آئینہ
میں اپنی صورت کو آئینے میں ہوں دیکھ کر آج سخت حیراں وہ خوبصورت ہرن سی آنکھیں کہاں گئیں کیا ہوا ہے ان کو وہاں تو اب دو گڑھے ہیں باقی مہیب سنسان اور ویراں گلاب سے سرخ ہونٹ میرے خجل تھے یاقوت و لعل جن سے جما ہوا ان پہ دیکھتی ہوں بہت سے لوگوں کا خون ناحق یہ میرا پیلا سا زرد چہرہ نہیں ہے ...