شاعری

مجھے کون بلاتا رہتا ہے

''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور زمیں کی مٹی ہے'' مرے ہاتھ میں وقت کی راسیں ہیں جو پل پل پھسلی جاتی ہیں اور ہرے درختوں کی شاخیں مرا رستہ جھانکتی رہتی ہیں اور سبز گھنیرا جنگل ہے مرے پاؤں کے نیچے چاند نہیں اک اور ہی دیس کی مٹی ہے اور دھوپ کا دریا موج میں ہے اور دشت مرے قدموں سے ...

مزید پڑھیے

تین رنگ ایک رنگ

تم پتنگ بن کے ہواؤں میں تیرتی پھرو اور ڈور مرے ہاتھوں کو کاٹتی رہے پر پر زخمی اور آنکھیں تیرے رنگوں میں الجھی رہیں لہو بہتا رہے اور آس تجھے چاہنے کی آسمان بن کے ترے چاروں طرف بکھر جائے شام اترے تو تیری آنکھوں کا رنگ مجھے اپنی پناہ میں سمیٹ لے اور تیری راہوں پر میرا اک اک لمس بکھیر ...

مزید پڑھیے

ہمالہ کی داسیاں

ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیں اس کے قدموں پہ جا گریں وہ ہمالہ کے پیروں کو چومتی رہیں اور المیہ گیت گاتی رہیں میرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کر ترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں، یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائے لیکن ایک دن ہم سمندر سے ...

مزید پڑھیے

آندھی

گزرے ہیں بیس برس اک دن اک زور کی آندھی آئی تھی جس سے پیڑوں سے جدا ہو کر لاکھوں ہی پتے ٹوٹ گرے شاہراہوں پر پگڈنڈیوں پر کھیتوں میں اور فٹ پاتھوں پر کچھ بہہ گئے گندے نالوں میں بھنگی کی جھاڑو کے صدقے لیکن جو بچ گئے ان کو ہوا ہر وقت اڑائے پھرتی ہے پچھم کو کبھی پورب کو کبھی وہ بکھرے پڑے ...

مزید پڑھیے

جرم

تنگ و تاریک سی کوٹھری میں موٹی موٹی سلاخوں کے پیچھے غلیظ سے فرش پر پڑا ہے وہ ایک قیدی پریشاں بال ہیں اور زرد چہرہ ہو جیسے ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ پڑی ہیں بیڑیاں پاؤں میں اس کے ہے جرم اس کا اپنا فقط اس قدر کہ رہ رہ کے وہ سوچتا ہے یہی وہ زنداں میں کس جرم پر بند ہے سوچے وہ کیوں نہ آخر اس کی ...

مزید پڑھیے

اصلی روپ

میں دیکھ رہا ہوں پتے کے ہاتھوں پر جال لکیروں کا میں دیکھ رہا ہوں پتے کی آنکھوں میں شبنم کے آنسو میں دیکھ رہا ہوں پتے کی رگ رگ میں تڑپتا سبز لہو میں دیکھ رہا ہوں پتے کے چہرے پہ ندامت کے قطرے معلوم نہیں لیکن مجھ کو ان روپوں میں سے کون سا ہے پتے کا اپنا اصلی روپ

مزید پڑھیے

اے ہم سفرو کیوں نہ یہیں شہر بسا لیں

اے ہم سفرو کیوں نہ یہیں شہر بسا لیں اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں وہ لوگ جنہوں نے مرے ہونٹوں کو سیا ہے سوزن سے مری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں اس بزم سے اٹھے گا نہ شعلہ کوئی ہرگز یارو چلو قندیل سے قندیل جلا لیں ہر شہر میں ہیں فصل جنوں آنے کے چرچے شوریدہ سرو آؤ گریبان سلا ...

مزید پڑھیے

مزدور عورتیں

وہ جا رہی ہیں سروں پہ پتھر اٹھائے مزدور عورتیں کچھ یہ کھردرے ہاتھ میلے پاؤں جمی ہیں ہونٹوں پہ پپڑیاں سی اور پسینے میں ہیں شرابور سلگتی دوپہر میں وہ مل کر ایک دیوار چن رہی ہیں حصار سنگیں بنے گا کوئی یہ دیکھ کر حال ان کا مجھ کو خیال رہ رہ کے آ رہا ہے کہاں ہیں وہ مرمریں سی باہیں وہ ...

مزید پڑھیے

تلاش

میرے گاؤں میں میرے گھر کے قریب جھیل ہے ایک خوبصورت سی اس کا شفاف نیلگوں پانی کتنا خاموش اور ساکن ہے بیٹھ کر میں کبھی کنارے پر اس کے پانی میں پھینک کر پتھر اس میں ہلچل مچاتا رہتا ہوں اور اس وقت اس کی وہ ہلچل دل کو کتنا سکون دیتی ہے لیکن افسوس تھوڑی دیر کے بعد ختم ہو جاتا ہے وہ مد و ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ

پت جھڑ آیا پت جھڑ آیا پیڑوں سے پتے ٹوٹیں گے اور بکھریں گے اک اک کر کے شاہراہوں پر پگڈنڈیوں پر ظالم راہی بے حس راہی پتوں کو پاؤں کے نیچے روندیں گے اور پتے پاؤں کے نیچے چیخیں گے چلائیں گے پیہم پستے جائیں گے

مزید پڑھیے
صفحہ 693 سے 960