شاعری

پیارا دیس

دیس اپنا ہم کو پیارا کیوں نہ ہو دیس اپنا ہم کو پیارا کیوں نہ ہو دل فدا اس پر ہمارا کیوں نہ ہو ''ہند'' سے بڑھ کر نہیں کوئی زمین گو جہاں جنت ہی سارا کیوں نہ ہو کہتے ہیں جس چیز کو آب حیات پھر وہ شے گنگا کی دھارا کیوں نہ ہو جس نے پھیلایا جہاں میں نور علم آنکھ کا دنیا کی تارا کیوں نہ ہو کب ...

مزید پڑھیے

نصیحت

کہنا نہ کسی سے اپنے جی کی ہے بات یہ لاکھ اشرفی کی جو بات کرے کرے سمجھ کر پہچان یہی ہے آدمی کی سن لو جو کرے کوئی نصیحت کڑوی معلوم ہو کہ پھیکی فوراً ہی مانگ لی معافی بھولے سے خطا اگر کبھی کی کھاؤ ترس ان پہ جو ہیں بیکس تکلیف سے خوش نہ ہو کسی کی آئنے کو دل کے صاف رکھو جمنے نہ دو گرد دشمنی ...

مزید پڑھیے

بشارت کے کاسوں میں

ابھی تک اسے ڈھونڈنے کے لئے کوئی نکلا نہیں وہ جسے بھیڑ میں کھو دیا تھا کہیں گنگ الفاظ کی لالٹینوں کو روشن کئے اپنے اپنے دریچوں میں لٹکا دیا اور بجلی کڑکتے دھواں دھار موسم میں بھی اس طرح منتظر ہیں کہ کچھ دیر تک سرمدی سنکھ بجتے ہی چاروں طرف اپنے ہونے کا اظہار کرتا ہوا آپ ہی وہ کہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی دود سے بن جاتا ہے وجود

آدھی رات کو فون بجا اور ابھری اک انجانی مغلوب صدا اپنی چیخ کی دہشت سے ابھی ابھی وہ جاگی ہے معلوم ہوا بیضوی چہرہ بے صورت سر پر مڑے تڑے دو سینگ اور سینے کے وسط میں اک پنج کونی آنکھ آنکھ کی پتلی میں میرا ہی عکس مقید آتش فشاں پہاڑ کی گہرائی سے ابھر کر خونی پنجے بھینچ بھینچ کر کھردرے ...

مزید پڑھیے

پیغام عید

اپنی آنکھوں میں خمستان مے ناب لیے اپنے عارض پہ بہار گل شاداب لیے اپنے ماتھے پہ درخشانیٔ مہتاب لئے نکہت و رنگ لیے نور کا سیلاب لیے عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے زلف بکھری ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی ہے جس طرف دیکھیے رعنائی ہی رعنائی ہے رہ گزر کاہکشاں بن کے نکھر آئی ہے ذرہ ذرہ ہے ...

مزید پڑھیے

نیلا آسمان

میری بچی نے مجھ سے کل پوچھا بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دل آویز ہے یہ انداز اتنا پیارا کیوں کیوں ہیں لب پر یہ اتنے سارے سوال ہے تبسم یہ پھول جیسا کیوں میرے دل میں ادھیڑ بن کیا ہے میں ستاروں سے جا کے ...

مزید پڑھیے

واپسی

میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں دور سے گھر نظر آیا روشن ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب پاس پہنچا تو وہ دیکھا جو نگاہوں میں مری گھوم رہا ہے اب تک روشن کمرے کے اندر! اور دہلیز پہ تم! سن کے شاید مری چاپ تم نکل آئی تھیں بجلی کی ...

مزید پڑھیے

تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہے

تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہے میں بار بار اسی راستے گزرا ہوں ہر ایک ذرہ یہاں کا مری نگاہ میں ہے تمہارے گاؤں کے اس راستے کا ایک اک موڑ کھدا ہوا ہے مرے پاؤں کی لکیروں میں ہر ایک موڑ پہ رکتا ہوا میں گزرا ہوں کبھی سنند کی دکاں پہ جا کے کھایا پان کبھی بھرے ہوئے بازار پر نظر ...

مزید پڑھیے

اعتراف

آج میں آئینے کے مقابل کھڑا ہوں مسرت کی خواہش مرے واسطے موت کا ذائقہ بن چکی ہے سلگتی ہوئی خواہشوں سے ہراساں بدن جستجو سے گریزاں ہے خوش بختوں کے لئے کامیابی کا کوئی بہانہ نہیں جانتا ہوں کہ میرا سفر ایک دہشت زدہ آرزو کا سفر ہے میری رہ گزر کرب کی رہ گزر ہے

مزید پڑھیے

بشارت

گئے زمانوں سے تیرگی میں بھٹکنے والو ستم کی لمبی سیاہ رات اب گزرنے والی ہے اور مشرق سے رتھ میں بیٹھا ہوا وہ پیکر کہ جس کی آمد کے تم ہمیشہ سے منتظر تھے کہ جس کی آمد کے خواب بن بن کے رات آنکھوں میں کاٹتے تھے سنہری کرنوں کا تاج پہنے نکلنے والا ہے طلوع فردا کی آس میں تیرگی کی راہوں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 623 سے 960