شاعری

لیڈر سے خطاب

اگر نہیں ہے کوئی کام کام پیدا کر کہیں سے ڈھونڈھ کے مینا و جام پیدا کر نہ پھنسنا گردش لیل و نہار میں زنہار تو روز ایک نئی صبح و شام پیدا کر تو ہر طرح کے سبھی کام لے غلاموں سے غلام گر نہیں ملتے غلام پیدا کر دلوں میں تیر کی مانند جو اتر جائے تلاش کر کے کچھ ایسا کلام پیدا کر سنا کے ...

مزید پڑھیے

روٹیاں

کم یاب ہو گئیں جو ذہانت کی روٹیاں کھانے لگے ہیں لوگ جہالت کی روٹیاں محنت سے جن کو عار ہے وہ بھیک مانگ کر دن رات توڑتے ہیں سخاوت کی روٹیاں کھا تو رہے ہو دیکھنا پچھتاؤ گے اک دن ہوتی نہیں ہیں ہضم عداوت کی روٹیاں لیڈر ہمارے باہمی نفرت کی آگ پر جب سینک چکے گندی سیاست کی روٹیاں اب ...

مزید پڑھیے

دی گئی ہے

ہمیں جو زندگی دی گئی ہے برائے مہربانی دی گئی ہے سماعت چھین کر اہل خرد کی ہمیں جادو بیانی دی گئی ہے مجھے لکھنے کو اک اچھا سا عنواں مری اپنی کہانی دی گئی ہے جو راہ حق میں جاں دیتے ہیں ان کو حیات جاودانی دی گئی ہے مگر جو موت سے ڈرتے ہیں ان کو وفات ناگہانی دی گئی ہے ضعیفی میں ...

مزید پڑھیے

خاموشی

اگرچہ یہ جہان رنگ و بو ہے مگر ہر سو فساد میں و تو ہے میں چپ رہ کر بہت کچھ کہہ گیا ہوں یہ خاموشی ہی میری گفتگو ہے طنز و مزاح کا یوں بھی کرشمہ دکھا دیا ہنس کر رلا دیا کبھی رو کر ہنسا دیا خاموش رہ کے میں نے کئی بار ؔخواہ مخواہ لوگوں کو گفتگو کا سلیقہ سکھا دیا جب بھی یاد کسی کی دل میں ...

مزید پڑھیے

دوسرا کپ

میرے لیے تمہارا پیار بالکل ویسا تھا جیسے چائے کے آخری گھونٹ میں دوسرے کپ کی طلب دوسرا کپ جس کی قسمت میں اکثر لکھا ہوتا ہے میز کے کنارے پڑے پڑے ٹھنڈا ہونا خیر یہی فرق ہے انسان اور چائے میں کہ انسان کو پہلی محبت میں ہی دوسرے کپ والی بے رخی مل جاتی کبھی

مزید پڑھیے

ہندوستاں ہمارا

نہ یہ زمیں ہماری نہ آسماں ہمارا دوزخ سے کم نہیں ہے جنت نشاں ہمارا سننا پڑے گا سب کو اب تو بیاں ہمارا ہندوستاں کے ہم ہیں ہندوستاں ہمارا جنتا پہ راج کرتی ہے ڈاکوؤں کی ٹولی وہ بچ گئے جنوں سے کھیلی تھی خوں کی ہولی معصوم شہریوں پہ جس نے چلائی گولی وہ سنتری بنا ہے اب پاسباں ...

مزید پڑھیے

موت

جاگیں کبھی نہ ایسا سلاتی ہے وقت پر شاہ و فقیر سب کو اٹھاتی ہے وقت پر ممکن ہے کسی وقت وہ بے وقت ہنسا دے یہ بات مگر طے ہے رلاتی ہے وقت پر سب اس کو انگلیوں پہ نچاتے رہے مگر تگنی کا ناچ وہ بھی نچاتی ہے وقت پر پل بھر بھی کام ہونے پہ رکتی نہیں کبھی آتی ہے جیسے ویسے ہی جاتی ہے وقت پر عمر ...

مزید پڑھیے

بتا تیری غذا کیا ہے

اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے نہیں گر یہ خدا کی دین تو اس کے سوا کیا ہے جو گھر میں دال روٹی روز ہی کھائے بلا ناغہ وہی جانے گا بریانی متنجن میں مزا کیا ہے مرا یہ مشورہ تو مان لے ہوگا بھلا تیرا کبھی یہ بھول کر مت دیکھ دستر پہ رکھا کیا ہے مقدر میں جو لکھا ہے ترے کھا لے ...

مزید پڑھیے

سیڑھیاں

چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاں جانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاں یادوں کے جھلملاتے ستارے لئے ہوئے ماضی کی کہکشاں سے اترتی ہیں سیڑھیاں لیتی ہیں یوں سفر میں مسافر کا امتحاں ہموار راستوں پہ ابھرتی ہیں سیڑھیاں کرتی ہیں سر غرور کا نیچے اتار کر پستی کا سر بلند بھی کرتی ...

مزید پڑھیے

بیوی اور پتلون

بیگم سے کہا ہم نے جو فرصت ہے آپ کو پتلون میں ہماری بٹن ایک ٹانک دو غصے سے بولیں آپ ہی خود ٹانک لیں جناب بیوی کا جب مذاق اڑاتے رہے ہیں آپ بیوی بغیر آدمی ہوتے نہیں پورے میں نہ رہوں تو آپ بھی رہ جائیں ادھورے یوں تو بٹن کا ٹانکنا چھوٹا سا کام ہے یہ کام بھی تو لائق صد احترام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 651 سے 960