شاعری

پیارا پیارا گھر اپنا

وہ چین کہاں اپنے گھر کا وہ بات کہاں اپنے گھر کی پیارا پیارا گھر اپنا وہ راج کہاں اپنے گھر کا وہ رات کہاں اپنی گھر کی آنکھوں کا تارا گھر اپنا سکھ چین اگر دنیا میں ہے اپنے ہی گھر میں ملتا ہے سکھ کا سہارا گھر اپنا دکھ درد کی گر کوئی دوا ہی اپنے ہی گھر کی سوا ہے دکھ کا مداوا گھر ...

مزید پڑھیے

ننھا غاصب

مرے گھر کی دیوی کے بالائے سینہ کھلا ہے محبت کا تازہ کنول درخشندہ جیسے سر شام زہرہ افق پر سمندر کے آئے نکل وہ ہاتھوں پہ اپنے کھلاتی ہے اس کو وہ پیروں پہ اپنے جھلاتی ہے اس کو وہ رکھتی ہے آنکھوں میں پتلی بنا کے وہ سوتے میں روتا جو اٹھ بیٹھتا ہے تو بوسوں سے موتی سے آنسو وہ ...

مزید پڑھیے

ادھورا ٹکڑا

کیوں مجھے تیری چاہ ہے اس کو کیوں پوچھئے جس کی بوجھن کچھ نہیں اس کو کیا بوجھئے تجھ میں لاکھوں خوبیاں کیوں کر کوئی گنائے مرتے ہیں کس بات پر کیوں کر کوئی بتائے صورت تیری موہنی من میں کھب کھب جائے جوبن تیرا جوش پر دل میں آگ لگائے چال چھبیلی مست سی ایک قیامت ڈھائے بات سریلے گیت ...

مزید پڑھیے

مسافر

وہ اچانک چل دیا گویا سفر تھا مختصر زندگی بھر جو سفر کرتا رہا چلتا رہا چھاؤں میں افلاک کی پلتا رہا ڈھلتا رہا پاس جو پونجی اجالوں کی تھی سب کچھ بانٹ کر راہ کے بے مایہ ذروں کو بنا کر آفتاب خود سے لا پروا زمانے کی نظر سے بے نیاز زہد سے فطری لگاؤ دل میں توقیر حجاز جانے کیوں اس کو ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں

اور میں چاندنی رات میں سو گیا دیکھتا کیا ہوں پھیلی ہوئی چاندنی کے کنارے کنارے کئی برق رفتار پرچھائیاں جانے کب سے تعاقب کناں سمت نا آشنا کی طرف ہیں رواں اور میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا راہگیروں سے دامن بچاتا ہوا حد آفاق سے جب گزرنے لگا دیکھتا کیا ہوں اک بے کراں بحر ہے آسماں سے زمیں ...

مزید پڑھیے

ہر آئینہ اک عکس نو ڈھونڈتا ہے

ہر آئینہ اک عکس نو ڈھونڈتا ہے سمندر کی لہریں ہوں یا دشت کی ان گنت پتیاں سب یہی سوچتی ہیں کہ کوئی نئی روح ان میں سما جائے اڑتے ہوئے ابر پارے مسلسل طلوع سحر سے نمود شفق تک کوئی سمت نو ڈھونڈتے ہیں افق تا افق چاندنی رات کے دامن بے کراں میں نئی ساعتوں کے نشاں ڈھونڈھتی ہے تلاش مسلسل کی ...

مزید پڑھیے

کہانی

بڑی لمبی کہانی ہے سنو گے؟ سحر کی آنکھ کھلنے بھی نہ پائی تھی مرے ترکش نے لاکھوں تیر برسائے شعاعوں کے کسی نے آفتابانہ ہر اک ذرے کو چمکایا کسی نے ماہتابی چادریں ہر سمت پھیلائیں کوئی جگنو کی صورت جھلملایا انہیں بکھرے ہوئے تیروں کے زیر سایہ میں چلتا رہا ہر موڑ پہ کوئی نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

قصۂ درد

چاند نے مسکرا کر کہا دوستو قصۂ درد چھیڑے سر راہ کون پھر بھی تارے مصر تھے کہ ہم آج کی شب سنیں گے وہی ان سنی داستاں دیر تک چاند سوچا کیا دور آفاق کی سمت دیکھا کیا اور تاروں کی آنکھیں چھلکتی رہیں رات کے دامن تر کو آہستہ آہستہ لمحوں کا ٹھنڈا لہو جذب ہو ہو کے رنگین کرتا رہا ناگہاں ایک ...

مزید پڑھیے

یاد

شب کی چادر اوڑھ کر آئی ہے لمحوں کی مہکتی دھول میں لپٹی ہوئی میری جانب دھیرے دھیرے بڑھ رہی ہے اور میں اپنے بستر خاشاک و خس پر نیم وا آنکھوں سے دھندلی روشنی کو دیر سے تکتا ہوا دم بخود ہوں جھلملاتی سوچ میں کھویا ہوا وہ قریب آتی ہے میری سانس میں شعلے جگاتی ہے مری دھڑکن کی لے کو کر ...

مزید پڑھیے

مراجعت

دہکتے سورج کا سرخ چہرہ لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے خلا میں سیارے بکھرے بکھرے ہیں جوف افلاک پھٹ پڑا ہے پہاڑ دھنکے ہوئے فضاؤں میں تیرتے ہیں اتھاہ ساگر کف دہن سے سلگتے لاوے اگل رہے ہیں کوئی مرے منتشر عناصر کو پھر سے پہلا سا روپ دے کر کشاں کشاں لے چلا ہے گویا جھلس رہا ہے بدن مری ہڈیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 751 سے 960