لیڈر سے خطاب
اگر نہیں ہے کوئی کام کام پیدا کر کہیں سے ڈھونڈھ کے مینا و جام پیدا کر نہ پھنسنا گردش لیل و نہار میں زنہار تو روز ایک نئی صبح و شام پیدا کر تو ہر طرح کے سبھی کام لے غلاموں سے غلام گر نہیں ملتے غلام پیدا کر دلوں میں تیر کی مانند جو اتر جائے تلاش کر کے کچھ ایسا کلام پیدا کر سنا کے ...