دیوار گریہ
عجب جادو بھری آنکھیں تھیں اس کی وہ جب پلکیں اٹھا کر اک نظر تکتی تو آنکھوں کی سیہ جھیلوں میں جیسے مچھلیوں کو آگ لگ جاتی ہزاروں سرخ ڈورے تلملا کر جست بھرتے آب غم کی قید سے باہر نکلنے کے لیے سو سو جتن کرتے مگر مجبور تھے چاروں طرف آنسو کے گنبد تھے نمی کے بلبلے تھے اور اک دیوار گریہ جو ...