شاعری

میز پر رکھے ہاتھ

میز پر رکھے ہیں ہاتھ ہاتھوں کو میز پر سے اٹھاتی ہوں پھر بھی پڑے رہتے ہیں میز پر اور ہنستے ہیں میز پر رکھے اپنے ہی دو ہاتھوں کو ہاتھوں سے اٹھانا مشکل لگتا ہے میں ہاتھوں کو دانتوں سے اٹھاتی ہوں پر ہاتھ نہیں اٹھتے میز پر رہ جاتے ہیں دانتوں کے نشانوں سے بھرے ہوئے ساکت اور گھورتے ...

مزید پڑھیے

یادیں

بہت سنبھال کے رکھیں ہیں ہم نے ان وقتوں کی یادیں جو ہمیں مغموم رکھتے تھے جو اپنے اپنے وقتوں میں ہم پر مسلط رہے ان دنوں میں مصروفیت کے باوجود ہم زندگی کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے خود سے کہہ رہے ہوں ہم نہیں لڑنا چاہتے ان کے ان ارادوں سے جو ہمیں ملیامیٹ کرنا چاہتے ہیں ہم جانتے تھے ان کے ...

مزید پڑھیے

تم مجھے ڈھونڈتے رہے

اور میں تمہیں اس چھپن چھپائی میں ہم یہ ہی بھول گئے ہم کسے ڈھونڈھ رہے تھے ایک بار ہم راستے میں ملے تھے لیکن تم نے مجھے نہیں پہچانا میں بھی بھول گئی کہ میں تم کو ہی تو تلاش کر رہی تھی ہم تلاش کے ایک ہی دائرے میں گھومتے رہے ساری زندگی گزر گئی تم کو یاد ہو شاید نہیں ہم ایک کیفے میں بھی ...

مزید پڑھیے

نقطہ

کہیں سے کوئی نقطہ ایسا آ جائے جو کسی بھی لفظ پر نہ لگایا جا سکے اور وہ نقطہ علیحدہ الگ تھلگ کھڑا رہے کسی بھی گماں کے سہارے اس انتظار میں کہ کوئی ایسا لفظ آ جائے جس پر اسے لگایا جا سکے یہ بھی ہو سکتا ہے وہ نقطہ صدیوں اس لفظ کا انتظار کرتا رہے یہ بھی ہو سکتا ہے صد ہا سال گزر جانے کے ...

مزید پڑھیے

میل اتارنا مشکل لگتا ہے

سارے دن کے میل کو جسم سے اتارنا مشکل لگتا ہے سر کو دن بھر کی دھول سے فارغ کرنا اور پھر گردن کے کالے دائرے کو ہلکا کرنا صابن کے بلبلوں سے پھر آہستہ آہستہ ان گولائیوں کی طرف بڑھنا جن پر میل کبھی نہیں چڑھتا ذرا سی ترچھی ایک طرف کو جھکی ہوئی سدا کی چمکی چمکائی انہیں میں اب نہیں ...

مزید پڑھیے

دن

دن گزرتے ہیں دن کیسے گزرتے ہیں یوں تو سب ہی دن گزر جاتے ہیں جو زندہ ہیں وہ تو گزارتے ہیں ذلیل ہوتے ہوئے کبھی بھوک کے ہاتھوں کبھی چاروں طرف پھیلی ان وباؤں کی سر پرستی میں جو خدا بن جاتی ہیں سفاک بے رحمی کے لباس میں گھروں کی منڈیروں پر چلتی ہیں چھلاووں کی طرح چباتی ہیں ماؤں کے ...

مزید پڑھیے

گنتی

میں اپنے لان میں بیٹھی ہوں گرتے ہوئے پتوں کو گن رہی ہوں اپنی انگلیوں کو پوروں پر اک، دو، تین ان گنت پتے میں کمرے میں بیٹھی ہوں خبریں سن رہی ہوں میری گنتی میں شامل ہو جاتی ہیں وہ لاشیں جو درختوں سے نہیں گر رہی ہیں لاشوں کی گنتی پتوں کی گنتی سے بڑھ جاتی ہے

مزید پڑھیے

جلا وطن ہونے سے پہلے

اس خبر کے آنے کے بعد میں اپنے گھر کی کھڑکیاں بند کرتی ہوں بجلی کے تار سوئچ آف کر دیتی ہوں فریج میں رکھا کھانا پڑوس میں دے دیتی ہوں بچا ہوا دودھ گلی کی بلی کے آگے ڈال دیتی ہوں اور ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیتی ہوں تمام دروازے لاک کر کے سڑک پر نکل جاتی ہوں دوپہر سے پہلے یا رات کے کسی ...

مزید پڑھیے

مجھے تقسیم کر دو

اپنی زبان مرے ماتھے سے مری ناک کی سیدھ پر نیچے کی طرف آہستہ آہستہ لے کر چلو ہاں ایسے یوں بہت آہستہ بالکل چیونٹی کی طرح رینگتی ہوئی تمہاری زبان مرے جسم کے بیچوں بیچ جیسے تم مجھے آدھا کر رہے ہو پیٹ کے ابھار سے ہوتے ہوئے ناف کے ابھار سے ہوتے ہوئے ناف کے راستے سے پیڑو کے ابھار پر ٹھہر ...

مزید پڑھیے

جب جدائی کی چوکھٹ پر محبت اپنا سر پٹکنے لگے

تو کیا کرنا چاہیے دروازے اور کھڑکیاں بند کر دینی چاہئے اور ایک مفرور قیدی کی طرح فٹ پاتھوں اور گلی کوچوں میں منہ چھپائے پھرنا چاہیے یا دل بھلانے کے لیے ونڈو شاپنگ کرنی چاہیے یا پھر کسی بار میں بیٹھ کر ایک قدح ریڈ وائن پینی چاہیے نہیں نہیں کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ کے نام کی ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 753 سے 960