شاعری

14-اگست

کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماری کہاں بدلی ہیں تقریریں ہماری وطن تھا ذہن میں زنداں نہیں تھا چمن خوابوں کا یوں ویراں نہیں تھا بہاروں نے دئے وہ داغ ہم کو نظر آتا ہے مقتل باغ ہم کو گھروں کو چھوڑ کر جب ہم چلے تھے ہمارے دل میں کیا کیا ولولے تھے یہ سوچا تھا ہمارا راج ہوگا سر محنت کشاں پر ...

مزید پڑھیے

ضابطہ

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل یہ ضابطہ ہے بنوں دست و بازوئے قاتل یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ دل یہ ضابطہ ہے کہ غم کو نہ غم کہا جائے یہ ضابطہ ہے ستم کو کرم کہا جائے بیاں کروں نہ کبھی اپنے دل کی حالت کو نہ لاؤں لب پہ کبھی شکوہ و شکایت ...

مزید پڑھیے

مولانا

بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانا مگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولانا خدارا شکر کی تلقین اپنے پاس ہی رکھیں یہ لگتی ہے مرے سینے پہ بن کر تیر مولانا نہیں میں بول سکتا جھوٹ اس درجہ ڈھٹائی سے یہی ہے جرم میرا اور یہی تقصیر مولانا حقیقت کیا ہے یہ تو آپ جانیں یا خدا جانے سنا ہے جمی ...

مزید پڑھیے

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا یہ ...

مزید پڑھیے

دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں ...

مزید پڑھیے

نیلو

تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی جرأت جو ہوئی تو کیوں کر سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکی تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموش پھر نہ تا زیست تجھے ہوش میں لایا ...

مزید پڑھیے

بگیا لہولہان

ہریالی کو آنکھیں ترسیں بگیا لہولہان پیار کے گیت سناؤں کس کو شہر ہوئے ویران بگیا لہولہان ڈستی ہیں سورج کی کرنیں چاند جلائے جان پگ پگ موت کے گہرے سائے جیون موت سمان چاروں اور ہوا پھرتی ہے لے کے تیر کمان بگیا لہولہان چھلنی ہیں کلیوں کے سینے خون میں لت پت پات اور نہ جانے کب تک ہوگی ...

مزید پڑھیے

داستان دل دو نیم

اک حسیں گاؤں تھا کنار آب کتنا شاداب تھا دیار آب کیا عجب بے نیاز بستی تھی مفلسی میں بھی ایک مستی تھی کتنے دل دار تھے ہمارے دوست وہ بچارے وہ بے سہارے دوست اپنا اک دائرہ تھا دھرتی تھی زندگی چین سے گزرتی تھی قصہ جب یوسف و زلیخا کا میٹھے میٹھے سروں میں چھڑتا تھا قصر شاہوں کے ہلنے لگتے ...

مزید پڑھیے

جواں آگ

گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گی گیس پھینکو گے تو کچھ اور بھی لہرائے گی یہ جواں آگ جو ہر شہر میں جاگ اٹھی ہے تیرگی دیکھ کے اس آگ کو بھاگ اٹھی ہے کب تلک اس سے بچاؤ گے تم اپنے داماں یہ جواں آگ جلا دے گی تمہارے ایواں یہ جواں خون بہایا ہے جو تم نے اکثر یہ جواں خون نکل آیا ہے بن کے ...

مزید پڑھیے

جمہوریت

دس کروڑ انسانو! زندگی سے بیگانو! صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے خاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو ہاتھ میں علم لے کر تم نہ اٹھ سکو لوگو کب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 627 سے 960