شاعری

وصیت

میرے پاس تین چیزیں ہیں ریت مجھے وراثت میں ملی پتھر میں نے محنت سے کمایا اور یہ تھوڑی سی دھوپ مجھے سڑک پر پڑی ہوئی ملی میں نے ریت سے اپنی عمر بنائی میں نے پتھر اپنے پیٹ پر باندھا میں نے دھوپ سے اپنا سایہ بنایا میں اپنے سائے میں چلتا ہوں میں اپنی دھوپ میں جلتا ہوں میں کسی پیڑ کا ...

مزید پڑھیے

آم

آم جو کھائے وہ للچائے جو نہ کھائے وہ پچھتائے بھینی بھینی خوشبو آئے جو سب کے ہی من کو بھائے لنگڑا چوسا اور دسہری کوئی نہیں ہے ان کا بیری سونے جیسی رنگت ان کی ڈالی ڈالی سنگت ان کی ابا جب بازار کو جاتے ٹوکری بھر آموں کی لاتے سارے پھلوں کا آم ہے راجا کچا پکا سب کا کھا جا خوشبو اس کی ...

مزید پڑھیے

اس سامنے بیٹھی لڑکی سے

اس سامنے بیٹھی لڑکی سے دل چاہتا ہے اک بات کروں وہ بات کہ جس کی کرنوں سے ہر سمت اجالا ہو جائے یہ حبس جو ہر سو پھیلا ہے خوشبو کا حوالہ ہو جائے اس چندن مورت لڑکی کی مہکار ہے سارے کمرے میں خاموش ہے وہ پھر بھی اس کی چہکار ہے سارے کمرے میں دل ہی دل میں دل کی باتیں روزانہ کہتا ہوں اس ...

مزید پڑھیے

تمہارے لئے میری پہلی نثری نظم

تم ان ساری عورتوں سے زیادہ خوب صورت ہو جنہوں نے میرے خیالات پر شعلوں کا ایک ہالہ سا بنائے رکھا اور جن کی محبت کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے میرے قدم تم تک آ پہنچے تمہارا چہرہ بھلے میری نظروں سے گریزاں رہا میری آنکھیں روشن ہیں اس چمکیلے گلیشیئر کی طرح جو دھوپ میں دور سے نظر آ جائے یہی ...

مزید پڑھیے

تمہارے لئے میری آخری نظم

یہ شہر چاہے ہزار صدیوں کی جدتوں کا لباس پہنے یہاں کے باسی بھلے کوئی بھی زبان بولیں وفا کے معنی وفا رہیں گے دلوں کے موسم میں پت جھڑوں کا سوال کیسا خزاں سے مہلت نہ پانے والے ہوا کی باتوں میں آنے والے لرزتے گرتے بکھرتے پتے جنوں کی شاخوں پہ عشق بن کر اگا کریں گے بچھڑتے رستو کسی کے ...

مزید پڑھیے

پہلی محبت

میں کب سے خالی سجدے کر رہا تھا غلط لوگوں پہ جھوٹا مر رہا تھا مگر اب بھول کر ساری خدائی تری صورت مرا مذہب ہوئی ہے مجھے پہلے محبت تو ہوئی تھی مگر پہلی محبت اب ہوئی ہے

مزید پڑھیے

کوئی ٹیگور کی کویتا ہے

کوئی ٹیگور کی کویتا ہے لوگ جب شاعری میں جیتے تھے تو اسی دور کی کویتا ہے دودھیا راستے کے کونے میں اپنے ہونے میں اور نہ ہونے میں جانے کتنے برس سکوں کر کے اپنی آواز میں جنوں بھر کے پھیلتی رات کے کنارے پر بھیڑیا ماہتاب سے الجھے اک حقیقت بڑی سماجت سے اپنی مرضی کے خواب سے الجھے درد کے ...

مزید پڑھیے

کٹاس

کمال کرتے ہیں عشق والے یہ داستاں ہے قرون اولی سے پیشتر کی جب ایک لڑکی سے دیوتا نے بروگ پایا تو آنسوؤں کا محل بنایا یہ عشق تھا سو زمیں کی بنیاد ہل گئی تھی سڑک کے تاروں سے مل گئی تھی یہ عشق تھا سو نہ اس نے لمحوں سے مات کھائی نہ اس کو صدیاں بگاڑ پائیں کٹاس اب بھی وہیں کھڑا ہے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

کسی کی صدا

رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صدا چاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئی گونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریب پھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی آ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئے نیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی آسمانوں میں زمیں کا گیت لہرانے لگا چھا گیا ہے چاند ...

مزید پڑھیے

مجھے تم سے محبت ہے

خدا کہتا ہے بندوں سے مجھے تم سے محبت ہے تمہاری شہ رگ سے بھی میں زیادہ پاس رہتا ہوں تمہیں میں کیسے سمجھاؤں مجھے تم سے محبت ہے میں دوں تم کو مثال ایسی جسے تم سن کے برجستہ کہو آمنا صدقنا سنو ہے کون سی ہستی جو تم کو جاں سے پیاری ہے کہ جس کی زیست کا پل پل تمہیں پہ واری واری ہے دعا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 602 سے 960