شاعری

طنزیہ غزل

شاعری میں نہ کبھی شکوۂ رسوائی کر اپنے اشعار کی تو خود ہی پذیرائی کر تیرے ویران شب و روز بھی رنگیں ہوں گے بس کسی طرح حسینوں سے شناسائی کر جو مریضان محبت ہیں غموں کے مارے ان کی اشعار ظرافت سے مسیحائی کر پیٹ کی آگ بجھا محنت و مزدوری سے وقت بچ جائے تو مشق سخن آرائی کر بھول کر عشق ...

مزید پڑھیے

آنکھیں

لڑاؤ ہر کسی سے یوں نہ تم بے ساختہ آنکھیں کہیں بدنام نہ ہو جائیں شہرت یافتہ آنکھیں مروت رحم اور شرم و حیا ان میں نہیں ہوتی دکھانے کے لئے ہوتی ہیں جو خود ساختہ آنکھیں کبھی خود بند ہو کر راہ دل مسدود کرتی ہیں کبھی دیتی چلی جاتی ہیں دل تک راستہ آنکھیں کہیں فتنہ گری سے ہیں سکون و ...

مزید پڑھیے

پہلے تھی سو اب بھی ہے

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر ادھر ان کی زباں پر ترش نارنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے بنا ہیرو سے زیرو اور پھر ...

مزید پڑھیے

ایک غریب شاعر کی موت پر

لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا سائے میں جیسے کوئی مسافر ٹھہر گیا مخمور تھا نشے میں غم روزگار کے ہوش آ گیا تو عمر کا پیمانہ بھر گیا دولت بھی اس کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر کچھ نام ہی نہ اپنا زمانے میں کر گیا سب اس کے خیر خواہ بلندی پہ رہ گئے شہرت کی سیڑھیوں سے وہ نیچے اتر ...

مزید پڑھیے

واپسی

ایک دن جب تنگ مجھ پر ہو گئی ارض دکن تب مہاجر بن کے نکلا باندھ کر سر سے کفن کتنے ہی برسوں عذاب اجنبیت بھی سہا ذہن و دل پر جھیلتا ہی رہ گیا رنج و محن مفلسی میں بھی توکل پر گزارہ یوں کیا پیرہن صبر و قناعت کا رہا ہے زیب تن خاک چھانی در بہ در کی ٹھوکریں کھائیں بہت پر مجھے مصروف رکھتی ...

مزید پڑھیے

اجنبی چمن میں

نہ بنا سکا نشیمن کسی اجنبی چمن میں مرا گھر جلا ہے جب سے مرے اپنے ہی وطن میں مرے ذوق خوش لباسی کو فرشتے بھی تو دیکھیں میں مروں تو دفن کرنا ٹیری لین کے کفن میں یہ ہے بے ثبات دنیا اسی دم کے مرغ کی سی جو صبح پکا کچن میں مگر آیا نہ ٹفن میں مزہ گل کے توڑنے کا تو ملا بہت اے گلچیں ملی لذت ...

مزید پڑھیے

دیکھتے جاؤ

کسی کی ڈھل گئی کیسی جوانی دیکھتے جاؤ جو تھیں بیگم وہ ہیں بچوں کی نانی دیکھتے جاؤ ٹنگی ہے جو مرے ہینگر نما کندھوں پہ میلی سی مری شادی کی ہے یہ شیروانی دیکھتے جاؤ دکھا کے دسویں نو مولود کو مجھ سے وہ یہ بولیں محبت کی ہے یہ تازہ نشانی دیکھتے جاؤ کیا بیگم نے نافذ گھر میں دستور ...

مزید پڑھیے

سیاسی مصلحت

ہے یہی دستور دنیا اور یہی دیکھا گیا پھول سے خوشبو نکلتے ہی اسے پھینکا گیا باغ ہندوستان جن جن کے خون سے سینچا گیا دار ناقدری پہ بالآخر انہیں کھینچا گیا زندگی میں مل گئے کتنوں کو سرکاری خطاب مفت میں ان کو خریدا مفت میں بیچا گیا مرنے والوں کو بھی ہر اعزاز پارلیمنٹ میں اہتماماً ...

مزید پڑھیے

سورج

کبھی جب خود سے گھبراتا ہے سورج ٹہل کر جی کو بہلاتا ہے سورج تپش جب حد سے بڑھتی ہے بدن کی سمندر میں اتر جاتا ہے سورج مٹانے بھوک اپنی منہ اندھیرے اندھیروں کو نگل جاتا ہے سورج سویرے بدلیاں جب چھیڑتی ہیں طلوع ہونے سے شرماتا ہے سورج سر غرب بجھا دیتا ہے خود کو صبح ہوتے ہی جل جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

میری محبوب

میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم اپنی ہلکی سی شرافت کا اشارہ دے دے جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے اے مری جاں مرے الجھے ہوئے مقطع کی غزل جسے دیکھا نہیں اس خواب کی الٹی تعبیر تو مہرباں ہو تو کھل جائے مرے دل کا کنول اپنی بے لوث محبت کی دکھا دے تاثیر آ کے دھوبی ہے کھڑا اس کا ادھارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 650 سے 960