شاعری

خاکے

(سچے لوگوں کے نام) عجیب ماں ہو تم اپنے بچوں کو مارتی ہو تو اس خطا پر کہ وہ حکومت کی وحشتوں کے خلاف نکلے جلوس کے ساتھ جا رہے تھے تم اب پریشان ہو رہی ہو میں آنے والی گھڑی کے بارے میں سوچتا ہوں جب ایک موسم کئی کئی سال تک رہے گا تم اپنے ہاتھوں سے مرے شانے ہلا ہلا کر کہو گی باہر نکل کے ان ...

مزید پڑھیے

آباد ویرانیاں

وہ دستکیں جو تمہاری پوروں نے ان دروں میں انڈیل دی ہیں وہ آج بھی ان کے چوب ریشوں میں جاگتی ہیں تمہارے قدموں کی چاپ چپ ساعتوں میں بھی ایک ایک ذرے میں بولتی ہے تمہارے لہجے کے میٹھے گھاؤ سے آج بھی میرے گھر کا کڑیل چٹان سینہ چھنا ہوا ہے کوئی نہ جانے کہ ہنستے بستے گھروں کے اندر بھی گھر ...

مزید پڑھیے

فارغ

GABRIEL GARCIAMARCUEZ کے انداز میں) جب وہ پیدا ہوا تو اس کی دونوں آنکھیں دہک رہی تھیں دونوں پپوٹے پھٹے ہوئے تھے پتلی کی دیوار سے لٹکے آنکھوں کے پردے آگے سے ہٹے ہوئے تھے جب اس کی آنکھیں ہلتیں تو دیواروں پہ ان کی لو ہلنے لگتی تھی وہ پیدا ہونے سے پہلے سارے دھونے دھو آیا تھا اپنے جنم کا سارا ...

مزید پڑھیے

صفا مروہ

صفا مروہ صفا و مروہ کے درمیاں دوڑتی امنگو تمہیں خبر ہے تمہارے اجداد کے نقوش برہنہ پائی تمہارے قدموں کے نقش گر ہیں تم اپنے قدموں کی پیروی میں رواں دواں ہو خود اپنا عرفان ڈھونڈتے ہو ہجوم میں چل کے اپنی بقاء کا سامان ڈھونڈتے ہو دلوں کے اصنام ریزہ ریزہ تم اپنے قدموں پہ چل رہے ہو دلوں ...

مزید پڑھیے

پس دیوار زنداں

پس دیوار زنداں پس دیوار زنداں کون رہتا ہے ہمیں معلوم کیا ہم تو اسی اک آگہی کی آگ میں جلتے ہیں مرتے ہیں کہ دن کو رات کرتے ہیں کبھی اک روشنی تھی اور ستاروں کی چمک تھی تازگی تھی مگر اب باب زنداں وا نہیں ہوتا ہراساں شام کی تنہائیاں ہیں ہمیں اب کیا خبر کون رہتا ہے پس دیوار زنداں کون ...

مزید پڑھیے

خوف نامہ

ناف کٹتی ہے زخم جلتا ہے خوف دھڑکن کے ساتھ چلتا ہے ہر رگ جاں میں سرسراتا ہے سانس کے ساتھ آتا جاتا ہے کھال کو چھال سے ملاتی ہے سنسنی رونگٹے بناتی ہے طاق جاں میں چراغ رکھتا ہے خوف وحشت کا تیل چکھتا ہے سجدۂ غم میں گر گیا زاہد سرسراتی جبیں میں خوف لیے ہو گیا انگبین سے نمکین ذائقہ آستیں ...

مزید پڑھیے

ہم شاعر ہوتے ہیں

ہم پیدا کرتے ہیں ہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیں تو شکلیں بنتی ہیں ہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیں جو مٹی تھے وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیں ہم شاعر ہوتے ہیں کنعان میں رہتے ہیں جب جلوہ کرتے ہیں تو ششدر انگشتوں کو پوریں نشتر دیتی ہیں پھر خون ٹپکتا ہے جو سرد ...

مزید پڑھیے

علاج بالمثل

نشتر زخم لگاتا ہے تو نشتر سے کھلواتا ہوں سلواتا ہوں پھنیر نیل اتارتا ہے تو منکے میں رسواتا ہوں کھنچواتا ہوں پانی میں گرمی گھولتا ہے تو پانی کا ٹھنڈا پیالہ منگواتا ہوں جب شب زندہ داری میں مے چڑھتی ہے تو صبح صبوحی کی سیڑھی لگواتا ہوں عورت چرکا دیتی ہے تو عورت کو بلواتا ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کیا لکھیں

سماعتیں بین کر رہی ہیں کہ لوگ ہر چند بولتے ہیں مگر کچھ ایسے کہ جیسے ان کی زبان و لب کے وہ سارے حصے جو برملا گفتگو کی سچی ادائیگی کے لیے بنائے گئے تھے مفلوج ہو گئے ہیں بصر خراشی کی انتہا ہے کہ ساری باتیں جو ان کہی ہیں تمام چہروں کی لوح محفوظ پر لکھی ہیں کوئی بتاؤ کہ جب کسی کی زبان ...

مزید پڑھیے

دعا

دعا دور تک ایک خلا لب پہ ہے حرف دعا دشت محروم صدا کوئی آواز نہ رنگ کوئی خواہش نہ امنگ دل میں اک سرد سی جنگ آنکھ سے اشک رواں کشش باغ جناں میری اوقات کہاں اپنی آواز کا ڈر شعلۂ ساز کا ڈر دل کے ہر راز کا ڈر ہر طرف جلوہ فگن ایک خاموش کرن ہر فشاں روح کہ تن آج کیسے ہو بیاں تجھ پہ ہر بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 74 سے 960