موت بھی رحم کے قابل ہے
رات دن موت ہے مصروف مشقت مرے اجداد کی مانند کہ جو ایڑیاں گھس گھس کے جئے اور مرے زندگی رحم کے قابل یہ تسلیم مگر موت بھی کتنی شکستہ ہے ذرا دیکھو تو
رات دن موت ہے مصروف مشقت مرے اجداد کی مانند کہ جو ایڑیاں گھس گھس کے جئے اور مرے زندگی رحم کے قابل یہ تسلیم مگر موت بھی کتنی شکستہ ہے ذرا دیکھو تو
کھیت پیاسے ہیں فضا ہانپتی ہے جا بہ جا اکھڑی جڑیں چاٹتی اک گائے کے سوکھے ہوئے مٹیالے کھروں کی مانند پھٹ گئی ہے جو زمیں اس میں اگی جھاڑیاں بے برگ و ثمر رہتی ہیں موسم ہو کوئی کسی فالج زدہ بیمار کے اکڑے ہوئے پنجے کی طرح ٹہنیاں سوئے فلک دیکھتی فریاد کناں ہیں کب سے محض فریاد سے اے دوست ...
گم ہوئے یوں کہ کبھی میرے شناسا ہی نہ تھے کچھ لکھا ہوتا تمہیں مجھ سے شکایت کیا ہے خبر کب آئے ہو کیسے سناؤ پیارے کیا خبر لائے ہو یاروں کی حکایت کیا ہے اس نے یہ کچھ نہ کہا اور کہا تو اتنا کھیل دل چسپ ہے نظارہ کرو اور پھر ایک خلا ایک گراں بار خموشی کی اذیت لے کر میں یہ کہتا ہوا اٹھ ...
بہار کی یہ دل آویز شام جس کی طرف قدم اٹھائے ہیں میں نے کہ اس سے ہاتھ ملاؤں اور اک شگفتہ شناسائی کی بنا رکھوں پھر اپنی خانہ بدوشی کی مشترک لے پر اسے گلاب بکف خیمۂ جنوں تک لاؤں کچھ اس کی خیر خبر پوچھوں اور کچھ اپنی کہوں کہوں کہ کتنے ہی پت جھڑ کے موسم آئے گئے مگر ان آنکھوں کی ...
مٹی کی دیوار پہ اک کھونٹی سے لٹکی میری یادوں کی زنبیل جس میں چھپے تھے رنگ برنگے کپڑوں کے بوسیدہ کترن گول گول سی ننھی منی کر دھنیوں کے دانے اک امرود کی ڈالی کاٹ کے بابا نے جو بنائی تھی وہ ٹیڑھی میڑھی ایک غلیل نیلے پیلے مٹیالے اور لال پروں کی ڈھیری چوڑے منہ کا اک منہ زور سا کاٹھ کا ...
جب رات کی ناگن ڈستی ہے نس نس میں زہر اترتا ہے جب چاند کی کرنیں تیزی سے اس دل کو چیر کے آتی ہیں جب آنکھ کے اندر ہی آنسو سب جذبوں پر چھا جاتے ہو تب یاد بہت تم آتے ہو جب درد کی جھانجر بجتی ہے جب رقص غموں کا ہوتا ہے خوابوں کی تال پہ سارے دکھ وحشت کے ساز بجاتے ہیں گاتے ہیں خواہش کی لے ...
بے سبب تو نہ تھیں تری یادیں تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا ضبط کا حوصلہ بڑھا لینا آنسوؤں کو کہیں چھپا لینا کانپتی ڈولتی صداؤں کو چپ کی چادر سے ڈھانپ کر رکھنا بے سبب بھی کبھی کبھی ہنسنا جب بھی ہو بات کوئی تلخی کی موضوع گفتگو بدل دینا بے سبب تو نہیں تری یادیں تیری یادوں سے کیا نہیں ...
خواب اور خوشبو دونوں ہی آزادہ روحیں دونوں قید نہیں ہو سکتے میرے خواب تمہاری خوشبو
مجھے ہر کام سے پہلے سحر سے شام سے پہلے یہی اک کام کرنا ہے تمہارا نام لینا ہے تمہی کو یاد کرنا ہے کہ جب بھی درد پینا ہے کہ جب بھی زخم سینا ہے غم دنیا سے گھبرا کر مجھے جب جام لینا ہے تمہارا نام لینا ہے تمہی کو یاد کرنا ہے تمہاری یاد ہے دل میں کہ اک صیاد ہے دل میں کوئی برباد ہے دل ...
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو اور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے ...