زندگی
مرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر وہ بولی زندگی تو بس یہی ہے
مرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر وہ بولی زندگی تو بس یہی ہے
میرا آنسو مجھے واپس دے دو اب میں آنسو نہ بہاؤں گا کبھی میں یہ موتی نہ لٹاؤں گا کبھی یہ بھی دیکھو کہ ہیں اس بوند میں کیا رنگ چھپے سوچتا ہوں کہ دھنک ہے یہ بھی اس میں ہے خون جگر کی سرخی ہے مرے چہرۂ غم ناک کی زردی اس میں درد کی نیلگوں لہروں کی توانائی ہے دل کے تالاب پہ لہراتی ...
سنڈریلا کی جوتی بھی کھوئی گئی منجمد قصر میں اسنووہائٹ کے فوارہ چالیس فٹ کی بلندی سے موتی لٹانے لگا اپنے ایوان کے مخملی فرش پر ایک مچھیرے کی طماع بیوی بھی شمس و قمر پر حکومت کی امید میں اپنے خوابوں کی دنیا میں تحلیل ہوتی گئی ہنیسؔ اینڈرسن اور گرم بھائیوں کی طرب ناک دنیا کی خاکستر ...
میں خوشبو جسم سمندر آنکھوں کا اک خواب چرا کر لایا تھا میں آگ چرا کر لایا تھا صحرائے وجود کی تنہائی اس خواب سے کتنی شاداں تھی اس آتش لرزاں کی تابش تخلیق کی ضو میں نمایاں تھی مرا خواب وہ میرا پھول بدن مری آگ مرے فردا کا چمن میں خوابوں سے مسرور رہا میں آتش پر مغرور رہا پھر لہر اٹھی ...
وہ جو ایسے سوال ہوتے ہیں ان کے کیا جواب ہوتے ہیں وہ جو خوشبو میں بستے ہیں اور پھولوں میں ہنستے ہیں جن کا سخن سادہ ہوتا ہے اور حرف تازہ ہوتا ہے اک مانوس سی خامشی میں وہ جو ایسے سوال ہوتے ہیں ان کے کیا جواب ہوتے ہیں کبھی ڈھونڈ لو تو آنا پھر مجھے بھی یہ بتانا وہ جو ایسے سوال ہوتے ...
جسے تم حزن کہتے ہو کبھی اس میں ڈوب کر اس کی صحبت اور آشنائیوں سے ہمکنار ہوئے ہو حزن ہمیں خوشیوں سے دور اس دنیا میں لے جاتا ہے جو صرف مسرتوں کے روٹھ جانے سے ملتی ہے وہ مسرتوں کی طرح ارزاں نہیں نہ یہ حزن جگہ جگہ بکھرا ہوا ہے یہ ایک کیفیت ہے جو تیرے میرے دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ ...
میں تو جیسے کھڑا ہوا ہوں اک منزل پر اور لمحے یے وقت کے ٹکڑے یوں اڑتے ہیں چاروں طرف اک تتلی جیسے جس کے پنکھ کبھی تو سنہرے اور کبھی لگتے ہیں سیہ یوں ہی بے معنی بے موقعہ ناچنے لگتی ہے دنیا دل گیت سناتا ہے بنجر دھرتی سے ابلے پڑتے ہیں نور کے چشمے اور اچانک بادل کی چادر سورج کے منہ کو ...
ایک خوشبو سی بسی رہتی ہے سانسوں میں مرے حسن کا دھیان بھی خود حسن کے مانند حسیں پاس ہو تم تو یہ قدرت ہے محبت جاگے دور ہونے پہ بھی احساس کا رہنا ہے یقیں لمحہ ہر ساتھ میں لاتا ہے ہزاروں دنیا بوند کی کوکھ میں جیوں اندر دھنش رہتا ہے کتنے بھی گہرے اندھیرے ہوں تمہارا جادو روشنی بن کے ہر ...
ہر ایک کونے میں ہر کن میں ہے لہو کا سراغ ٹپک رہا ہے لہو آستین قاتل سے جھلک رہا ہے ابھی خوف چشم بسمل سے ہیں خاک پہ نئے دھبے ہیں بام پہ نئے داغ ہر ایک کونے میں ہر کن میں ہے لہو کا سراغ ہوئی ہے آدمیت صرف دین شیطاں پر ہوا ہے صرف لہو تشنگیٔ حیواں پر یہ خون خاک نشینی بنا ہے رزق ستم ہوا ہے ...
کہاں سے آئے یہ احساس میرے کہ اب جو بن گئے وشواس میرے مرے جو زاویہ ہیں زندگی کے مرے جو نظریے ہیں آدمی کے مرے احساس سے پیدا ہوئے ہیں مرے وشواس سے پیدا ہوئے ہیں مگر شاید ہے سچ کچھ بات یہ بھی مری قدریں مرے احساس میرے نظریے بھی میرے اپنے نہیں ہے میرے جو بھی یقیں ہیں وہ میرا گھر نہیں ہے ...