شاعری

سیلف پورٹریٹ

ایک بہت عجیب اور گہری شام میں میں نے زخمی پرندے کو دیوار کی منڈیر پر سستاتے ہوئے دیکھا اس کی آنکھیں نکلی پڑ رہی تھیں اور زبان باہر نکل آئی تھی میں نے اس سے پہلے بھی ایسا منظر کہیں دیکھا تھا میری یاد داشت بہت خراب ہے مجھے کچھ یاد نہیں رہتا ہاں نئے منظروں سے ملتا جلتا کوئی پرانا ...

مزید پڑھیے

نہیں کہیں بھی نہیں

زندگی ملتی ہے لیکن منہ چھپا کر ہم اس کا منہ ٹٹولتے ہیں کیا یہی ہے زندگی لیکن نہیں وہ بہت مکاری سے ہم سے منہ موڑ کر چلی جاتی ہے چھوڑتی ہے اپنے پیچھے ایک لکیر ہماری خوشیوں کو لپیٹ کر یہ جا وہ جا ہم اس لکیر کے پیچھے بھاگتے ہیں بھاگتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ہم خود کو بھی کھو بیٹھتے ہیں رہ ...

مزید پڑھیے

یہ بوسے

تم مجھے مقروض کر دیتے ہو اپنے بوسوں سے مرا بال بال بندھ گیا ہے اس قرضے میں روز بلا ناغہ یہ بوسے جیسے اپنی یاد داشت کھو دیتے ہیں جب آہستہ آہستہ میں اپنی انگلیاں پھیرتی ہوں ان کے ثبت کیے ہوئے نشانوں پر یہ میری پوروں پر اپنی کوئی لمس نہیں چھوڑتے ان کی گرم جوشی اور تپش میرے چہرے پر ...

مزید پڑھیے

یہ دماغ

یہ دماغ سوتا ہی رہتا ہے میلے ملگجے کپڑوں کی گٹھری ایک اونگھتا ہوا کاہل وجود نشے کی عادت سے بے کار یہ دماغ سوتا ہی رہتا ہے اہم کانفرنسوں میں خاص مجلسوں میں کوئی حادثہ ہونے والا ہو یا کوئی تبدیلی آنے والی ہو کونے میں گمڑی مارے پڑا رہتا ہے سوچے ہوئے ایک عرصہ ہوا معدے میں جلن ہوتی ...

مزید پڑھیے

ٹوٹی ہوئی رسی

اب وہ سفر میں ساتھ لے جانے والے بستر بند کے کام آتی ہے اور کبھی کبھی بچے اپنی ٹوٹی ہوئی بے پہیوں کی گاڑی سے اسے باندھ دیتے ہیں بہت دن پہلے وہ دو دلوں سے بندھی تھی جب چیونٹیاں دکھاتی تھیں اس پر اپنی بازی گری منہ میں غذا دبائے ادھر سے ادھر اٹھلاتی ہوئی کبھی کبھی پرندے اپنی اپنی ...

مزید پڑھیے

وحشتیں

وحشتیں ادھم مچاتی ہیں وہ جب چاہتی ہیں ہمیں ہلکان کرنے آ جاتی ہیں کبھی دروازوں سے کبھی کھڑکیوں سے کبھی روشن دان کی اس روشنی سے جن سے ہمارے بچے کبھی کھیلتے تھے ہمیشہ افسردگی کی چادر ہم یوں بھی اوڑھے رہتے ہیں اور منہ چھپائے پڑے رہتے ہیں کہیں کوئی نئی واردات ہماری تاک میں نہ ہو کہیں ...

مزید پڑھیے

سمندر کی خوشبو

سمندر کی خوشبو میرے پیٹ میں گھل رہی ہے وہ ذرا فاصلے پر ہی بچھا ہے اور خاموشی سے آسمان کو خود کو تکتے ہوئے دیکھ رہا ہے میں ایک کمرے میں سرخ قالین پر یوگا آسن کرتے ہوئے آنکھیں موندے اپنے دل کی آواز سن رہی ہوں جو آج سکون سے ہے جیسے کوئی بہت تھک کر سویا ہو وسوسوں کے درمیان سے نکل کر میں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

رات ابابیلوں کے پروں سے نکل رہی ہے تم مجھ سے قریب ہو اور میرا سفر سمندر میں اس کشتی کی طرح ہے جس کے چپوؤں کی آوازیں اس کا پیچھا کر رہی ہیں اب چاہت تمہارے بازوؤں سے نکل کر درندوں کی آوازیں بن رہی ہے اپنے بازو کھول دو!

مزید پڑھیے

خالی بنچ

ایک وقت ایسا آئے گا کہ میں یہ سب بھول جاؤں گی اس وقت کی سنگینی بھی جس میں میرا دل ایک گاڑھے دکھ سے بھر گیا تھا اور میں اس سفید بنچ کی طرح رہ جاؤں گی جو خالی پڑی ہے اس ارادے سے کہ میں اس پر بیٹھوں اور آگے دیکھوں آگے جہاں پانی کے قطرے خام مال کی طرح پڑے ہیں ہوا کا لباس بننے کے لیے

مزید پڑھیے

آخری رسومات کے دوران

تمہیں یاد ہے محبت کی آخری رسومات کے دوران تنہائی کے ایک جنگل میں میں نے تمہیں محبت کا آخری تحفہ بھی دیا تھا میرے کنوارے پن کی خوشبو تمہارے پسینے میں گندھ گئی تھی وہ شام پہلے بوسے سے شروع ہوئی تھی اور اندھیرے کی نذر ہو گئی تھی لیکن محبت بے ساختگی کے اس وار پر خوش تھی محبت اپنی جیت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 754 سے 960