مجھے کون بلاتا رہتا ہے
''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور زمیں کی مٹی ہے'' مرے ہاتھ میں وقت کی راسیں ہیں جو پل پل پھسلی جاتی ہیں اور ہرے درختوں کی شاخیں مرا رستہ جھانکتی رہتی ہیں اور سبز گھنیرا جنگل ہے مرے پاؤں کے نیچے چاند نہیں اک اور ہی دیس کی مٹی ہے اور دھوپ کا دریا موج میں ہے اور دشت مرے قدموں سے ...