شاعری

رستگاری

پہلی چیخ تولد ہونے کی چرخے سے الجھی امی کے بالوں کی سپیدی ہونٹوں پر لرزاں حرف شہادت ریت کے جھکڑ میں بکھرتے تتلی کے رنگ قبروں میں گرتے انبوہ کواکب پیچھا کرتے ہیں! اس دن جھیل کے آئینے میں اپنے جسم کو دیکھا تھا اب ہر ملبوس میں عریاں ہونے کی لاچاری ہے میں خود سے ہی بھاگ رہا ہوں مجھ ...

مزید پڑھیے

ادراک

اک کانٹا دل کو ڈستا تھا موت سے پہلے ہی اس نے ہوش میں آ کر بچوں سے کیوں نظریں پھیریں برسوں بعد سپید لبادہ اوڑھے آئی بولی میں نے جیتے جی پل پل رشتوں کے کرب کو جھیلا ہے! موت آزادی کی راحت ہے! موت سے پہلے ہی مرنے کا ادراک ہوا

مزید پڑھیے

انتباہ

اس رات لمس ماہ سے اک بیج میرے خون میں بیدار ہو گیا رگ رگ میں برگ و شاخ تناور شجر بنا ویرانۂ تپاں سے گزرتی ہے جب ہوا نوکیلے نیلے پتوں سے ٹپ ٹپ دمکتے زہر کی بوندیں ٹپکتی ہیں حذر کرو

مزید پڑھیے

اک بچہ چھوٹا سا بچہ

اک بچہ چھوٹا سا بچہ ایک ہاتھ میں اس کے تختی تھی ایک ہاتھ میں اس کے بستہ تھا اور پاؤں کے نیچے دور تلک اسکول کو جاتا رستہ تھا وہ افسر بننا چاہتا تھا وہ سچ مچ پڑھنا چاہتا تھا کچھ خواب تھے اس کی آنکھوں میں جو رفتہ رفتہ ٹوٹ گئے غربت نے اسے مجبور کیا یوں پڑھنے سے وہ دور ہوا پھر پاؤں سے ...

مزید پڑھیے

چلو واپس چلیں

تمہیں خواہش کو چھونے کی تمنا ہے خواہشیں تو اڑتی‌ پھرتی تتلیاں ہیں ڈاک کی ناکارہ ٹکٹیں تو نہیں ہیں جنہیں البم میں رکھ کر تم یہ سمجھو کہ یہ نایاب چیزیں اب تمہاری دسترس میں ہیں تمہیں سپنے پکڑنے کی تمنا ہے نہیں یہ غیر ممکن ہے کہ سپنے ان چھوئے لمحوں کے نازک عکس ہیں آرائشی بیلیں ...

مزید پڑھیے

حبیب جالبؔ

وہ ایک لمحہ جو سچ بولنے سے ڈرتا ہے جو ظلم سہتا ہے جبر اختیار کرتا ہے وہ لمحہ موت کی وادی میں جا اترتا ہے مگر جو بار صداقت اٹھا کے زندہ ہے ستم گروں کے ستم آزما کے زندہ ہے وہ لمحہ اپنے لہو میں نہا کے زندہ ہے وہ ایک لمحہ کہ تاریخ جس سے روشن ہے متاع خاک اسی کے لہو کا خرمن ہے دوام فصل ...

مزید پڑھیے

ایک جھوٹی کہانی

جب دریا میں آگ لگی مچھلی نے اک جست لگائی جا بیٹھی دیوار پر کچھوے کو اڑنا آتا تھا اڑ کے بیٹھا تار پر مینڈک کو آگے جانا تھا وہ تو بھاگا کار پر جب دریا میں آگ لگی تار پہ بلی ناچ رہی تھی کچھوے سے یہ بولی آؤ بادل میں چھپ جائیں کھیلیں آنکھ‌ مچولی مچھلی بیٹھی اونگھ رہی تھی وہ بھی پیچھے ہو ...

مزید پڑھیے

میرے بستے میں کیا ہے

اسکول کا لڑکا ہوں میں ننھا سا بنجارہ ہوں میں جو چیز ہے وہ خاص ہے بستے میں میرے پاس ہے کچھ ٹافیاں کچھ گولیاں کچھ بیر کچھ نمکولیاں کڑوی کسیلی چھالیہ کچھ بچ گئیں کچھ کھا لیا پرکار پنسل اور ربر رنگین کاغذ اور کلر یہ مور کے پر دیکھیے لعل و جواہر دیکھیے ماچس کے لیبل دیکھیے کاغذ کی بلبل ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

تئیس برس سے وہ گھر سے باہر نہیں نکلا سب دروازے بند پڑے ہیں باہر کا خوف اسے سونے نہیں دیتا اندر گہری رات چیخ رہی ہے اور باہر سرخ آندھی ایک پاگل کتا اپنی لمبی سوکھتی جیبھ لٹکائے شہر کی سڑکوں پر تئیس برس سے گھوم رہا ہے اسے ڈھونڈ رہا ہے

مزید پڑھیے

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں یہ سارے لوگ کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں اگر گنجا کوئی ہو سامنے چندیا چمکتی ہو تو کیا یہ دل نہیں کہتا چپت اک آدھ جڑنے کو ہتھیلی جب کھجاتی ہے میں ایسا کر گزرتا ہوں مری بلڈنگ کا چوکیدار سو جاتا ہے دن میں بھی وہ خراٹے بھی لیتا ہے جو اس کی ناک پر اک ٹیپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 622 سے 960