شاعری

پرندہ

پرندہ آسماں کی نیلگوں محراب کے اس پار جاتا ہے پرندہ بال و پر ہے آنکھ ہے لیکن سنہری چونچ سے پرواز کرتا ہے سڑک پر دھوپ ہے اور دھوپ میں سایوں کے ناخن ہیں گھروں میں خول ہیں اور آنگنوں میں خار اگتے ہیں کسی کا کون ہے کوئی نہیں سب اجنبی ہیں حیرت و حسرت میں زندہ ہیں وہ عورت ہے وہ خواہش کے ...

مزید پڑھیے

تشدد

اس کمرے کی ترتیب سے میں مانوس تھا اس کی ہر شے سے پتھر سے دیواروں سے چھوٹی چھوٹی چیزوں اور کتابوں سے مترنم آوازوں سے شور مچاتے ہنستے گاتے گاہے گاہے لمحہ بھر کو چپ ہو جاتے اپنے اپنے آسماں سے تنہائی میں سکھ اور دکھ کی باتیں کرتے لوگوں سے ننھی منی سرگوشی میں جادو بھرتی گڑیا سے رنگ ...

مزید پڑھیے

احمدآباد

آگ کا ذائقہ ہر زباں پر سلگتا ہوا زخم تھا رات کا آہنی در سمندر کی جانب کھلا آگ ہی آگ تھی قطرۂ آب پر کار سا خواب تھا رات کا آہنی در جہنم کی جانب کھلا راستوں نے کہا کیوں ہجوم فراواں کا انجام عبرت ہوا کون عبرت کے احساس کو مانتا موت کو زندگی زندگی کو جہنم فسانہ تمسخر کا حیرت ہوا ہم سفر ...

مزید پڑھیے

جنگ

تیرگی میں بھیانک صدائیں اٹھیں اور دھواں سا فضاؤں میں لہرا گیا موت کی سی سپیدی افق تا افق تلملانے لگی اور پھر ایک دم سسکیاں چار سو تھرتھرا کر اٹھیں ایک ماں سینہ کوبی سے تھک کر گری اک بہن اپنی آنکھوں میں آنسو لیے راہ تکتی رہی ایک ننھا کھلونے کی امید میں سر کو دہلیز پر رکھ کے سوتا ...

مزید پڑھیے

ایمبولنس

جو مجھ کو لائی تھی سکون گاہ میں وہ ایک تھی سپید، صرف ایک، اس کے پہلوؤں، جبین اور پشت پر صلیب کے نشان تھے میں چور چور اک عظیم گھاؤ تھا وہ مجھ کو دست مہرباں میں سونپ کر چلی گئی تو میں غنودگی کی بے کراں مہیب دھند میں بھٹک گیا ہر ایک رہگزر پہ گاڑیوں بسوں کا کارواں امنڈ پڑا عجیب انقلاب ...

مزید پڑھیے

یہ زرد بچے

گھروں کی رونق یہ زرد بچے پڑھیں لکھیں گے جوان ہوں گے معاش کی فکر ان کی قسمت تلاش فردا حیات ان کی یہ رہ گزاروں پہ اپنے موہوم خواب لے کر پھرا کریں گے یہ گھر بنائیں گے شادیانے بجائیں گے آنے والے رنگیں دنوں کی خاطر یہ چند لقموں کی زندگی کا مآل سمجھیں گے حسب دستور عمر بھر ان کو انگلیوں ...

مزید پڑھیے

ننھا شہسوار

شہسوار ننھا منا شہسوار ایستادہ ہے خمیدہ پشت پر میری جوں ہی جھکتا ہوں وہ ترغیب دیتا ہے مجھے چلنے کی آوازوں کی سرگم سے میں چلتا ہوں میں واماندہ قدم چلتا ہوں وہ مہمیز کی جنبش سے کہتا ہے کہ دوڑو اور دوڑو، تیز تر، سرپٹ چلو باد نغمہ کار سے باتیں کرو اس کا میں رخش رضا تیز تر کرتا ہوں ...

مزید پڑھیے

چوہوں کا شہر

چوہوں نے اک شہر بسایا بے حد عالی شان اپنے شہر کا نام انہوں نے رکھا چوہستان چوہستان کا نام سنا تو خالد اور عرفان اک دن اک بلی کو لے کر پہنچے چوہستان دیکھ کے بلی کو چوہوں کے خطا ہوئے اوسان بھاگ گئے جب سارے چوہے چھوڑ کے چوہستان لے کر خوش خوش گھر کو لوٹے خالد اور عرفان چوہستان کے ...

مزید پڑھیے

کوے کی چوری

جنگل میں جا کر کوے نے کوئل کا اک گیت چرایا گیت چرا کر جنگل سے وہ صبح سویرے گاؤں میں آیا گاؤں میں آتے ہی کوے نے آنگن آنگن شور مچایا جنگل سے جو گیت چرا کر لایا تھا وہ سب کو سنایا کوے نے کوئل کا گانا جب اپنی آواز میں گایا سن کر اس کی کائیں کائیں سب نے اس کو مار بھگایا

مزید پڑھیے

بتلاؤ نہ دادی جان

آدھی آدھی رات کو یہ مرغا کیوں دیتا ہے اذان کالی کلوٹی کوئل کی کیوں میٹھی لگتی ہے تان آسمان میں دن بھر یہ کیوں بھرتی ہے چیل اڑان بلی رات کے وقت ہی کیوں لیتی ہے چوہوں کی جان دن بھر یہ سوتے رہنا کیوں ہے الو کی پہچان ندی کنارے بگلا کیوں روز لگاتا ہے یہ دھیان گرگٹ چڑھتی دھوپ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 743 سے 960