شاعری

آئینہ

میں اپنی صورت کو آئینے میں ہوں دیکھ کر آج سخت حیراں وہ خوبصورت ہرن سی آنکھیں کہاں گئیں کیا ہوا ہے ان کو وہاں تو اب دو گڑھے ہیں باقی مہیب سنسان اور ویراں گلاب سے سرخ ہونٹ میرے خجل تھے یاقوت و لعل جن سے جما ہوا ان پہ دیکھتی ہوں بہت سے لوگوں کا خون ناحق یہ میرا پیلا سا زرد چہرہ نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

ہوائیں گیت گاتی ہیں

ہوائیں گیت گاتی ہیں بدلتے موسموں کے انگنت قصے سناتی ہیں شجر سے زرد پتوں کو گرا کر مسکراتی ہیں ہوائیں گیت گاتی ہیں تھکے ہارے مسافر شام ڈھلتے ہی کسی صحرا میں جب اپنا پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو صحرا کی ہوائیں ہر مسافر کا سندیسہ لے کے آتی ہیں انہیں جا کر سناتی ہیں جو اپنے گھر کی چوکھٹ ...

مزید پڑھیے

حاشیے پر لکھی گئی نظم

مجھے رنگوں سے محبت تھی زندگی کے کینوس پر میں نئے نقش و نگار بنانا چاہتا تھا حسن کی حشر سامانیاں پینٹ کرنے کی خواہش میرے لہو میں سرسراتی تھی الھڑ جسموں کے زاویے میرے مو قلم کو اپنی جانب کھینچتے تھے آنکھوں کی گہرائیوں میں بہتے ہوئے خط مجھے بیتاب کرتے تھے محبت کی نظموں کی تخلیق ...

مزید پڑھیے

ہمارے سانس جھوٹے ہیں

مدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیں یوں ہی جیتے چلے جاتے ہیں بس لمحوں کی دھڑکن میں خزاں کا گیت سنتے ہیں بہار زندگانی میں خمار رائیگانی میں ہمارے پاؤں رستے ماپتے ہیں شہر و صحرا کے مگر منزل نہیں ملتی سفر تو جاری رہتا ہے پھر آخر ایک دن جب وقت باگیں کھینچ لیتا ہے تو کھلتا ہے اسی بہتے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ملو تم

مجھ سے ملو تم باتوں کی چائے پر کہانی کے پیچ میں بچپن کی شور کرتی ریل میں ماضی کے نکڑ پر افلاطونی عشق کی موج میں فرصت کے بے برکت دن یار کی جدائی والے پہر میں جوانی کی دھوپ میں غالب کے دیوان کی پر بہار سیڑھیوں پر لفظوں کے بازار میں نظموں کے اسرار میں مجھ سے ملو تم مجھ سے ملو تم اجنبی ...

مزید پڑھیے

التجا

آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو کب تلک بیٹھیں گے یوں ہی پھول مرجھائے ہوئے کب تلک باد صبا زندان شب میں قید ہو کب تلک دہکیں گے شعلے ہجر کے گلزار میں کب تلک عریاں رہیں گے یہ شجر گل سب صف بہ صف کب تلک روئے گی شبنم کب تلک ہاں کب تلک آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو

مزید پڑھیے

جستجو

تمہاری خاموش سلگتی سانسوں میں اپنے وجود کا احساس ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں آج کل وہ سانسیں جن کی ہر اونچ نیچ میں میرے نام کا آہنگ تھا وہ سانسیں جو تمہارے بے چین دھڑکتے دل سے مطمئن میرے نام کا طواف کرتی تھیں جن کی ہر اک آہٹ میں میرا نام گونجتا تھا آج ان سانسوں میں وہ جو میری سانسیں ...

مزید پڑھیے

واجب القتل

ماہ کامل حیرت کی تصویر ہو جیسے حد چاہ نخشب عالمگیر ہو جیسے ہولی کے رنگوں کا دھوکہ چہروں پر تحریر ہو جیسے بھیگی رات میں آب شر انگیز کے مارے مست ستارے اپنی چالیں چوک رہے ہیں دہلیزوں پر پگھلی شمعیں نیلے بادل کے پردے میں اوجھل ہوتے آنکھ کے تارے ڈھونڈ رہی ہیں آئینوں سے نالاں نقش سے ...

مزید پڑھیے

رنگ اپنے

ایک دیوار اور اس پر وہ مرے نقش و نگار میری دیوار پہ دعویٰ سو یہ دعویٰ کیسا ایک دیوار پہ دیوار کے رنگوں پہ کہاں ختم یہ بات ایک پچکاری کی ہیں مار یہ سب نقش و نگار جاؤ جانے دو اسے اور کھرچ لے جائے نقش کیا ہے مرے ہاتھوں کا تحرک ہے بس رنگ کیا ہیں مرے ہاتھوں میں دبی پچکاری شہر کیا ہے مری ...

مزید پڑھیے

خوشی

کیا پہننے کو اس پری کے پاس ایک بھی ڈھنگ کا نہیں ہے لباس جب بھی مجھ سے وہ ملنے آتی ہے سوگوار ماتمی رنگ اوڑھے آتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 694 سے 960