شاعری

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی یکساں ہیں مری جان قفس اور نشیمن انسان کی توقیر یہاں ہے نہ ...

مزید پڑھیے

یوم مئی

صدا آ رہی ہے مرے دل سے پیہم کہ ہوگا ہر اک دشمن جاں کا سر خم نہیں ہے نظام ہلاکت میں کچھ دم ضرورت ہے انسان کی امن عالم فضاؤں میں لہرائے گا سرخ پرچم صدا آ رہی ہے مرے دل سے پیہم نہ ذلت کے سائے میں بچے پلیں گے نہ ہاتھ اپنے قسمت کے ہاتھوں ملیں گے مساوات کے دیپ گھر گھر جلیں گے سب اہل وطن سر ...

مزید پڑھیے

پیاسا کوا

گرمی کا جو موسم آیا جلنے لگی پیڑوں کی چھایا سوکھ گئی تھی ڈالی ڈالی اور پتوں سے بھی تھی خالی ننگے پیڑ پہ بیٹھا کوا ہانپ رہا تھا جو پیاسا تھا پانی کو وہ ڈھونڈھتا نکلا گھر کے اک چھجے پر بیٹھا ہر سو کال تھا پانی کا جو گاؤں میں بھی تھا سوکھا پیارو آنگن میں تھی ایک صراحی اس میں تھا تھوڑا ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کا نتیجہ

احمد ببلو بابو سلمیٰ ایک جماعت کے یہ بچے اخلاقی گھنٹے میں دیکھو جمع ہوئے ہیں اک اک کر کے نظم و ضبط جماعت میں تھا اف نہیں کرتا تھا کوئی بچہ یہ جو کہانی کا تھا گھنٹہ سب کو شوق کہانی کا تھا دیکھو کلاس میں استاد آئے اٹھ کے کھڑے ہوئے سارے بچے سب نے کیا سلام اب ان کو بچے تھے سب من کے ...

مزید پڑھیے

عقل مند شکاری

گاؤں میں شیر کا اک شکاری بھی تھا کھاتا تھا دشت کی وہ ہمیشہ ہوا شیر کو اس نے قبضے میں اک دن کیا شام ہوتی گئی بڑھ گیا دھندلکا بکریوں کو بھی وہ پالتا تھا سدا گھاس بھی دشت سے ساتھ وہ لاتا تھا گھاس اور بکری بھی اس کے ہم راہ تھے شیر کے ساتھ دیکھو یہ دونوں چلے راہ میں ان کی پل ایک حائل ...

مزید پڑھیے

سفر اور مسافر

ہے کٹھن بچو یہ جیون کا سفر ہے نہایت پر خطر اک اک ڈگر راہبر کے بھیس میں ہیں راہزن اس سفر کی ہیں فضائیں پر فتن آندھیاں غم کی اٹھیں گی ہر قدم رکھنا اپنے حوصلوں کا تم بھرم غم کو سانچے میں خوشی کے ڈھالنا ہر بلا کو مسکرا کر ٹالنا کارواں کو بھی پرایا مانئے اس سفر میں خود کو تنہا ...

مزید پڑھیے

یاد آ گئے بچے

کس سے پوچھئے جا کر کیوں بگڑ گئے بچے آتشیں کھلونوں سے کھیلنے لگے بچے کچھ نئے تقاضے ہیں اس نئے زمانے کے اب کہاں مچلتے ہیں چاند کے لیے بچے کھو گئے تعصب کے بے کراں اندھیروں میں شہر کی فضاؤں میں میرے گاؤں کے بچے دو گھڑی لڑائی ہے پھر وہی صفائی ہے ہم بڑوں سے اچھے ہیں بے شعور سے بچے اک قدم ...

مزید پڑھیے

دیپ سے دیپ

دیپ سے دیپ جلائیں ساتھی ہر آنگن اجیارا کر لیں ہر ذرہ مہ پارہ کر لیں میرے سینے تیرے سپنے تیرے سکھ دکھ میرے اپنے ہر آشا کو پائیں ساتھی دیپ سے دیپ جلائیں ساتھی ہر آنگن اجیارا کر لیں ہر ذرہ مہ پارہ کر لیں یہ گھر اپنا وہ گھر اپنا ہیرا اپنا کنکر اپنا مل جل ساتھ نبھائیں ساتھی دیپ سے دیپ ...

مزید پڑھیے

جنگل کا مور

میں جنگل کا مور ہوں بھیا میں جنگل کا مور ہوں بھیا پیڑ ہیں میرے راج سنگھاسن سر پر میرے تاج پنکھ پکھیرو طوطا مینا سب پر میرا راج بادل میرے سنگ اڑے ہیں سنگ اڑے پرویا میں جنگل کا مور ہوں بھیا میں جنگل کا مور ہوں بھیا رنگ بکھیرے چاروں جانب میرا اپنا روپ سارا جنگل گھر ہے میرا کیا چھاؤں ...

مزید پڑھیے

بارہ مہینے

جنوری کا مہینہ جو آ کر گیا پھر نئے سال کی ابتدائی کر گیا فروری کر رہا ہے جدا سردیاں ہم اتاریں گے اب اون کی وردیاں مارچ ہے سال کا تیسرا ماہ نو سب کو کرتا ہے تلقین اب خوش رہو ماہ اپریل میں امتحاں آئیں گے رات دن پڑھ کے ہم پاس ہو جائیں گے لو مئی آ گیا بند مکتب ہوئے گرمیوں سے پریشان ہم سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 628 سے 960