کتبہ
الججہنی، آشفتگی آمادگی رات بھر کالے سوالوں کے نگر میں گھوم پھر کر صبح اپنے آپ میں جو لوٹ آیا ایک بوسیدہ عمارت کا کوئی کتبہ ہے وہ اور اب یونہی اپنے آپ میں سمٹا ہوا رہتا ہے وہ
الججہنی، آشفتگی آمادگی رات بھر کالے سوالوں کے نگر میں گھوم پھر کر صبح اپنے آپ میں جو لوٹ آیا ایک بوسیدہ عمارت کا کوئی کتبہ ہے وہ اور اب یونہی اپنے آپ میں سمٹا ہوا رہتا ہے وہ
میں پہاڑوں سے اتر آیا تو مجھ پر یہ کھلا اب پلٹ جانے کی خواہش ہے فضول! سارے رستے بند ہیں شہر کی آنکھوں میں اک پیغام ہے میرے لئے
میں۔۔۔! برف سے ڈھکی چٹان سے پھسل پھسل گیا (مچل گیا) میں لمحہ لمحہ اک جہنمی طلب میں مبتلا حد نگاہ دن کی کالی کھائی تک پھسل گیا آفتاب اپنی آگ کے حصار میں پگھل گیا دعا کا ہاتھ جل گیا
اے سبک سادہ نشاں، پانی کی لہر اے گل امکاں خبر موج ہوا میں زیاں احساس قطرہ قطرہ رات تو سفر، ساکت سمندر، دائرہ طائر لاہوت کا نغمہ عدم اک صلیب شاخ پہ آنکھیں سزا
رنگ، آواز، دھوپ، سایہ، حرف! عکس، اظہار، بے نوا، بربط آسماں، آندھیاں، اندھیرا، آنکھ سانس روکے کھڑی رہی دیوار
اپنی آنکھیں بند کر لیں اپنے ذہنوں کے دریچے بند کر لیں ہونٹ سی لیں ورنہ ہم سب زرد پیڑوں سے چپک پتوں پتوں کی طرح
جانے کب سے یونہی جسموں کے خرابوں میں آوارہ یہ لوگ چہرہ چہرہ گرد گرد دست و پا درماندگی جانے کب تک لوگ چلتے رہیں گے اپنے کاندھوں پر لئے ان دیکھا بوجھ
سحر کے افق سے دیر تک بارش سنگ ہوتی رہی اور شیشے کے سارے مکاں ڈھیر ہو کے رہے دست و بازو کٹے پاؤں مجروح تھے ذہن میں کرچیاں کھب گئیں اب کے چہرے پہ آنکھیں نہیں زخم تھے کس طرح جاگتے کس لئے جاگتے دیر تک یونہی سوتے رہے لوگ کیا جانے کیا سوچ کر مطمئن ہو گئے لوگ خاموش تھے
الف سے آدمی الف سے آم ہے دھوپ بے رنگ ہے درد بے نام ہے آنکھ کم کوش ہے آنکھ خاموش ہے دھوپ سے درد تک رنگ سے نام تک سبز آغاز سے سرخ انجام تک صید سے دام تک ایک آواز ہے سلسلہ سلسلہ ایک احساس ہے دائرہ دائرہ دائرہ دائرہ سلسلہ سلسلہ ایک تو قید ہے ایک میں قید ہوں ایک تو دام ہے ایک میں دام ...
آئنوں کے بھرے سمندر میں اک انا جاگتا جزیرہ ہے اور جزیرے میں یوں کھڑا ہوں میں پانیوں میں بہ فیض عکس تمام ڈوبتا اور ابھرتا رہتا ہوں ٹوٹتا اور بکھرتا رہتا ہوں آئنوں کے بھرے سمندر میں