شاعری

قصہ تمام

خاک میں خاک ملی اور ہوا قصہ تمام آگ میں آگ ملے تو بھڑکے آب میں آب ملے تو مچلے خاک میں خاک ملے اور ہو سب قصہ تمام جیسے سائے پہ گرا ہو سایہ جیسے چھا جائے شام گرم پر شور سے دن کا یہ بھیانک انجام وقت بے رحم غضب ناک بلا کا سفاک وقت وہ سیل رواں جس کے آگے جو چلے وہ بھی مرے جس سے پیچھے جو رہے ...

مزید پڑھیے

شب گردوں کے لیے اک نظم

رات ہے بردہ فروش اس کے بہکائے ہوئے ہوش میں کب آئے ہیں اپنے آنچل کے ستارے بھی جو نیلام کرے اس کی بانہوں میں جو بہکا ہے وہ سنبھلا ہی نہیں اس کی باتوں میں جو آیا وہ کبھی سویا نہیں جس کے پیکر کو ہوا نے بھی کبھی مس نہ کیا رات پرکار فسوں زار اور آشفتہ مزاج جس کی آنکھوں کو کسی خواب نے بوسہ ...

مزید پڑھیے

بے بسی گیت بنتی رہتی ہے

خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئے ہو گئے بند گیٹ آنکھوں کے عشق کو داخلہ ملا ہی نہیں خواہشیں لاکروں میں قید رہیں جو بکے اس کے دام اچھے ہوں زندگی ہو کہ کوئی تتلی ہو بے ثباتی کے رنگ کچے ہیں کون بتلائے ان زمینوں کو جنگلوں کے گھنے درختوں میں گر خزاں بیلے ڈانس کرتی ہو مصر کو کون یاد کرتا ہے کم ...

مزید پڑھیے

اور خدا خاموش تھا

ایک بوسے کی طلب میں جسم کبڑے ہو گئے زندگی پانی ہوئی آسماں سے کہکشاؤں کی بہار آگ برساتی رہی زندگی فٹ پاتھ پر ایک روٹی کی طلب میں ہاتھ پھیلاتی رہی قطرہ قطرہ بے بسی تیزاب سی جسم پگھلاتی رہی ردی چنواتی رہی نیٹی جیٹی پر کھڑی خلق خدا ہنستی رہی اور خدا خاموش تھا

مزید پڑھیے

سارباں

سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنے آشیانوں کو پرندے بھی نہیں چھوڑتے جب راستے رستوں کی آغوش ہی میں سوئے تھے اور ہوا سبز پہاڑوں سے نہیں اتری تھی آسماں پر ابھی تاروں کی سجی تھی محفل سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنے رنگ خوابوں میں ابھی گھلتے تھے جسم میں وصل کی لذت کا نشہ باقی ...

مزید پڑھیے

بھگت سنگھ کے نام

کہیں جب سرفروشی کی محبت استقامت کی شہادت کی وطن کی بات چلتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو یہ دھارے رک نہیں سکتے ستارے جھک نہیں سکتے کنارے دیکھتے رہنا نظارے رک نہیں سکتے ہوا بہتی ہی رہتی ہے سمندر سے سمندر تک لہو دریافت کرتا ہے نئی تحریک کا منشور یہ کرنیں درج کرتی ہیں ہر اک دھرتی پہ ہونے کا ...

مزید پڑھیے

سبز رتوں میں قدیم گھروں کی خوشبو

جن گلیوں کا سورج رستہ بھول گیا ہو ان میں کسی بھی آہٹ کا کوئی گیت نہیں گونجا کرتا بوسیدہ دروازے کھڑکیاں بل کھاتے چوبی زینوں پر ناچتی رہتی ہے ویرانی گرد و غبار میں ڈوبے کمرے آپس میں باتیں کرتے ہیں بند دریچے سانپوں جیسی آنکھوں سے دور دراز کو جانے والی سبز رتوں کی یادوں میں روتے ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں....

اس کو مرے خوابوں کا رستہ جانے کس نے دکھایا ہے میں جب آدھی رات کو تھک کر اپنے آپ پہ گرتا ہوں وہ چپکے سے آ جاتی ہے سبز سنہرے خواب لیے نرم گلابی ہاتھوں سے مرے بالوں کو سلجھاتی ہے دھیمے سروں میں فیضؔ کی نظم سناتی ہے میں اس کو دیکھتا رہتا ہوں نیند میں جاگتا رہتا ہوں اور وہ میرے بازو ...

مزید پڑھیے

اے مبارز طلب

عشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئے اے مبارز طلب زندگی الوداع الوداع..... اپنے اوقات آخر ہوئے خواب کی لہر میں درد کے شہر میں گرد..... رخت سفر دل لہو میں ہے تر زندگی کٹ گئی تیغ کی دھار پر سجدہ کرتے جبیں کتنی زخمی ہوئی اور خدا آج تک ہم سے راضی نہیں اور زمیں سخت ہے منزلیں گرد ہیں بادلوں کی ...

مزید پڑھیے

''لا'' بھی ہے ایک گماں

تم نے کیا دیکھا یہاں کچھ بھی نہیں ہم نے کیا پایا یہاں کچھ بھی نہیں ''بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں'' ''لا'' سے آغاز فسانے کا ہوا ''لا'' سے تہذیب زمانے کی ہوئی ''لا'' کی تفسیر نہیں ہے ممکن ''لا'' ہی سے عشق کا آغاز ہوا عشق ہے ایک بلا عشق سفاک و ہوس ناک دریدہ دامن جس کے قدموں سے بپھرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 692 سے 960