شاعری

ماں

بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئے مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میں دور کھڑی دیکھوں اور اہل ستم کھیلیں خوں سے مرے بچوں کے دن رات یہاں ہولی بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئیں مرے ہوتے میں دور کھڑی ...

مزید پڑھیے

بھئے کبیر اداس

اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئے دوجا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئے راج سنگھاسن پر اک بیٹھا اور اک اس کا داس بھئے کبیر اداس اونچے اونچے ایوانوں میں مورکھ حکم چلائیں قدم قدم پر اس نگری میں پنڈت دھکے کھائیں دھرتی پر بھگوان بنے ہیں دھن ہے جن کے پاس بھئے کبیر اداس گیت ...

مزید پڑھیے

نام کیا لوں

ایک عورت جو میرے لیے مدتوں شمع کی طرح آنسو بہاتی رہی میری خاطر زمانے سے منہ موڑ کر میرے ہی پیار کے گیت گاتی رہی میرے غم کو مقدر بنائے ہوئے مسکراتی رہی اس کے غم کی کبھی میں نے پروا نہ کی اس نے ہر حال میں نام میرا لیا چھین کر اس کے ہونٹوں کی میں نے ہنسی تیری دہلیز پر اپنا سر رکھ ...

مزید پڑھیے

ایک یاد

کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و در گاؤں کی پگڈنڈیاں وہ رہ گزر وہ ندی کا سرمئی پانی شجر جا نہیں سکتا بجا ان تک مگر سامنے رہتے ہیں وہ شام و سحر

مزید پڑھیے

لتاؔ

تیرے مدھر گیتوں کے سہارے بیتے ہیں دن رین ہمارے تیری اگر آواز نہ ہوتی بجھ جاتی جیون کی جوتی تیرے سچے سر ہیں ایسے جیسے سورج چاند ستارے تیرے مدھر گیتوں کے سہارے بیتے ہیں دن رین ہمارے کیا کیا تو نے گیت ہیں گائے سر جب لاگے من جھک جائے تجھ کو سن کر جی اٹھتے ہیں ہم جیسے دکھ درد کے ...

مزید پڑھیے

میرا جی

گیت کیا کیا لکھ گیا کیا کیا فسانے کہہ گیا نام یوں ہی تو نہیں اس کا ادب میں رہ گیا ایک تنہائی رہی اس کی انیس زندگی کون جانے کیسے کیسے دکھ وہ تنہا سہہ گیا سوز میراؔ کا ملا جی کو تو میرا جی بنا دل نشیں لکھے سخن اور دھڑکنوں میں رہ گیا درد جتنا بھی اسے بے درد دنیا سے ملا شاعری میں ڈھل گیا ...

مزید پڑھیے

روئے بھگت کبیر

پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیرؔ پہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میرؔ چودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیر روئے بھگت کبیر اک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بدھی وان میٹرو میں جو چائے پلائے بس وہ باپ سمان سب سے اچھا شاعر وہ ہے جس کا یار مدیر روئے بھگت کبیر سڑکوں پر ...

مزید پڑھیے

اے جہاں دیکھ لے!

اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہم اب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علم یہ محلات یہ اونچے اونچے مکاں ان کی بنیاد میں ہے ہمارا لہو کل جو مہمان تھے گھر کے مالک بنے شاہ بھی ہے عدو شیخ بھی ہے عدو کب تلک ہم سہیں غاصبوں کے ستم اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہم اب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علم اتنا ...

مزید پڑھیے

خدا ہمارا ہے

خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے لہو پیو گے کہاں تک ہمارا دھنوانو بڑھاؤ اپنی دکاں سیم و زر کے دیوانو نشاں کہیں نہ رہے گا تمہارا شیطانو ہمیں یقیں ہے کہ انسان اس کو پیارا ہے خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے نئے شعور کی ہے ...

مزید پڑھیے

تیرے ہونے سے

دل کی کونپل ہری تیرے ہونے سے ہے زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے کشت زاروں میں تو کارخانوں میں تو ان زمینوں میں تو آسمانوں میں تو شعر میں نثر میں داستانوں میں تو شہر و صحرا میں تو اور چٹانوں میں تو حسن صورت-گری تیرے ہونے سے ہے زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے تجھ سے ہے آفرینش نمو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 624 سے 960