قصہ تمام
خاک میں خاک ملی اور ہوا قصہ تمام آگ میں آگ ملے تو بھڑکے آب میں آب ملے تو مچلے خاک میں خاک ملے اور ہو سب قصہ تمام جیسے سائے پہ گرا ہو سایہ جیسے چھا جائے شام گرم پر شور سے دن کا یہ بھیانک انجام وقت بے رحم غضب ناک بلا کا سفاک وقت وہ سیل رواں جس کے آگے جو چلے وہ بھی مرے جس سے پیچھے جو رہے ...