شاعری

میری آہٹ

میری آہٹ گونج رہی ہے دنیا کی ہر راہ گزر میں اوشا میرے نقش قدم پر خوشبو کی پچکاری لے کر رنگ چھڑکتی جاتی ہے سورج کے البیلے مغنی جنبش پا کے سرگم پر سنگیت سناتے جاتے ہیں سجی سجائی شام کی دلہن شب کی سیہ اندام ابھاگن میرے من کی نازک دھڑکن ایک ہی تال پہ لہراتی ہیں چنچل لہریں سرکش ...

مزید پڑھیے

ہیولیٰ

مہ و سال کے تانے بانے کو زریں شعاعوں کی گل کاریاں میری نظروں نے بخشی ہیں آفاق کے خد و خال بہار آفریں میں مرے خوں کی سوغات شامل ہے ہر وسعت بے کراں میں مری دھڑکنیں گونجتی ہیں ہر اک لمحہ کوئی نہ کوئی بگولہ اٹھا اور مرے نقش پا کو مٹانے کی دھن میں چلا لیکن آواز پا کی گرجتی گھٹاؤں ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

ذروں کے دہکتے ایواں میں دو شعلہ بجاں لرزاں سائے مصروف نزاع باہم ہیں اڑ اڑ کے غبار راہ عدم ایواں کے بند دریچوں سے ٹکرا کے بکھرتے جاتے ہیں کہرے میں پنپتی سمتوں سے نازاد ہواؤں کے جھونکے نادیدہ آہنی پردوں پر رہ رہ کے جھپٹتے رہتے ہیں اک پل دو پل کی بات نہیں ذروں کے محل کی بات نہیں ہر ...

مزید پڑھیے

صفر

گہری نیند میں سارے عناصر بکھر گئے بچی کھچی پونجی کو سوا نیزے کا سورج چاٹ گیا مجھ سے حساب طلب کرتے ہو میں تو ایک عظیم صفر ہوں

مزید پڑھیے

تسمۂ پا

کب سے یہ بار گراں اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے تنہا تنہا گشت کرتا ہوں میں حیراں حیراں میں نے ہر چند چھڑانا چاہا اور مضبوط ہوئی اس کی گلو گیر گرفت اور سنگین ہوا جسم جواں پر پہرہ سامنے فاصلۂ لامتناہی دل میں سیکڑوں من چلے ارمانوں کے رنگین چراغ جن کی خوشبو سے معطر ہے دماغ جن سے ممکن ...

مزید پڑھیے

سفر مدام سفر

زمانے کے کوہ گراں کی سرنگوں میں جلتی ہوئی مشعلیں لے کے شام و سحر ڈھونڈھتا ہوں کہ کوئی کرن کوئی روزن کوئی موج باد تازہ جو مل جائے میں ماورائے نظر کی جھلک پا سکوں اس بھیانک اندھیرے میں گھٹتے ہوئے جی کو بہلا سکوں میں جب پہلی بار ان سرنگوں میں داخل ہوا تھا مجھے کیا خبر تھی یہاں سے ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

میں ایک پتھر میں ایک بے جان سرد پتھر جمود بے گانگی کا مظہر ازل سے حد نظر کو تکتی ہوئی نگاہیں خلا میں لٹکی ہوئی یہ باہیں زمیں مجھے ساتھ لے کے دشوار منزلیں لاکھوں گھوم آئی کروڑوں راہوں کو چوم آئی فلک کے ساحر نے کتنے افسون مجھ پہ پھونکے مرے پس و پیش ٹمٹماتے دیے جلائے دھوئیں کے گہرے ...

مزید پڑھیے

تیاگ کے پتھر

دریا کے بیچ کھڑا تیاگ اور موکش کے خواب دیکھ رہا ہوں تارک الدنیا علائق سے محفوظ علائق سے آزاد لہریں جب پاؤں چھوتی ہیں یاد آتا ہے برگد کا گھنا پیڑ موسموں کی گردش بے سمت ہواؤں کے سرد گرم تھپیڑے دھیان لوٹ آتا ہے گھر کے برگد کی محافظ چھاؤں کی جانب سنہری دھوپ کی سبز اوٹ مکتی کے دوار مجھ ...

مزید پڑھیے

تمہارے نام لکھتا ہوں

سنہری دھوپ کا منظر گئے موسم کی شادابی شفق کی ریشمی گرہیں چاند کے پہلو میں لپٹی سبز شاخیں کسی ٹوٹے ہوئے تارے کی دھندلی سی لکیریں نقش جن کے ریت پر بہتے رہے برسوں سفر کی دائمی خوشبو میں جس کی آرزو لے کر تمہارے پاس آیا تھا کتاب دل کی وہ دھڑکن تمہارے نام لکھتا ہوں پروں پر تتلیوں کے ...

مزید پڑھیے

سکوت شب

فضائے زیست پہ چھائی ہے کیسی خاموشی نہ کوئی شور نہ شیون نہ گریہ و زاری نہ کوئی شکوہ بہ لب ہے نہ کوئی فریادی نہ کوئی درد کا قصہ نہ کوئی ذکر الم نہ سسکیوں کا کوئی ارتعاش ژولیدہ نہ دود آہ و فغاں کی کوئی گرانباری نہ کوئی حرف الم ہے نہ استعارۂ غم نہ کوئی قطرۂ خوں ہے سیاہیٔ قرطاس ستم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 752 سے 960