14-اگست
کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماری کہاں بدلی ہیں تقریریں ہماری وطن تھا ذہن میں زنداں نہیں تھا چمن خوابوں کا یوں ویراں نہیں تھا بہاروں نے دئے وہ داغ ہم کو نظر آتا ہے مقتل باغ ہم کو گھروں کو چھوڑ کر جب ہم چلے تھے ہمارے دل میں کیا کیا ولولے تھے یہ سوچا تھا ہمارا راج ہوگا سر محنت کشاں پر ...