شاعری

دیواریں

صدیوں گنگ رہیں دیواریں اور پھر اک شب جانے کیسے دیواروں پر لفظوں کے انگارے چمکے انگاروں نے مل جل کر شعلے بھڑکائے سارے شہر میں آگ لگی کاغذ کے ملبوس جلے کالے ننگے جسموں سے بازار بھرے آوازوں کے جھکڑ آئے بادل چیخا آنگن کے بے داغ بدن پر جلی ہوئی ہڈیوں کے اولے پتھر بن کر برس پڑے اگلے دن ...

مزید پڑھیے

ساری عمر گنوا دی ہم نے

ساری عمر گنوا دی ہم نے پر اتنی سی بات بھی ہم نہ جان سکے کھڑکی کا پٹ کھلتے ہی جو لش لش کرتا ایک چمکتا منظر ہم کو دکھتا ہے کیا وہ منظر کھڑکی کی چوکھٹ سے باہر سبز پہاڑی کے قدموں میں اک شفاف ندی سے چمٹے پتھر پر چپ چاپ کھڑے اک پیکر کا گم صم منظر ہے جس کو کھڑکی کے کھلنے نہ کھلنے سے کچھ غرض ...

مزید پڑھیے

سفر

تھکا ہارا بے جان بادل کا ٹکڑا درختوں چٹانوں سے دامن بچاتا پہاڑی کے کوہان سے نیچے اترا بہت تھک چکا تھا ہزاروں برس کی مسافت ہزاروں برس تک بس اک دھن مسلط بڑھے آگے بڑھ کر پہاڑوں درختوں نکیلی چٹانوں ہوا کی نہتی سسکتی ہوئی کرب میں ڈوبی چیخوں کو مٹھی میں لے کر مسل کر بڑی سادگی سے ہنسے ...

مزید پڑھیے

اک تنہا بے برگ شجر

کون مجھے دکھ دے سکتا ہے دکھ تو میرے اندر کی کشت ویراں کا اک تنا بے برگ شجر ہے رت کی نازک لانبی پوریں کرنیں خوشبو چاپ ہوائیں جسموں پر جب رینگنے پھرنے لگتی ہیں میرے اندر دکھ کا سویا پیڑ بھی جاگ اٹھتا ہے تنگ مساموں کے غرفوں سے لمبی نازک شاخیں پھن پھیلا کر تن کی اندھی شریانوں میں قدم ...

مزید پڑھیے

چنا ہم نے پہاڑی راستہ

چنا ہم نے پہاڑی راستہ اور سمت کا بھاری سلاسل توڑ کر سمتوں کی نیرنگی سے ہم واقف ہوئے ابھری چٹانوں سے لڑھکنے گھاٹیوں سے کروٹیں لینے کی اک بگڑی روش ہم نے بھی اپنائی کھڈوں کی تہ میں بہتے پانیوں سے ہم نے چلنے کا چلن سیکھا درختوں اور پھولوں سے قطاریں توڑنے کی اور ہوا سے منہ اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

بندھن

درخت دن رات کانپتے ہیں پرند کتنے ڈرے ہوئے ہیں فلک پہ تارے زمیں پہ جگنو گھروں کے اندر چھپے خزانے کٹے پھٹے سب بدن پرانے قدیم چکنی طویل ڈوری میں بندھ گئے ہیں کثیف ڈر کی غلیظ مٹھی میں آ گئے ہیں کہاں گئے وہ دلوں کے بندھن گلاب ہونٹوں کی نرم قوسیں زمیں جو راکھی سی بن کے سورج کے ہاتھ پر ...

مزید پڑھیے

جنگل

کیڑے پیڑوں کے جنگل میں پتوں کی کالی دیواریں دیواروں میں لاکھوں روزن روزن آنکھیں ہیں جنگل کی وحشی آنکھیں ہیں جنگل کی تو راہی انجان مسافر جنگل کا آغاز نہ آخر سب رستے ناپید ہیں اس کے سب راہیں مسدود سراسر تو راہی جگنو سا پیکر ہار چکا جنگل سے لڑ کر اب آنسو کا دیا جلائے تو گم کردہ راہ ...

مزید پڑھیے

ترغیب

کبھی تم جو آؤ تو میں صبح کے چھٹپٹے میں تمہیں سب سے اونچی عمارت کی چھت سے دکھاؤں درختوں کے اک سبز کمبل میں لپٹا ہوا شہر سارا کلس اور محراب کے درمیاں اڑنے والے مقدس کبوتر بہت دور چاندی کے اک تار ایسی ندی اس سے آگے جری کوہساروں کا اک سرمئی سلسلہ کبھی تم جو آؤ تو میں ایک تپتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اشومیدھ یگیہ

گوری چٹی یال گھنی سی دودھ ایسی پوشاک بدن کی لانبے نازک ماتھے پر مہندی کا گھاؤ اڑتی گرتی خاک سموں کی مٹھی بھر کر منہ پر مل کر دل کی پیاس بجھاؤ صدیوں کے دکھ جھیلتے جاؤ رہے سفر میں ہرے مہکتے کھیتوں میں خوش باش پھرے اپنے پیچھے آتی قوت کے نشے میں کھویا رستے کے ہر بھاری پتھر کو ٹھوکر ...

مزید پڑھیے

کہانی

عجب دن تھے وہ جھاڑیاں آگ کے جھنڈ کائی زدہ تال جن کے کنارے ہزاروں برس سے کھڑے جنڈ اور ون کے ڈھانچے پھلائی کے پھرواں کے جنگل جو دھرتی پہ بچھ سے گئے تھے اداسی ہوا بن کے پھرتی تھی اور سنت سادھو پرانے درختوں کے نیچے بچھی گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے تھے خود اپنے ہی اندر کے تاریک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 69 سے 960