وقت نہیں شکوۂ دنیائے دنی کا اے ہم سخنو وقت ہے یہ ہم سخنی کا کب تک یہ رہے گا کہ رہو ہم سے جدا تم ہم تم سے ادھر اور ادھر ہم سے خفا تم یہ سچ ہے کہ تقسیم ہوا ملک ہمارا یہ سچ ہے کہ اونچا ہوا نفرت کا ستارا یہ سچ ہے کہ نفرت کا ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

برق رفتاری پہ اپنی رشک کرتا تھا جہاں سوئے آزادی ہمارا قافلہ تھا تیز گام سیکھنا ہے لیکن اب مے خانۂ تعمیر میں جنبش نبض تمنا و خرام دور جام منزل مقصود تک یہ قوم جا سکتی نہیں جس کے قبضے میں نہیں اسپ سیاست کی لگام ہم کو بچنا چاہئے ہر اس برے اقدام سے جس سے ہو مطعون دنیا میں وطن کا نیک ...

مزید پڑھیے

میرے پیارے وطن

میرے وطن، پیارے وطن راحت کے گہوارے وطن ہر دل کے اجیارے وطن ہر آنکھ کے تارے وطن گل پوش تیری وادیاں فرحت نشاں راحت رساں تیرے چمن زاروں پہ ہے گلزار جنت کا گماں ہر شاخ پھولوں کی چھڑی ہر نخل طوبیٰ ہے یہاں کوثر کے چشمے جا بجا تسنیم ہر آب رواں ہر برگ روح تازگی ہر پھول جان گلستاں ہر باغ ...

مزید پڑھیے

میرا وطن

ایمن کا نور اگر ہے تو میرے وطن میں ہے اب تک بھی شان طور اسی اجڑے چمن میں ہے دونوں ہیں تیری یاد میں آلودۂ غرض جو عیب شیخ میں ہے وہی برہمن میں ہے لپٹا ہوا ہے دور خزاں بھی بہار سے دونوں کا رنگ لالۂ خونیں کفن میں ہے کیوں دل میں ڈھونڈتے ہو شگفتہ مزاجیاں پہلی سی اب بہار کہاں اس چمن میں ...

مزید پڑھیے

بیوہ کی فریاد

کسی کی یاد دل میں ہے کہ جس سے جی نڈھال ہے کہوں اگر تو کیا کہوں عجب طرح کا حال ہے نہ وہ زمیں نہ وہ فلک نہ اب وہ کائنات ہے وہ زندگی ہی اب نہیں نہ دن ہے وہ نہ رات ہے وہ آرزو ہے کون سی جو آج پا بہ گل نہیں ہے نام دل کا دل مگر جو سچ کہوں تو دل نہیں گھٹا اٹھی تو ہے مگر پپیہا آج گائے کیا تڑپ ...

مزید پڑھیے

گاندھی جینتی

بھول گئی ہے آج تو رہبر حق نگاہ کو بھول گئی ہے آج تو مرد جہاں پناہ کو بھول گئی ہے آج تو ضبط کے بادشاہ کو تجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوم اے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوم تیرے مہنت تو ابھی مست ہیں ذات پات میں تیرے بڑے بڑے گرو غرق ہیں چھوت چھات میں آہ کہ ڈھونڈھتی ہے تو ...

مزید پڑھیے

ساز خاموشی

فلک پر انجم تاباں تھے مصروف درخشانی برستا تھا زمیں پر آسماں سے نور کا پانی شعاعیں اپنا سیمیں جال دنیا پر بچھاتی تھیں در و دیوار پر پڑ کر طلسم شب مٹاتی تھیں کچھ ایسے اوڑھ رکھی تھی فضا نے نور کی چادر گماں ہوتا تھا جس پر یہ کہ ہے بلور کی چادر لیے ہاتھوں میں نیزے چاند کی کرنیں جھپٹتی ...

مزید پڑھیے

تم ناراض جو ہو

کاغذ گم ہیں اور کتابیں الماری میں گم صم ہیں منظر مبہم مبہم سے ہیں سوچیں گتھم گتھا ہیں ٹی وی پر کچھ شکلیں وکلیں شور شرابہ جاری ہے لکھنے بیٹھا ہوں کچھ لیکن کچھ بھی نہیں ہے لکھنے کو تم ناراض جو ہو

مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں ۶

ہاتھ ملانے کی رسم تب ایجاد ہوئی جب ہتھیار پھینکنا سیکھا جا چکا تھا اور بغلوں میں چھریاں عام ہونے لگی تھیں زندگیوں میں بدلاؤ آیا جاپانیوں نے دور سے جھک کر سلام کہنا سیکھا دشمن اور دوست سے مناسب فاصلہ ہمیشہ بنائے رکھا ایٹمی طاقت سے تباہ کیے گئے زندگیوں میں بدلاؤ آیا اہل فارس نے ...

مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں ۵

یہ اعداد کی قوس کب سیدھی ہوگی ہمیں کیا خبر بس خدا کو خبر ہے نقابوں کی قوسیں تھیں ذمے ہمارے جو چہروں پہ سیدھے کیے ہیں کواڑوں کی قوسیں تھیں ذمے ہمارے جو کھلتے نہیں ہیں ہماری بھنووں کی کمانیں دعا میں اٹھے ہاتھ سجدوں رکوعوں کی قوسیں اکڑنے لگی ہیں بدن قوس تھے جو بدلنے لگے ہیں دہن قوس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 805 سے 960