پرندہ
پرندہ آسماں کی نیلگوں محراب کے اس پار جاتا ہے پرندہ بال و پر ہے آنکھ ہے لیکن سنہری چونچ سے پرواز کرتا ہے سڑک پر دھوپ ہے اور دھوپ میں سایوں کے ناخن ہیں گھروں میں خول ہیں اور آنگنوں میں خار اگتے ہیں کسی کا کون ہے کوئی نہیں سب اجنبی ہیں حیرت و حسرت میں زندہ ہیں وہ عورت ہے وہ خواہش کے ...