شاعری

جانے کیوں

جب میں تم سے ملتا ہوں بعد ایک مدت کے تم کو اپنا کہنے میں تم سے بات کرنے میں جانے کیوں جھجھکتا ہوں اور سوچتا ہوں میں وقت کے تقاضوں سے تم بدل بھی سکتی ہو ہر دفعہ مگر تم میں وہ ہی اپنا پن پایا وہ ہی سادگی پائی بے تکلفی پائی یہ یقین ہو آیا تم بدل نہیں سکتیں پھر بھی ایسا ہوتا ہے جب میں ...

مزید پڑھیے

آئینے میں خم آیا

دفعتاً یونہی اک دن آئینے میں خم آیا اس طرح وہ بورایا میری خوش نما صورت خوں سے ہو گئی لت پت پینے کانچ کے ٹکڑے ہر طرف چھٹکنے لگے ایک ٹکڑا آوارہ جانے کیسے جا پہنچا یاد کی سواری پر بھولے بسرے ماضی پر بجلی کی طرح چمکا جب وہ جا کے ٹکرایا گمشدہ اک پتھر سے اٹھ گئے بونڈر سے ایک دم یہ یاد ...

مزید پڑھیے

وراثت

جب اندھیرے سے میں ڈر جاتا ہوں اب بھی اکثر تیری انگلی کو پکڑنے کا خیال آتا ہے مسکراہٹ ہو یا آہیں یا خوشی کے آنسو ہر اک احساس کی لذت میں سمایا ہے تو جب ابھرتی ہے رسوئی سے رسیلی خوشبو جب کسی پھول کے چہرہ پہ جمال آتا ہے تیری انگلی کو پکڑنے کا خیال آتا ہے میری آواز زباں اور مرا انداز ...

مزید پڑھیے

گھر واپسی

ٹوپی جنیوو ٹیکہ مالا چھاپ تلک کی جھوٹی ہالا ہیں یہ سب بازار کی چیزیں نقلی اور بے کار کی چیزیں تن من میں گر کوڑھ ہوا ہے کب اوس کو ریشم نے ڈھکا ہے پھیکا ہے ہر ایک لباس دل میں اگر نہیں وشواس کالی سفید اگر ہیں نذریں جیون پہ لگتی ہیں قیدیں پھیکے پھیکے چاند ستارہ اندر دھنش کے رنگ بھی ...

مزید پڑھیے

نیند

نیند آنی ہو تو آ جاتی ہے تیز پنکھا ہو یا بہت دھیما سرد موسم ہو یا بہت گرمی ہاتھ سینہ پہ ہو کہ سر کے تلے ہو اندھیرا یا روشنی تیکھی رات ہو دن ہو شور یا چپی سخت بستر ہو سلوٹوں والا آنکھ جلتی ہو برے سپنوں سے سر پہ منڈلاتی ہو کالی چھایا نیند آنی ہو تو آ جاتی ہے اور جب نیند نہیں آنی ...

مزید پڑھیے

بنیادیں

بکھر گئے ہیں ستارہ بن کے اس ایک سورج کے کتنے ٹکڑے ہر اک ٹکڑا الگ جہاں ہے سرحد کے بندھن میں آسماں ہے زمین کا تو وجود کیا ہے ہر اک کن پہ خدا لکھا ہے ہر اک خدا کا ہے اپنا شجرہ ہر اک شجرے کی اپنی دنیا ہر اک دنیا کے اپنے حصے ہر اک حصہ کے اپنے رشتے ہر اک رشتے میں سو دیواریں ہر ایک دیوار ...

مزید پڑھیے

باسی رشتے

چلو مل جل کے ہم رشتوں کے باسی پن کا حل سوچیں اچانک پھر اسی انداز سے نظریں ملیں اپنی جب ہم نے پہلے پہلے ایک دوجے کو سراہا تھا سہم جائیں یہ اپنی ان تمناؤں کی آہٹ سے دھڑکتے دل سے جب ہم نے کوئی سپنا سجایا تھا وہ ہی بے ساختہ سی سادگی کے پل جئیں پھر سے وفا کا یا جفا کا ذکر تھا نہ نام ...

مزید پڑھیے

میں تو جیسے کھڑا ہوا ہوں اک منزل پر

میں تو جیسے کھڑا ہوا ہوں اک منزل پر اور لمحہ یہ وقت کے ٹکڑے یوں اڑتے ہیں چاروں طرف اک تتلی جیسے جس کے پنکھ کبھی تو سنہرے اور کبھی لگتے ہیں سیہ سوتا یوں ہی بے معنی بے موقعہ ناچنے لگتی ہے دنیا دل گیت سناتا ہے بنجر دھرتی سے ابلے پڑتے ہیں نور کے چشمہ اور اچانک بادل کی چادر سورج کے منہ ...

مزید پڑھیے

سفر

ناامیدی یہ بتاتی ہے کہ شب کی چادر آخری چھور ہے کہ ختم ہوا میرا سفر تیرگی جیت گئی ہار گیا نور نظر دل کے کونے میں تبھی جلتی ہے اک شمع یقیں رات منزل بھی نہیں میل کا پتھر بھی نہیں ایک خاموش سی آواز میں کچھ گاتے ہیں رات کے خواب جو جگنو کی طرح آتے ہیں صبح کے ہونے میں بے نور سے ہو جاتے ...

مزید پڑھیے

روشنائی

کسی گمان کا سایہ نہ شک کی پرچھائیں سراب ہے نہ جھروکہ نظر کی راہوں میں یقین ہے کہ اندھیرا فقط اندھیرا ہے فریب نور کوئی بھی نہیں نگاہوں میں نہ انتظار کے معنی نہ صبر کے پیماں کسی دشا میں افق بھی نظر نہیں آتا سیاہی کالی سہی روشنائی ہے پھر بھی نہ آئے گر کوئی ورق سحر نہیں آتا اندھیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 791 سے 960