شاعری

لاسٹ کال

کل ہمیشہ کی طرح اس نے کہا یہ فون پر میں بہت مصروف ہوں مجھ کو بہت سے کام ہیں اس لیے تم آؤ ملنے میں تو آ سکتی نہیں ہر روایت توڑ کر اس بار میں نے کہہ دیا تم جو ہو مصروف تو میں بھی بہت مصروف ہوں تم جو ہو مشہور تو میں بھی بہت معروف ہوں تم اگر غمگین ہو میں بھی بہت رنجور ہوں تم تھکن سے چور تو ...

مزید پڑھیے

وشال دیش

نشریہ آل انڈیا ریڈیو بھوپال اندور ۸ جولائی ۶۸ سجی ہوئی گلوں سے یہ حسین وادیاں یہ سبزہ زار خوش نما ہری بھری یہ کھیتیاں یہ نہریں جن میں زندگی بھرے ہوئے ہے مستیاں یہ جھلملاتی ندیاں یہ مسکراتی ندیاں یہ گاؤں گاؤں شہر شہر سورگ کے سمان ہیں میرے عظیم دیش کی یہ بستیاں مہان ہیں جگہ جگہ ...

مزید پڑھیے

میرا وطن میرا چمن

ایثار کا یہ گلستاں جمہوریت کا پاسباں امن و اہنسا کا نشاں باپو کا خوں جس میں رواں میرا وطن ہندوستاں میرا چمن جنت نشاں میرے وطن کے بام و در یہ روشنیوں کے نگر یہ جگمگاتی ہر ڈگر ہنستے ہوئے شام و سحر یہ بستیاں یہ وادیاں ہے زندگی جن میں رواں میرے وطن کی شان ہیں میرے چمن کی شان ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

پیار کا سنگم

یہ وہ گلشن ہے جس میں پھول کھلتے ہیں اہنسا کے اسی کی گود نے پر امن انسانوں کو پالا ہے یہ وہ دھرتی ہے جس میں ویرتا پروان چڑھتی ہے اسی کی گود نے ویروں کو بلوانوں کو پالا ہے اسی کی کوکھ نے پیدا کیا ہے ان جوانوں کو جو اپنی آن اپنے بانکپن کی لاج رکھتے ہیں وطن کی آبرو پر گر ذرا بھی آنچ آتی ...

مزید پڑھیے

کھلونے

(تیسری دنیا کے تمام لوگوں کے نام) عجب حادثہ ہے کہ بچپن میں ہم جن کھلونوں سے کھیلے تھے اب وہ کھلونے ہمارے ہی حالات سے کھیلتے ہیں وہ نازک مجسمے وہ رنگین گڑیائیں طیارے پستول فوجی، سپاہی کبھی جو ہمارے اشاروں کے محتاج تھے آفریں تجھ پہ معیار گردش! کہ اب وہ کھلونے ہمیں چابیاں بھر رہے ...

مزید پڑھیے

شفافیاں

ہمیں تم مسکراہٹ دو تمہیں ہم کھلکھلاتے روز و شب دیں گے یہ کیسے ہو کہ تم بوچھاڑ دو تو ہم تمہیں جل تھل نہ دے دیں اور صحراؤں کو فرش آب نہ کر دیں ہمارا دھیان رکھو تم تمہیں دنیا میں رکھیں گے ہم اپنی آرزؤں کی یہ کیسے ہو کہ تم سوچا کرو اور ہم تمہاری سوچ کو تجسیم نہ کر دیں مروج چاہتوں کے بے ...

مزید پڑھیے

خود رو دلیلیں

وہ کیا تھا قہقہہ تھا چیخ تھی چنگھاڑ تھی یا دہاڑ تھی؟ اس نے سماعت چیرتی آواز کا گولا اترتی رات کی بھیگی ہوئی پہنائی میں داغا تو میرے پاؤں کے نیچے زمین چلنے لگی یہ تم نے کیا کیا؟ میری دبی آواز نے پوچھا تو وہ اک گھونٹ پانی سے پھٹی آواز کو سی کر کسی اندھے کنویں کی تہہ سے بولا مجھے جب ...

مزید پڑھیے

تنہائی مجھے دیکھتی ہے

یہ ہوتا ہے کوئی مانے نہ مانے یہ تو ہوتا ہے کسی پھیلے ہوئے لمحے کسی سمٹے ہوئے دن یا اکیلی رات میں ہوتا ہے سب کے ساتھ ہوتا ہے بدن کے خون کا لوہا خیالوں کے الاؤ میں ابل کر سرخ نیزے کی انی کو سر کی جانب پھینکتا ہے اور پھر شہتیر گر جاتا ہے جس پر خود فریبی پتلی اینٹوں کی چنائی کرتی رہتی ...

مزید پڑھیے

پچاسی سال نیچے گر گئے

ضعیفی کی شکن آلود چادر سے بدن ڈھانپے وہ اپنی نوجواں پوتی کے ساتھ آہستہ آہستہ سڑک کے ایک جانب چل رہا تھا گماں ہوتا تھا جیسے دھوپ کے کاندھے پہ چھاؤں ہاتھ رکھے چل رہی ہے چیختی ایڑیوں پر کڑکڑاتی ہڈیاں گاڑے ہوئے وہ جسم کا ملبہ اٹھائے جا رہا تھا اگرچہ پاؤں جنبش کر رہے تھے مگر بوڑھی کمر ...

مزید پڑھیے

شام کے دن رات

شام میں غار تھا غار میں رات تھی رات کے نم اندھیرے میں اک اجنبیت کا احساس تھا چلتی سانسوں کی ہلتی ہوئی سطح پر وقت کی ناؤ ٹھہری ہوئی تھی سنسناتے ہوئے نم اندھیرے میں پوریں دھڑکنے لگیں غار میں محو پرواز پلکوں کے پنچھی الجھنے لگے غار میں شام تھی چند لمحوں میں صدیاں بسر کر کے جب غار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 73 سے 960