شاعری

خواب نہیں دیکھا ہے

میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے رات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کا اوس کی بوندوں میں سورج کے سما جانے کا چاند سی مٹی کے ذروں سے صدا آنے کا شہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کا کھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کا صبح گھر چھوڑنے کا دیر سے گھر آنے کا بہتے جھرنوں کی کھنکتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

دیوانے کی جنت

میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہو اپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئی اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئی اپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئی اپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لئے اپنی خاموشی میں گہنائے ہوئے راز لئے اپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لئے دل کی دھڑکن کو بہت روکتی ...

مزید پڑھیے

وہ جانتے ہی نہیں

میں تم سے چھوٹ رہا ہوں مرے پیارو مگر مرا رشتہ پختہ ہو رہا ہے اس زمیں سے جس کی گود میں سمانے کے لئے میں نے پوری زندگی ریہرسل کی ہے کبھی کچھ کھو کر کبھی کچھ پا کر کبھی ہنس کر کبھی رو کر پہلے دن سے مجھے اپنی منزل کا پتہ تھا اسی لئے میں کبھی زور سے نہیں چلا اور جنہیں زور سے چلتے ...

مزید پڑھیے

شہر سے باہر نکلتے راستے

سوچتا ہوں میں تمہارے زیر لب حرف سخن میں کوئی افسانہ ہے مضمر یا حقیقت یا فریب پختہ کاراں میں نظر رکھتا ہوں تم پر اور تمہاری آنکھ ہے پیہم تعاقب میں کسی اک اجنبی کے اجنبی جو خود ہراساں اور پریشاں حال ہے دوسری جانب سڑک پر دیر سے اک اور شخص جھوٹ کو سچ کہہ کے جو اعلان کرتا پھر رہا ہے دل ...

مزید پڑھیے

نقدی کہاں سے آئے گی

پہلے راتیں اتنی لمبی کب ہوتی تھیں جو بھی حساب اور کھیل ہوا کرتا تھا سب موسم کا تھا روز و شب کی ہر ساعت کا اک جیسا پیمانہ تھا اپنے ملنے والے سارے جھوٹے سچے یاروں سے اک مستحکم یارانہ تھا لیکن اپنے درد کی سمتوں کی پہچان نہ رکھنے والے دل یہ سوچنا تھا ہر خواب کی قیمت ہوتی ہے اور اب ان ...

مزید پڑھیے

سکہ پانی اور ستارہ

موند کر آنکھیں بڑے ہی دھیان سے میں نے پیچھے کی طرف حوض کے پانی میں سکے پھینکتے ہی اک ذرا سی چھیڑ کی اپنے دل خوش فہم سے اے باؤلے اب تو ہو جائے گی پوری خیر سے تیری مراد سہ پہر کی دھوپ میں حوض کے جھرنے میں سکے سات رنگوں میں چمکتے یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے ہم آواز ہو کر سب اڑاتے ہوں ...

مزید پڑھیے

آخری قافلہ

نہ جانے سرگوشیوں میں کتنی کہانیاں ان کہی ہیں اب تک برہنہ دیوار پر ٹنگے پر کشش کلنڈر میں دائرے کا نشان عمر گریز پا کو دوام کے خواب دے گیا ہے جس میں سلگتے سیارے گیسوؤں کے گھنے خنک سائے ڈھونڈتے ہیں گلاب سانسوں سے جیسے شادابیوں کی تخلیق ہو رہی ہے وہ جھک کے پھولوں میں اپنے بھیگے بدن ...

مزید پڑھیے

دنیا تو یہ کہتی ہے

دنیا تو یہ کہتی ہے بہت مجھ میں ہنر ہے میں چاہوں تو دنیا کو چمن زار بنا دوں آ جاتا ہے ان باتوں میں دنیا کے مرا دل جٹ جاتا ہوں میں کام میں جی جان لگا کر پھر بے خبری حد سے گزر جاتی ہے میری بٹتا نہیں چل پڑتا ہوں جب اپنی ڈگر پر یہ دیکھ کے کچھ روز تو چپ رہتی ہے دنیا دے جاتی ہے ناگاہ مگر ...

مزید پڑھیے

کسیلا ذائقہ

بہ یک جنبش مری آنکھوں کو پتھر کر دیا جس نے وہ خنجر کاش سینے میں مرے پیوست ہو جاتا رواں ہے وقت کی سفاک محرابوں کے نیچے نہر خوں بستہ سسکتی چیختی تنہا صداؤں کی میں اب کس کے لیے گھر کے کھنڈر میں خواب گھر کے دیکھتا جاؤں زباں پر ہے کسیلا ذائقہ تانبے کے سکے کا کہاں تک ہر کسی کے سامنے ...

مزید پڑھیے

تنہائی

پتے اپنے سایوں میں کیا ڈھونڈتے ہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے شاخ سے ٹوٹ کے اپنے ہی ان سایوں پر گر جاتے ہیں نیلی چڑیا شام کی نیلی روشنیوں میں بھیگے پر پھیلاتی ہے پر پھیلانے کی لذت سے خواب زدہ ہو جاتی ہے بھولے بسرے سپنے دیکھتی آنکھیں موندتی آنکھیں کھولتی چپکے سے سو جاتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 71 سے 960